.

ہمارے فیصلے امریکا میں

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے بارے میں فیصلے امریکا اور امریکی کانگریس میں ہو رہے ہیں جبکہ یہاں کی پارلیمنٹ بے خبر سورہی ہے۔ ہماری تو حالت یہ ہے کہ کابینہ کے اکثر ممبران کو نہیں معلوم کہ پاکستان اور امریکا کے اسٹریٹیجک اور سیکورٹی معاملات کیا اور اور مستقبل میں مزید تعاون کیا ہو گا۔ ماضی میں جو مشرف نے کیا اُس پر تو بڑا شور اٹھا۔ کئی بار سوال اٹھائے گئے کہ مشرف نے کس طرح امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی جبکہ نہ پارلیمنٹ سے پوچھا گیا نہ اس بارے میں کابینہ اور اس وقت کے وزیر اعظم کو کچھ معلوم تھا۔ 9/11 کے بعد پاکستان نے اپنے فوجی اڈے امریکا کو پیش کر دیے مگر پارلیمنٹ کو پوچھا نہ ہی کابینہ سے کوئی اجازت لی گئی۔

گزشتہ 12-13 سالوں کے دوران تو ہم نے اپنا سب کچھ امریکا میں گروی رکھ دیا مگر یہ سب کیسے ہوا، اس سلسلے میں کون کون سے معاہدے ہوئے یہاں اس کی نہ پارلیمنٹ کو کبھی خبر ہوئی نہ ہی وزیروں و مشیروں کو۔ بہت دفعہ شور مچایا گیا، سیاستدان چیختے رہے، میڈیا سوال پر سوال اٹھاتا رہا مگر نہ کوئی کاغذ ملا نہ کوئی دستخط۔ مشرف فرماتے ہیں کہ انہوں نے تو صرف ایک ڈرون حملے کی اجازت دی۔ ہم اندھیرے میں رہے بلکہ ہمیں اندھیرے میں ہی رکھا گیا مگر امریکا میں ہر متعلقہ فرد اور ادارے کو معلوم تھا کہ وہ پاکستان میں کیا کیا کرنے جا رہے ہیں اور کیا کیا کرنا چاہتے ہیں۔

وہاں کی حکومت اور فوج کانگریس کو اعتماد لیتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں یا پاکستان سے وہ کیا کچھ کروانا چاہتے ہیں۔ گویا فیصلے پاکستان کے بارے میں امریکا میں کیے جاتے ہیں جس میں امریکی فوج، حکومت اور وہاں کے منتخب نمائندوں سمیت سب کو اعتماد میں لیا جاتا ہے مگر ہمارا المیہ دیکھیں کہ جن کے بارے میں فیصلہ ہو رہا ہے انہیں معلوم ہی نہیں۔ امریکا یہاں سول اور فوج میں ایک دو لوگوں کو اعتماد میں لیتا ہے اور اپنے فیصلے ہم پر مسلط کرتا ہے مگر ان فیصلوں کے بارے میں نہ ہماری پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوتی ہے اور نہ ہی ان معاملات کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ابھی چند روز قبل اخبارات سے معلوم ہوا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی حدود و قیود مقرر کرتے ہوے نئی شرائظ طے کی ہیں جن کو پورا ہونے پر ہی پاکستان کو فوجی امداد ملے گی۔ ان شرائط کے مطابق نہ صرف پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنی ہے ان کے شمالی وزیرستان میں ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے بلکہ امریکی کانگریس کودرج ذیل معاملات میں مطمئن کرنا ہو گا تا کہ امداد جاری ہو سکے:

(الف) امریکا اور پاکستان کی جانب سے تعاون جاری رکھنے کے لیے متفقہ اسٹریٹجک سیکورٹی مقاصد کی تفصیل۔

(ب) ایسے پروگرامز اور سرگرمیوں کی تفصیلات جو امریکا اور پاکستان نے مل کر سر انجام دی ہیں تا کہ سیکورٹی مقاصد مل کر حاصل کیے جا سکیں۔

(ج) القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر جنگجو گروپس بشمول حقانی نیٹ ورک اور پاکستان میں موجود کوئٹہ شوریٰ کی کارروائیاں روکنے اور ان کے محفوظ ٹھکانے تباہ کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے یکطرفہ یا پھر امریکا کے ساتھ باہمی بنیادوں پر کی جانے والی کوششوں اور ان کے پر اثر ہونے کی تفصیلات اور ان کا جائزہ۔

(د) دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے اور یہ مواد حاصل، بنانے اور لانے لے جانے والے اور اس طرح کی سرگرمیوں میں بطور خبر رساں کام کرنے والے اور آلات کی نقل و حرکت میں ملوث گروپس کے خلاف پاکستان کی جانب سے یکطرفہ یا پھر امریکا کے ساتھ کی جانے والی باہمی کوششوں کی تفصیلات اور ان کا جائزہ۔

(ہ) مذکورہ بالا سیکورٹی مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کو امریکا کی جانب سے دی جانے والی سیکورٹی معاونت کے پر اثر ہونے کا جائزہ.

(و) ایسے اعدادو شمار اور طریقہ کار کا جائزہ جن کی مدد سے مذکورہ بالا پروگرام اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ بحیثیت پاکستانی ہمارے لیے انتہائی شرم اور افسوس کا یہ مقام ہے کہ پاکستان کے اندرونی اور سیکورٹی معاملات کے فیصلے امریکا میں ہو رہے ہیں اور ان فیصلوں اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کے متعلق جائزوں کے سلسلے میں وہاں کی کانگریس کو تو اعتماد میں لیا جا رہا ہے مگر ہماری پارلیمنٹ، ہماری کابینہ، ہمارے میڈیاکسی کو اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں، کوئی خبر نہیں۔

حد تو یہ ہے کہ میڈیا میں اس خبرکے شائع ہونے کے باوجود کوئی سیاسی جماعت بولی اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر نے اس پر کوئی آواز اٹھائی۔حرف آخر: دی نیوز کا اسلام آباد میں دفتر فضل حق روڈ پر جنگ جیو بلڈنگ میں واقع ہے۔ یہ بلڈنگ اسلام آباد کے ریڈ زون میں تحریک انصاف کے دھرنے کی جگہ سے کوئی تین چار سو میٹر فاصلہ پر ہو گی۔جب سے عمران خان صاحب کا دھرنا چل رہا ہے اُس علاقہ کے آس پاس کی تمام مساجد میں نماز (خصوصاً مغرب اور عشاء) کی ادائیگی میں بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ گانے، ترانے اور میوزک کا اتنا شور ہوتا ہے کہ ارد گرد کی مساجد میں نمازیوں کے لیے عبادت دشوار ہو جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے روز نماز عشاء کے دوران عطااللہ عیسیٰ خیلوی کا گانا اس زور سے بجتا رہا ہے کہ کہ فرض نماز کا ادا کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ میری خان صاحب ، تحریک انصاف اور ڈی جے بٹ سے گزارش ہے کہ خدارا اذان اور نماز کے اوقات پر ہی کم از کم یہ گانا بجانا بند کردیا کریں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.