آئی این اے جیسی فورس کی ضرورت

کلدیپ نائر
کلدیپ نائر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

نیشن آرمی ایسی فورس تھی جو نیتا جی سبھاش چندربوس نے برطانوی اقتدار سے بچ کر سنگا پور میں رہنے کے دوران بنائی تھی۔ اس فورس کا مقصد قومی جدوجہد میں شریک ہونے والے افراد کا ایک مسلح جتھا تیار کرنا تھا اور اس نے تمام فرقوں کے افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

برطانوی سامراج کو دیس سے نکالنے کے لیے نیتا جی مہاتما گاندھی کی تحریک عدم تشدد کے نظریے سے مختلف طریقہ کار کے قائل تھے۔ نیتا جی کا خیال تھا کہ عدم تشدد ذاتی نظریہ رو ہو سکتا ہے لیکن وہ اصول نہیں بن سکتا۔ قومی تحریک کو تشدد سے عاری ہونا چاہیے لیکن ضرورت پڑنے پر عوام ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔ نیتا جی نے اتر پردیش کے چورا چوری میں ستیہ گرہ کو فورا ختم کرنے کا حوالہ دیا ہے، جہاں عوام کے ہجوم نے ان پولیس کارکنان کو ہلاک کر دیا تھا جنہوں نے ان پر آخری کارتوس ختم ہونے تک ان پر گولیاں برسائی تھیں۔

سبھاش چندر پوس کا خاتمہ ہندوستان سے باہر پراسرار حالات میں ہوا اور وہ محکوم ہندوستان میں واپس نہیں آئے تھے۔ ان سے متعلق دستاویزات شاید نہ صرف مہاتما گاندھی سے ان کے اختلافات بلکہ عدم تشدد کے نظریے کے خلاف تشدد کے مسلک پر سے بھی پردہ اٹھائیں۔

چند دن پہلے جب ایک صاحب نے حق معلومات قانون کے تحت مطالبہ کیا تو حکومت ہند کے پاس نیتا جی کے کاغذات کو منظر عام پر لانے کا عمدہ موقع تھا۔ بی جے پی کے ان دستاویزات کو منظر عام پر لانے سے متعلق انتخابات کے موقع پر کیے گئے وعدے سے پھر جانے سے ہندوستانی عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔

اس معاملے کی ضمانت دینے والے راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں متعلقہ معلومات کے انکشاف سے انکار کر کے یکسر مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے۔ وزیر داخلہ کی وعدہ خلافی تو افسوسناکہے ہی نیتا جی اور گاندھی کے درمیان اختلافات سے متعلق معتبر معلومات جاری کرنے سے انکار زیادہ قابل افسوس ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نظریاتی اختلاف سے کچھ زیادہ کا معاملہ ہے۔

عوام کو تو صرف اتنا معلوم ہے کہ مہاتما گاندھی نے پارٹی الیکشن میں کانگریس کی صدارت کے منصب کے لیے ممتاز کانگریسی رہنما جے بی کرپلانی کی مدد سے نیتا جی کی مخالفت کی تھی۔ درحقیقت یہ دونظریات کے درمیان متصادم تھا۔ ایک عدم تشدد کا حامی تھا اور دوسرا وقت ضرورت ہتھیار کا سہارا لینے کی وکالت کرتا تھا۔

مہاتما گاندھی جب اس اکھاڑے میں کود پڑے تو یہ مقابلہ عدم تشدد اور تشدد تک محدود نہ رہ کر انکے اختیار و تسلط کو للکارنا تھا۔ نیتا جی نے قومی تحریک میں پھوٹ پڑتے دیکھنا نہیں چاہا اور وہ اس سے الگ ہو گئے۔ لیکن انکے ارادت مندوں کے حلقے پر اسکا کوئی اثر نہ پڑا۔ انکی مقبولیت اور احترام میں اور اضافہ ہوگیا۔ تاہم گاندھی کی یہ بات درست ثابت ہوئی کہ تشدد برطانوی اقتدار کی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ کہ عدم تشدد جسکی تائید کروڑوں پرجوش افراد کر رہے تھے، مؤثر ترین ہتھیار ہے۔

درحقیقت مہاتما گاندھی کا نظریہ ایک اخلاقی اور نازک پہلو تھا۔ آپ محبت سے جابر ترین شخص پر بھی فتح پا سکتے ہیں نہ کہ بندوق سے جو وہ بے شمار تعداد میں مجمع کر سکتا ہے لیکن آپکا اخلاق ایسا ہو کہ آپ پر ضرب پڑنے پر بھی آپ جوابی ضرب نہ لگائیں۔
عیسیٰ مسیح نے یہ فلسفہ دیا تھا کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال پیش کر دیجئے۔ انکے اس مسلک کی تبلیغ مہاتما گاندھی نے کی تھی ۔ وہ روزانہ شام کی دعائیہ مجلسوں میں کرتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ انکی دعایہ میٹنگوں میں گیتا، بائبل اور قرآن تینوں پڑھے جاتے تھے۔ ایک دن پاکستان سے آئے ایک پنجابی پناہ گزین نے کہا کہ وہ قرآن سننا نہیں چاہیں گے کیونکہ یہ ان مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے، جنھوں نے انہیں اور ان جیسے سیکڑوں افراد کو پاکستان سے نکلوا دیا۔

مہاتما نے اس اعلان کے ساتھ میٹنگ برخاست کر دی کہ صرف ایک معترض بھی پوری فکر کے خلاف رائے دے سکتا ہے کیونکہ وہ اتفاق رائے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ مجمع میں موجود کئی افراد نے ان صاحب سے اپنا اعتراض واپس لینے کے لیے کہا لیکن وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور میٹنگ جاری نہ رہ سکی۔ چند روز بعد وہ صاحب مہاتما گاندھی کے پاس آئے اور پورے مجمع پر اپنی رائے مسلط کرنے کے لیے اظہار افسوس کیا۔ میٹنگ دوبارہ منعقد ہوئی اور ان صاحب نے وہاں موجود افراد کو بتایا کہ انہیں اپنے نقطہِ نظر کو تمام شرکا میٹنگ پر مسلط کرنے کی کوشش کی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ اسکے بعد دعائیہ میٹنگوں میں کبھی خلل نہیں پڑا۔ اس میں شک نہیں کہ نیتا جی مقبول تھے اور انکے گرد لوگوں کا ایک حلقہ تھا، جسے فارورڈ بلاک کہا جاتا تھا اور جو ہر مشکل میں انکا ساتھ دیتا تھا۔ لیکن مہاتما کی کشش کے آگے انکی آواز ڈوب گئی اور چند ہی افراد تک انکی مقبولیت محددود رہی اور محدود اثر رکھنے والوں کی کوئی حیثیت مہاتما کی مرضی کے آگے نہیں بڑھی۔

موجودہ ہندوستان کو آئی این اے جیسے ہی فورس کی ضرورت ہے کیونکہ کانگریس پر جسے متبادل کی حیثیت حاصل ہے زوال آ رہا ہے۔ آئی این اے کا اتحاد کا پیغام جو ہندو، مسلم سکھ اور عیسائی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی تاکید کرتا ہے، حد درجہ مطلوب ترقی پر ملک کے عوام کی توجہ مبذول کرانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ ی سچ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ترقی کی بات کرتے ہیں لیکن جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد غریبوں کے بجائے امیروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔

نریندر مودی کے چھ ماہ کے اقتدار کے دوران نہ تو غریبوں کی تعداد میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی انکی حالت میں کوئی بہتری دیکھی گئی ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی جس نے نریندر مودی کو لا بٹھا دیا ہے ، اسکے پاس غریبوں کی زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے کوئی معاشی منصوبہ ہی نہیں ہے۔ موازنہ کا کوئی محل نہیں ہے لیکن چین نے 20 ملین افراد کو غریبی سے نکالا جس میں پھنسا ہوا تھا اور کامیاب بھی ہوا ہے۔ حالانکہ چین میں مطلق العنانی کا نظام نافذ ہے لیکن جمہوری ہندوستان میں کچھ تو ترقی نظر آنی چاہیے تھی۔ غریبوں کی حالت سدھارنے سے متعلق سیاسی رہنماؤں کی تقریروں کے علاوہ عملی سطح پر کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ہر انتخاب میں ترقی کا خواب دکھا کر عوام کو بہلایا جاتا ہے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہیں ہوئی کیونکہ سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کو پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور انکے پاس عوام کے لیے کوئی دوسرا منصوبہ نہیں ہے۔
قومی جدوجہد کے دنوں کو یاد کرنا بہتر ہوگا، جب روٹی ، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا گیا تھا۔

لیکن ہمیں آج اور کل کے بارے میں بھی سوچنا ہے ۔ سیاسی پارٹیوں میں عوام کا اعتماد کم ہی رہ گیا ہے لیکن کیا عوام کے سامنے کوئی متبادل ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریہ سحارا‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں