لبنان: عورتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

لبنان میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ داعش کے بنائے گئے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی سابقہ اہلیہ اور بیٹی کی گرفتاری کو ایک ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ جس کے بعد دنیا کے مشہور ترین دہشت گرد کو بالآخر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ لیکن بجائے اس کے دہشت گرد اغواء کیے گئے لبنانی سپاہیوں اور پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیتے دہشت گردوں نے معاملے کو ایک بدترین رخ دیتے ہوئے لبنانی اہلکاروں کو قتل کر دیا ہے۔ اس نئی اور پہلے سے بھی بری صورت حال کے سامنے آنے پر قطر نے اپنے آپ کو اس وعدے سے دستبردار کر لیا ہے کہ وہ ثالثی کرائے گا۔ بعض لوگوں نے النصرہ فرنٹ اور داعش کے اقدامات کے بدلے میں بچوں اور عورتوں کو اغواء کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

لیکن یہ بہرحال ایک حقیقت ہے کہ لبنانی حکام کا ایک خفیہ آپریشن سیاسی رقابتوں کی وجہ سے بری طرح تباہی سے دوچار ہو گیا ہے۔ لبنانی سکیورٹی حکام کی طرف سے گرفتار کردہ خاتون کی اس وجہ سے کوئی وقعت نہیں ہے کہ وہ البغدادی کی سابقہ اہلیہ ہے نہ کہ موجودہ بیوی۔ گرفتار کی گئی خاتون کو البغدادی سے کئی سال پہلے طلاق ہو چکی ہے اور البغدادی نے اپنی نئی عسکری تنظیم کی قیادت اسے طلاق دینے کے بعد سنبھالی ہے۔ اس لیے ایک طلاق شدہ بیوی کی گرفتاری البغدادی کے لیے دباو کا باعث نہیں بن سکتی تھی۔

لبنانی وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے اس پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں غیر جانبدارانہ پیرایہ اختیار کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے ''ایک خاتون کی گرفتاری نے دہشت گردوں کو مشتعل کیا، جس سے ہمارے اغواء شدہ اہلکاروں کے لیے خطرہ بڑھ گیا۔'' ایک سچ جس کا بتایا جانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ البغدادی کی سابقہ بیوی کے ساتھ اس کی بیٹی اور داعش کے کمانڈر ابو علی الشیشانی کی اہلیہ کی گرفتاری نے داعش کی نگرانی کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔

یہ درحقیقت ایک سیاسی حماقت کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان سے صرف وہ معلومات مل سکتی ہیں جو ماضی سے متعلق ہیں کیونکہ ان خواتین کو داعش کے ذمہ داروں کی تاریخ کا ہی علم ہو سکتا ہے۔ وہ صرف گذرے دنوں کی گواہ ہیں۔ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ دہشت گرد انسانی قربانیوں اور خواتین کی عظمت کی زیادہ پروا کرنے والے نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک کوئی بھی چیز اپنے جنگی مقصد سے افضل نہیں ہو سکتی۔

دوسری جانب دہشت گرد اور ان کے خاندان ہمیشہ ہی زیر نگرانی رہتے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ انہیں بلیک میل کیا جا سکے یا ایسی باتوں کا سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہی معاملہ اسامہ بن لادن کے اہل خاندان کے ساتھ ہوا تھا۔ اسامہ کے اہل خانہ بعد ازاں کسی مشکل کے بغیر ایران، پاکستان اور شام سے واپس آ گئے تھے۔ لہٰذا البغدادی اپنے افراد خانہ کی رہائی کے بدلے میں کسی کو نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ اس موقع کو اپنی تنظیم اور مقصد کے ساتھ اپنی گہری وفاداری کی مثال کے طور پر استعمال کرے گا کہ وہ اپنے مقصد کے لیے ہر چیز کو قربان کر سکتا ہے۔

ہم لبنان کے اغواء کیے گئے لبنانی سکیورٹی اہلکاروں پر گذرنے والی دردناک صورت حال اور ان کی وجہ سے پھیلی پریشانی کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں ان کے اہل خانہ کی بے چارگی کا بھی اندازہ ہے جو لبنان میں سیاسی اور ابلاغی حوالے سے جاری لڑائی کو بھگت رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں اس کا بھی احساس ہے کہ ایک ملک میں چند لوگوں کی قسمت میں لکھی گئی پریشانی کو تو دیکھا جارہا ہے،حالیہ عشروں کے دوران تقریبا اڑھائی لاکھ افراد کی ہلاکت اور ان کے ساتھ پیش آنے والے المیے کو نہیں دیکھا جا رہا۔ اس عظیم المیے کی تفصیلات کا حصول کافی مشکل ہے۔

میرے خیال میں حزب اللہ کو شام کی جنگ میں اپنے ملوث ہونے کا ازسر نو سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ اس حوالے سے مسئلے کے حجم کو ضرور دیکھا جانا چاہیے اور اس کے ممکنہ دورانیے کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ اسے کہاں تک طول دینا چاہیے اور کہاں تک نہیں کیونکہ شام کے لوگوں کے بعد یہ اہل لبنان ہی ہیں جو بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ترکی، ایران اور اردن کے لوگ اس تصادم سے براہ راست متاثر نہیں ہیں۔ ترکی اور ایران کے لوگ اس کا براہ راست حصہ بھی نہیں ہیں۔ عراق تو اپنے ہاں خود جنگ کا شکار ہے۔ البتہ اس جنگ نے ان دنوں عراق اور شام کے درمیان کی حد فاصل کو کمزور کر دیا ہے۔

لبنان کے لوگوں کے مصیبت زدہ ہونے کی وجہ حزب اللہ کی شامی خانہ جنگی میں شمولیت ہے۔ بدقسمتی سے یہ حزب اللہ کے شامی جنگ میں شامل ہونے کے مضمرات ہیں جو اہل لبنان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اس لیے لبنان کے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ان کا النصرہ فرنٹ اور داعش کے ساتھ کوئی براہ راست تنازعہ نہیں بلکہ ان کی پریشانیوں کی وجہ حزب اللہ کا اسد رجیم کا اتحادی ہونا ہے۔ ان حالات میں اس جنگ کا شام سے لبنان میں منتقل ہونا زیادہ اچنبھے کی بات نہیں ہو سکتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size