.

کیا اسرائیل اب محمود عباس کو نشانہ بنائے گا؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حق میں پیش کردہ قرار داد کو امریکا نے اس آسانی سے مسترد کر دیا کہ امریکا کو اس مقصد کے لیے ویٹو کا اختیار بھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔ قرار داد کے مسودے کو سادہ اکثریت بھی نہ مل سکی اور صرف آٹھ ووٹ قرار داد کے حق میں آئے۔ حد یہ رہی کہ نائیجیریا بھی عملا فلسطینی ریاست کے منصوبے کے خلاف کھڑا ہوا۔ جن آٹھ ممالک نے فلسطین سے متعلق اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ان میں روس، چین، اردن، چاڈ، ارجنٹینا، فرانس لکسمبرگ اور چلی شامل ہیں۔

امریکا اور آسٹریلیا اس قرار داد کے خلاف ووٹ ڈالنے والے ممالک میں شامل تھے۔ جبکہ برطانیہ، لتھوانیا، روانڈا ، جنوبی کوریا اور نائیجیریا شامل رہے۔ اس صورت حال نے عرب دنیا کو اقوام متحدہ میں مایوس سے دوچار کیا ہے۔ سلامتی کونسل میں اس قرار داد کی شکست کے بعد ہمیں چاہیے کہ ہم ابھی سے اس امر پر غور کریں کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے خلاف آئندہ کیا اقدامات کر سکتا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے خلاف اندرونی محاصرے کو مزید سخت کر دے۔ کیونکہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی بین الاقوامی سطح پر کوششوں کو روکنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

بلا شبہ ہم توقع نہیں کرتے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گی یا اس کی منظوری دے گی۔ اگر یہ ہونا ہوتا تو یہ آج سے ستر سال قبل ایک انتہائی اہم واقعے کے طور پر ممکن ہو جاتا اور علاقے کی تاریخ کے حوالے سے ایک نیا آغاز ثابت ہوتا۔ فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ یقینا ضروری ہے لیکن اس کے لیے ہماری استعداد اور سیاسی اثرو رسوخ کو بڑھانا لازم ہے۔ اس ناطے علاقائی طاقتوں میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے اور طویل و ہمہ پہلو سفارتی کوششوں کی اہمیت ہو گی۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی ٹیم کو لازما اس منفی نتیجے کی توقع ہونی چاہیے تھی، حتی کہ سلامتی کونسل میں قراداد کے مسودے کے پیش کیے جانے کے مرحلے پر ہی مسترد ہو جانے کی بھی توقع ہونی چاہیے تھی۔ محمود عباس نے یہ کاوش اسرائیل اور امریکا کو سیاسی حوالے سے سبکی سے دوچار کرنے کے لیے کی تھی۔ ہو سکتا ہے اس کا ایک مقصد یہ ہو کہ اس راستے سے دوسرے ایشوز جن میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور مغربی کنارے میں پر تشدد اسرائیلی کارروائیوں وغیرہ کو رکوانا اور امن مذاکرات پر اسرائیل کو مائل کرنا ہو سکتا ہے۔ سلامتی کونسل میں ناکامی متوقع تھی لیکن جو چیز حیران کنبات ہوئی ہے وہ عرب ملکوں کا نو ووٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکنا ہے۔ کہ نو ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں یہ ممالک دنیا کو باور کرا سکتے تھے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی راہ میں صرف امریکی ویٹو ہی حائل ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کا اگلا اقدام کیا ہو سکتا ہے؟

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جانے اور انٹر نیشنل کریمنل کورٹ میں شامل ہونے کے حوالے سے دھمکانے سے روک دیا ہے۔ بلاشبہ انٹر نیشنل کریمنل کورٹ فلسطینی اتھارٹی کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔ اسرائیل نے ابو ماذن کو خبر دار کیا ہے کہ اس طرح کی کوششیں سلامتی اور اوسلو کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ یہ خالی خولی الزام ہے کہ محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے میں سکیورٹی کے ؟حوالے سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ لیکن یہ صرف انتہا پسند یہودی نہیں ہیں جن کی وجہ سے مغربی کنارے کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہیں بلکہ حماس تحریک کے ایسے سیل بھی گرفتار کیے گئے ہیں ۔ یہ ایسی ہی منصوبہ بندی کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما متعدد مرتبہ اسرائیلی حکومت سے بے توقیری برداشت کر چکے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ان کا موقف کمزور رہا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے کھلی خلاف ورزیوں کو روکنے میں کردار ادا کر سکیں۔ لہذا کوئی بھی اوباما سے یہ توقع نہیں کرتا کہ وہ کسی خاطر خواہ کوشش یا کامیابی ممکن بنا سکیں گے۔ تا کہ وہ اپنی باقیماندہ صدارتی مدت کے دوران کوئی تبدیلی لا سکیں ۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اسرائیل اوباما کی کمزور پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھا تے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کو زک پہنچا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل دیگر خلاف ورزیوں کا سہارا لینے کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی تعداد میں اضافہ کرسکتا ہے۔ نیز مسجد اقصی پر انتہا پسند یہودیوں کو حملوں کی اجازت دے سکتا ہے۔ جس سے محمود عباس کی صدارتی مدت کمزوریوں کا شکار ہو سکتی ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.