.

جوڑ توڑ۔۔۔؟

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم پھنس چکے ہیں۔ بری طرح پھنس چکے ہیں۔ اس جال کے اندر جسے واران ٹیرر کہا جاتا ہے۔سچ کہیں ،گیارہ سال قبل جب یہ نحوست اس ملک میں داخل نہ ہوتی تھی کیا یہ ملک اتنا کٹا بھٹا بے بس اور بے حال تھا؟ کیا اس وقت کوئی مسجدوں اور کلیساؤں پر بم دھماکوں کے متعلق سوچ بھی سکتا تھا؟ کیا مقدس و محترم امام بارگاہوں اور تعزیے کے جلوسوں میں عزداری کرنے والوں کو جسم سے بم باندھ کر اڑا دینے کا کوئی تصور بھی کرسکتا تھا؟ کیا کوئی جی ایچ کیو، نیوی بیس، واہ آرڈننس فیکٹری اور اس نوع کے دیگر اداروں پر دہشت گردی کا خیال بھی دل میں لا سکتا تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کے کراچی جلسے میں بم دھماکہ ، محترمہ کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت، فوجی جنرلزاور دیگر افسران پر دہشت گرد حملے، سوات میں مذہبی انتہا پسندوں یعنی طالبان کا اسلام آباد کے خلاف اعلان جنگ سمیت، ہزاروں حادثات، ہزاروں تباہیاں، لاکھوں بے چینیاں ہیں، کون گنوا سکتا ہے بھلا اس مختصر کالم کے اندر۔۔ کہ اس کے لیے تو کئی جلدوں پر مشتمل کتب درکار ہیں۔

مجھے یاد ہے جب میریٹ کے دروازے پر، خودکش بمبار کو آنے داخل ہونے سے روکنے پر،وہاں متعین گارڈ نے جان پر کھیل کر ہوٹل اور اس میں موجود لوگوں کو بچا لیا تھا۔۔۔ تو میں نے اس پر کالم ’’مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے‘‘ لکھا تھا، جسے ادارہ ہلال احمر نے سال کے بہترین کالم کا ایوارڈ دیا تھا۔وہ بندوبستی علاقوں میں پہلی بڑی دہشت گردی کی واردات تھی۔۔ جو اک بہادر محافظ کی شجاعت نے ناکام بنادی۔اس کے بعد تو پھر جیسے سارے ہی بند دروازے کھل گئے، جن سے دہشت گردی کا سیلاب اندر داخل ہو گیاجو اب تک 50 ہزار معصوم پاکستانیوں کی جان لے چکا ہے۔ان پاکستانیوں میں، ہرمکتب فکر، ہرطبقے، ہرعمر اور ہرمذہب کا انسان موجود ہے۔۔۔!

انسان جسے خدا نے اس سرزمین میں اپنے نائب کی حیثیت دی ہے ۔۔۔اور اپنے اس نائب کو اتنا قیمتی قرار دیا ہے کہ قرآن میں واضح اور صاف انداز میں مالکِ کائنات فرماتا ہے، ’’جس نے ایک شخص کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا‘‘۔ ہم پچھلے گیارہ برسوں میں جتنی دفعہ وار آن ٹیرر کی مذمت کر چکے ہیں، کم و بیش اتنی ہی دفعہ اس ارشاد ربانی کو بھی دہرا چکے ہیں۔ مگر نہ تو اس سے وار ان ٹیرر کی شدت میں کمی آئی ہے نہ انسان نے انسان کے جان و مال کی حرمت کا سبق سیکھا ہے، بلکہ یہ کہوں تو زیادہ صحیح ہو گا کہ جیسے جیسے وار آن ٹیرر کی شدت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسی طرح انسان کے اندر کا جانور بھی بے لگام و بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں صرف خواتین پر زیادتی کے حوالے سے ہی بات کی جائے تو مجھے یاد ہے جب مختاراں مائی پر زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تھا تو یہ سارا معاشرہ اوپر سے لے کر نیچے تک مجسم احتجاج بن گیا تھا۔

یہاں تک کہ پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی گفتگو کا محور بھی جنوبی پنجاب کی وہ معمولی اور بے کس عورت بن گئی تھی جسے وڈیروں نے اپنے ظلم کی سان پر چڑھایا تھا۔ پھر ان آنکھوں نے اسی ملک، اسی معاشرے میں اُس بے نوا عورت کو مضبوط آواز بنتے دیکھا، ظلم کے خلاف اک ایسی دیوار کے مانند اٹھتے دیکھا جس کے سائے میں دیگر ایسی بے نوا و بے بس عورتیں سستا سکتی تھیں۔اب وہ دیوار کہاں ہے؟؟ ننھی سنبل، ثمینہ، نوشہرہ ورکاں کی فائزہ اور صدف سمیت وہ تمام بچیاں، جن کے ساتھ ظلم اور ہو رہی ہے، وہ پوچھتی ہیں۔ ایسی زیادتی کہ آسمان بھی پناہ مانگے او رزمین بھی دہائی دے۔وہ بچیاں جن پر زندگی کے ،امید کے، خوشی کے اور عافیت کے دروازے اس آدم خور جانور معاشرے نے بند کر کے انہیں ذلتوں کے پاتالوں میں دھکیل دیا ہے قبروں میں اتار دیا ہے، وہ اس وقت مجسمہ سوال ہیں۔ ننھی سنبل کو انصاف دلانے کے لیے ان دنوں بے چین و مضطرب دکھائی دیتا شہباز شریف ابھی تک اس کے مجرم نہیں ڈھونڈ سکا تو ثمینہ ، صدف ،فائزہ اور دیگر بچے بچیاں کس گنتی کس شمار میں؟ کہ دیوار کی طرح ظلم کے سامنے کھڑی ہو جانے والی مختاراں مائی، خود اس وقت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔جس کے پیچھے قانون بھی تھا، انصاف بھی، حاکم بھی ، محکوم بھی، اور مغربی این جی اوز بھی،مگر انصاف تو اسے بھی نہ ملک سکا؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟؟

اس معاشرے میں رہنے والا ہر صاحب دل انسان اب ایک بڑا سا سوال نامہ بن چکا ہے۔ پیچیدہ اور الجھے ہوئے سوال، وار ان ٹیرر سے لے کر خواتین کے حقوق تک ایک مستندعالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں دہشت گردی کی یہ جنگ ہو رہی ہے وہاں خواتین سے زیادتی کے واقعات میں سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ جن میں زیادہ شرح ان واقعات کی ہے، جو پولیس میں رپورٹ نہیں ہوتے۔ ہم دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو اس شرمناک پہلو کو چھیڑے بغیر آگے گزر جاتے ہیں جو نہایت نازک اور حساس ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں واشنگٹن میں دہشت گردی کے خلاف بلائی جانے والی کانفرنس میں ہم سے داعش سمیت ساری کالعدم جہادی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اتحاد مانگا ہے۔ اس مطالبے کو سن کر وار ان ٹیرر کی آگ میں جلتا یہ ملک اور معاشرہ سوچ میں پڑ گیا ہے کیسا اتحاد؟ کیا اب تک اس ضمن میں یہاں جو کچھ ہوا وہ اتحاد نہیں تھا؟ اس اتحاد نے اس ملک کو کیا دیا؟ اور اتحاد کی یہ پالیسی اگر اسی طرح چلتی رہی تو آئندہ یہاں کس قسم کا منظر نامہ دکھائی دینے والا ہے؟

افسوس ہم وہ ہیں جنہوں نے تباہی سے بھی کچھ نہیں سیکھا،اور ذلت سے بھی۔ اسی لیے اس معاشرے میں عورتوں کی عزت محفوظ ہے نہ ان کی جان کا تحفظ۔رہے ہمارے بچے تو اس وقت شدید قسم کی بے چینی سے گزر رہے ہیں۔ ہر صبح اس ملک کا سکول جانے والا’بچہ‘ اور اسے سکول بھیجنے والے والدین اک عذاب سے گزرتے ہیں اور یہ عذاب اس وقت تک رہتا ہے جب تک بچہ لوٹ کے گھر نہیں آ جاتا۔ ان حالات میں کیسا اتحاد، کیسے مطالبے؟ یہ ملک جس کی نہ کوئی ٹھوس خارجہ پالیسی نہ داخلہ۔ جس کا حکمران ٹولہ اس وقت جیسے زندگی اور اقتدار کی آخری لوٹ مار میں مصروف ہے ، اسے نہ ملک سے دلچسپی نہ ملک کے رستے زخموں سے۔ کرپشن اور جھوٹ کے علاوہ اگر کچھ دکھائی دیتا ہے تو اقتدار کی مدت بڑھانے کی ہوس۔ جس کے پیچھے بھی مزید کرپشن کے عزائم کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہر شعبۂ زندگی اور ہر سماجی معاملے میں تنزلی کا شکا ر یہ ملک نہ کسی کی ضرورت، نہ ترجیح۔ چنانچہ وار اینڈ ٹیرر ہو یا خواتین سے زیادتی، بچوں کے تحفظ کے معاملات ہوں یا تعلیم کے۔ کرکٹ کی شرمناک شکست ہو یا سینٹ کے انتخابات، ان کے پاس ایک ہی حل ہے۔ جوڑتوڑ۔ صرف ایک سوال۔ جوڑ توڑ سے یہ ملک چلایا جا سکتا ہے؟ جس کا چپہ چپہ اس وقت حسن نیت اور پیہم عمل کے دہائی دے رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.