شاہ فیصل بننا آسان نہیں

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

فیصلہ اگر واقعی پارلیمنٹ نے کرنا ہے تو فیصلہ ہو چکا۔ سعودی عرب اور یمن کے تنازعے میں پاکستان فریق نہیں بنے گا بلکہ پاکستان اور ترکی مل کر ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ سعودی عرب نے پاکستان سے بڑے واضح الفاظ میں فوجی مدد مانگی تھی۔ پاکستان کیلئے انکار بہت مشکل تھا عام تاثر بھی یہی تھا کہ پاکستان انکار نہیں کر سکتا ۔مغربی میڈیا نے تو یہ دعوے بھی کر دیئے کہ پاکستان ایئر فورس کے جنگی طیارے یمن میں باغیوں پر بمباری کر رہے ہیں لیکن پاکستان نے ان دعوئوں کی تردید کر دی۔ پاکستان کی حکومت نے اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلا لیا ۔ پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے ہی یہ واضح ہو چکا تھا کہ پاکستانی رائے عامہ کی بڑی اکثریت عربوں کے ایک باہمی تنازعے میں فریق بننے کے خلاف ہے۔ حکومت کی طرف سے بار بار یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان ہر قیمت پر سعودی عرب کا دفاع کرے گا لیکن اب تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے یہ بھی واضح طور پر کہہ دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو یا حرمین شریفین کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست ملک ہے اور پاکستانیوں کی بڑی اکثریت سعودی عرب کے بارے میں انتہائی مثبت احساسات رکھتی ہے لیکن سعودی عرب اور یمن کے تنازعے میں الجھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ اس تنازعے کے کئی پہلو ہیں۔

تنازع کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عرب ممالک کو ایران کے خلاف صف آراء کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خدانخواستہ یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو پھر مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ منافرت بڑھ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں ثالث کا کردار ادا کرنا بہت مشکل ہے ۔ ثالث کا کردار وہی ادا کر سکتا ہے جس کے کردار میں جرات اور رویئے میں سنجیدگی ہو۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مجموعی طور پر وہ سنجیدگی نظر نہیں آئی جو کسی ثالث کے رویے میں نظر آنی چاہئے۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ثالث تو خود اپنی سلامتی کو درپیش خطرات سے لڑنے میں مصروف ہے ۔ جب تک ثالث کی اپنی پوزیشن مستحکم نہیں ہو گی وہ کسی عالمی تنازع کے فریقین میں معاملات کیسے طے کرائے گا؟اس قسم کے تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے شاہ فیصل جیسی جرات اور سنجیدگی چاہئے۔مسلم ممالک کے حکمرانوں پر نظر دوڑائیے۔آج کے دور میں شاہ فیصل جیسی جرات اور سنجیدگی آپ کو کسی حکمران میں نہیں ملے گی ۔ شاہ فیصل نہ ہوتے تو شاید پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات قائم نہ ہوتے وہ زندہ ہوتے تو شاید سعودی عرب اور یمن کے تعلقات بھی نہ بگڑتے ۔

یہ شاہ فیصل تھے جنہوں نے 1969ءمیں مسلم ممالک کو او آ ئی سی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مغربی ممالک نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو شاہ فیصل نے مغربی ممالک کو تیل کی سپلائی بند کر دی۔ سعودی عرب کے حکمران کی طرف سے مغرب کے خلاف تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بعد عالمی معیشت ہل کر رہ گئی۔شاہ فیصل مسلم ممالک کے اتحاد کو موثر بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں کئی مسائل کا سامنا تھا ۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ پاکستان دولخت ہو چکا تھا۔ پاکستان کے نوے ہزار جنگی قیدی بھارت کے پاس تھے اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک نے بنگلہ دیش کو تسلیم نہیںکیا تھا ۔بنگلہ دیش کی حکومت بھارت سے مطالبہ کر رہی تھی کہ 1971ء کے فوجی آپریشن کے ذمہ دار افسران اس کے حوالے کئے جائیں تاکہ ان پر وار کرائمز ٹربیونل میں مقدمہ چلایا جائے۔

یہ وہ موقع تھا جب شاہ فیصل نے خاموشی کے ساتھ پاکستان اور بنگلہ دیش میں مصالحت کی کوشش شروع کی۔ ستمبر 1973ء میں شاہ فیصل نے الجزائر میں بنگلہ دیش کے نئے حکمران شیخ مجیب الرحمان سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں شیخ مجیب الرحمان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ شاہ فیصل سے کہا کہ آپ نے بنگالی مسلمانوں کو حج اور عمرے کی سعادت سے محروم کیوں کر رکھا ہے ؟ بنگلہ دیشی مصنف ایم آر اختر موکل نے شیخ مجیب الرحمان اور شاہ فیصل کی گفتگو کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھا کہ شاہ فیصل نے پاکستان کے دولخت ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خادم حرمین شریفین کی حیثیت میں وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رکھتے ۔ شاہ فیصل نے شیخ مجیب سے کہا کہ آپ نے اپنے آئین میں اسلامک ری پبلک آف بنگلہ دیش کی بجائے پیپلز ری پبلک آف بنگلہ دیش کے الفاظ کیوں لکھے ہیں ؟ شیخ مجیب نے جواب میں کہا کہ جناب والا آپ کے ملک کو بھی کنگ ڈم آف سعودی عربیہ کہا جاتا ہے اسلامک اسٹیٹ آف سعودی عربیہ نہیں کہا جاتا۔ شاہ فیصل نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کیلئے ہماری دو شرائط ہیں۔ پہلی یہ کہ اپنے آئین میں پیپلز ری پبلک کی بجائے اسلامک ری پبلک لکھیں اور دوسری یہ کہ بھارت میں موجود نوے ہزار پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کی مخالفت بند کریں۔ ظاہر ہے پہلی شرط کا مقصد شیخ مجیب پر دبائو ڈالنا تھا۔

پاکستان اور بھارت میں شملہ معاہدے پر 1972ء میں دستخط ہو چکے تھے لیکن پاکستان کے جنگی قیدیوں کی واپسی شروع نہ ہوئی تھی۔ ان قیدیوں کی رہائی کیلئے شاہ فیصل نے شیخ مجیب الرحمان کے علاوہ اندرا گاندھی سے بھی بات کی ۔ بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ کمال حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شاہ فیصل چاہتے تھے کہ فروری 1974ء میں لاہور میں ہونے وا لی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شیخ مجیب الرحمان بھی شرکت کریں۔ جنوری 1974ء میں شیخ مجیب کے نمائندے ابو سعید چودھری نے شاہ فیصل سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا جائے تو شیخ مجیب لاہور چلے جائیں گے ۔ شاہ فیصل نے ذوالفقار علی بھٹو سے بات کرلی اور یوںپاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ شیخ مجیب لاہور آئے تو ان کا شاندار استقبال ہوا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا تھا لیکن سعودی عرب نے فروری 1974ء میں اسلامی سربراہی کانفرنس تک بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا۔ 9؍اپریل 1974ء کو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان معاہدہ دہلی ہوا جس کے بعد پاکستانی قیدیوں کی رہائی شروع ہوئی جب تمام پاکستانی قیدی رہا ہوگئے تو پھر شاہ فیصل نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ شاہ فیصل اپنے تدبر اور ذہانت سے پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لانے میں کامیاب رہے ۔ وہ روایتی عرب بادشاہ نہیں تھے بلکہ مجاہدانہ دل رکھنے والے درویش تھے اور اسی لئے 25مارچ 1975ء کو سازشی عناصر نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا ۔ کچھ ہی عرصے بعد بنگلہ دیش میں شیخ مجیب اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ختم کر دیا ۔ پھر عراق اور ایران کی جنگ شروع کرائی گئی جس نے مسلم ممالک کو تقسیم کر دیا اور اس جنگ نے مسلمانوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں بھی اضافہ کر دیا ۔

شاہ فیصل کی پاکستان سے محبت کے اعتراف میں بھٹو صاحب نے اسلام آباد میں فیصل مسجد کی تعمیر شروع کی۔ لائل پورکا نام فیصل آباد رکھا گیا۔ کراچی کی شاہراہ فیصل، پاکستان ایئر فورس کی فیصل بیس اور شاہ فیصل کالونی ہمیشہ ایک دوست اور محسن کی یاد دلاتی رہیں گی ۔ آج شاہ فیصل کا دیس سعودی عرب ایک تنازعے میں الجھ کر پاکستان سے مدد مانگ رہا ہے ۔تنازعے کا دوسرا فریق مسلمان نہ ہوتا تو پاکستان اپنے دوست اور محسن کی ضرور مدد کرتا لیکن آج پاکستان کی رائے عامہ وہی سوچ رکھتی ہے جو شاہ فیصل کی سوچ تھی ۔ شاہ فیصل نے اپنی زندگی میںمسلم ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کیا ۔شاہ فیصل کی زندگی میں مصر نے یمن میں بار بار مداخلت کی اور جنوبی یمن کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ شاہ فیصل نے مصر کے ساتھ براہ راست الجھنے سے گریز کیا اور بعدازاں مصر کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر لئے ۔ وہ مصر جو کبھی یمن میں سعودی عرب کے مخالفین کی مدد کرتا تھا آج سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت کو مصر کی نسبت پاکستان سے زیادہ توقعات وابستہ ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان کو صرف ایک پرانے دوست اور محسن کے مفادات کا نہیں بلکہ اپنے اور تمام عالم اسلام کے مفادات کو بھی سامنے رکھنا ہے ۔ آج پاکستان کی رائے عامہ وہی کہہ رہی ہے جو شاہ فیصل کی سوچ تھی لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ اور حکومت کو بھی اس جرات اور سنجیدگی کی ضرورت ہے جو شاہ فیصل کا خاصہ تھی۔ ثالث ضرور بنئے لیکن پہلے ثالثوں والے اوصاف تو پیدا کیجئے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں