پاکستان یمنی جنگ میں غیرجانبدار رہے

پروفیسر شمیم اختر
پروفیسر شمیم اختر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

نوازشریف نے سعودی عرب اینڈ کمپنی کو حکومت کے مؤقف سے آگاہ کر دیا کہ وہ خانہ کعبہ اور حرم شریف کے دفاع کے لئے جس میں سعودی سلطنت کی سلامتی مضمر ہے کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف اپنی مسلح افواج بھیج دیں گے لیکن یمن کی جنگ میں اس کا کردار مصالحت کار کا ہو گا۔ باالفاظ دیگر وہ سعودی عرب اینڈ کمپنی کا یمن میں پاکستانی فوج بھیجنے کا مطالبہ ماننے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ اقدام اس کی غیرجانبداری کو ختم کر دے گا۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم نے قومی مفاد کو سعودی حکمرانوں سے اپنے دوستانہ تعلقات کی بھینٹ نہیں چڑھایا اور وہی کچھ کہا جو حق، انصاف اور مصلحت کا تقاضا تھا۔ لیکن ہم ان کے اس بیان سے متفق نہیں ہیں کہ وہ یمن کے مفرور و معزول صدر عبدالربو منصور ہادی کو یمن پر بزورِ طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پہلے پاکستان سعودی عرب اینڈ کمپنی کو تیونس ، مصر میں زین العابدین علی، مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کے غصب کردہ اقتدار کو بحال کرے۔ اگر ذرا ماضی میں چلے جائیں تو مشرقی بنگال میں پاکستان، مشرقی تیمور میں انڈونیشیا اور جنوبی سوڈان میں شمالی سوڈان کا اقتدار بحال کیا جائے۔ اس طرح تو دنیا کے بہت سے ممالک میں خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھے گی اور دوسری طاقتوں کی مداخلت پر عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔

یمن کی بغاوت اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔ اگر اس بغاوت سے علاقائی امن خطرے میں پڑ جاتا ہے تو متحاربین کو علاقائی تنظیم (خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ، اسلامی ممالک کی تنظیم اور بالآخر سلامتی کونسل سے رجوع کرنا چاہئے)۔ یمن کے معاملے میں خلیجی تعاون کونسل نے تو یمن میں عبدالربو منصور ہادی اور انصار اللہ سمیت تمام حکومت مخالف عناصر جن میں شافعی مسلک کے افراد بھی شامل ہیں کے مابین مذاکرات کرانے کی بجائے یمن میں فوجی مداخلت شروع کر دی البتہ سلطنت امان الگ تھلگ رہی۔ اس طرح عرب لیگ نے بھی طبل جنگ بجانا شروع کر دیا اور یمن پر دھاوا بول دیا۔ ادھر غزہ پر اسرائیلی حملے کے وقت (8 جولائی تا 26 اگست 2014ء) سے سوئی ہوئی اسلامی ممالک کی تنظیم نے بھی یمن پر سعودی عرب اینڈ کمپنی کی فضائی بمباری کی حمایت کر دی۔

جیسا کہ میں سطور بالا میں عرض کر چکا ہوں اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ان میں سے کوئی ریاست یمن میں برپا خانہ جنگی کے باعث علاقائی نقص امن کا مسئلہ خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ یا اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں اٹھاتی لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی اور سعودی عرب اینڈ کمپنی نے یمن پر فضائی بمباری شروع کر دی جو تیسرے ہفتے سے تجاوز کیا چاہتی ہے لیکن اس سے یمن کے اپنے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ اس کے برعکس انصاراللہ کے باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے جنہوں نے صنعا اور عدن کے بیشتر علاقوں پر اپنا اقتدار مستحکم کر لیا ہے۔ حتیٰ کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج کی باغیوں سے جا ملی۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے سعودی عرب اینڈ کمپنی اور بین الاقوامی برادری کو یمن میں باغیوں کی حکومت کو وہاں کی حقیقی حکومت (Defacto Govermnent) یا Belligerent کی حیثیت سے تسلیم کر لینا چاہئے۔

اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ یہ قانونی حکومت (Dejure Govermnent) کی حیثیت اختیار کر لے گی۔ یہ عارضی نوعیت کا اہتمام ہے جو ہمسایہ اور دوسرے ممالک کو ضرورتاً کرنا پڑتا ہے تاکہ جنگ زدہ علاقے میں مقیم ان کے شہری یا وہاں پھنسے ہوئے ان کے تاجر، سیاح یا ملازم پیشہ اور محنت مزدوری کرنے والے باشندوں کا حتی الامکان تحفظ یا انخلاء کر دیا جائے۔ چنانچہ حکومت پاکستان کو یمن میں برسراقتدار باغیوں کی مذمت سے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی جانب سے عائد غیرجانبداری متاثر ہو گی بلکہ وہاں مقیم یا پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے جان و مال کو خطرہ لاحق ہو گا جیسا کہ فروری، مارچ 2011ء میں بحرین کی خانہ جنگی میں پاکستانیوں کا حشر ہوا تھا کیونکہ متعدد پاکستانی بحرین کے ہوم گارڈ میں بھرتی ہو کر مبینہ طور پر بحرین میں پرامن احتجاجیوں پر طاقت کا استعمال کرنے کے ذمہ دار قرار دیئے گئے تھے۔ خواہ امر واقعہ کچھ ہو لیکن بحرین کی اکثریت نے یہ باور کر لیا تھا کہ بحرین کی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ ہوم گارڈ کے پاکستان نژاد سپاہی کئی شہروں میں احتجاجیوں پر گولیاں چلا رہے تھے جبکہ سعودی عرب کے ٹینک بھی ان پر گولے باری کر رہے تھے۔

یمن میں یہ کوئی پہلی بغاوت تو نہیں ہے، جب 1994ء میں جنوبی یمن شمالی یمن سے علیحدہ ہو گیا تھا تو صدر علی عبداللہ صالح نے علیحدگی پسند باغیوں پر فوج کشی کر کے جنوبی یمن پر مرکز کا اقتدار قائم کر لیا تھا۔ اس سے بھی قبل 1962ء میں مصر کے حکمران کرنل ناصر کی ایما پر کرنل سلال یمن میں امام احمد کی حکومت کا تختہ الٹا کر صدر بن بیٹھا تھا اور امام احمد بعدازاں ان کے جانشین امام بدر نے فرار ہو کر شمال میں اپنے وفادار حوثی قبائل کی مدد سے غاصب مصری فوج کے قبضے سے اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لئے آٹھ سال تک جنگ آزاد لڑی۔ اس جنگ میں سعودی عرب ’’شیعہ حوثیوں‘‘ کو مصر کے سنیوں کے خلاف بھرپور امداد دیتا رہا جس کے باعث مصر کی فوج کو شکست کھا کر واپس اپنے وطن لوٹنا پڑا۔ سعودی عرب اور بڑی طاقتوں کو یمن کے بارے میں حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے اور وہ ہے یمن کے باشندوں کی حب الوطنی اور ان کا جذبہ حریت۔ یمن ہمیشہ سے ایک قدیم اور عظیم سلطنت رہی ہے اور خلافت عثمانیہ کے وفادار کی حیثیت سے جنگ عظیم میں برطانیہ اور فرانس سے جنگ کی تھی جبکہ نجد کے حکمران عبدالعزیز بن سعود اور حجاز کے شریف حسین نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف برطانیہ سے خفیہ معاہدہ کر کے بغاوت کی تھی۔ اگر سعودی عرب اینڈ کمپنی یا اس کی حلیف ریاستیں وہاں فوج بھیجتی ہیں تو ان کا حشر بھی وہی ہو گا جو 1962ء، 1970ء کی جنگ میں مصر کی اسّی ہزار (80000) فوج کا ہوا تھا۔ لہٰذا نوازشریف کو یمن میں پاکستان کی فوج کو نہیں بھیجنا چاہئے۔

سعودی عرب اور امارات میں بھی ایسی ہی تبدیلی آ سکتی ہے جیسی تیونس، مصر، لیبیا، ایران اور عراق میں آ چکی ہے۔ اس نوشتہ دیوار کو کون مٹا سکتا ہے۔ اللہ باقی من کل فانی۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں