سری نگر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی

پروفیسر شمیم اختر
پروفیسر شمیم اختر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اپریل کو نماز جمعہ کے بعد مساجد سے ایک ہجوم برآمد ہوا جبکہ آس پاس کے ریاستی علاقوں سے مکین جوق در جوق کھل کر ہجوم میں شامل ہونے لگے، یہ ہجوم حریت کانفرنس کے رہنما مسرت عالم بھٹ کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور انہیں سات دن تک پولیس کے حوالے کیے جانے پر احتجاج کر رہا تھا تو پولیس نے پر امن احتجاجیوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور بالآخر گولیاں چلا کر چودہ افراد کو شدید زخمی کر دیا۔
یوں تو وادئ کشمیر ہمیشہ سے میدان کا رزار رہا ہے جہاں نہتے عوام اور مسلح جنگجو ریاست پر بھارت کے 67 سالہ فوجی قبضہ کے خلاف جدوجہد کرتے رہے ہیں لیکن جنوبی کشمیر کے قصبہ توال میں بھارت کی قابض فوج کے ہاتھوں قتل پر اس سارے ہفتے وادی میں احتجاج ہوتا رہا۔

ایسے میں ہر دلعزیز حریت رہنما مسرت عالم بھٹ کی گرفتاری نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے 15 اپریل کو ایک پر امن جلوس کی قیادت کی تھی جو حریت رہنما سید علی گیلانی کی دلی سے تین ماہ بعد وطن واپسی پر استقبال کے لیے رواں تھا۔ بزرگ حریت رہنما دلی میں زیر علاج تھے اور شفا پانے کے بعد اپنے شہر آ رہے تھے۔ جلوس کے شرکاء پاکستان کا پرچم اُٹھائے ہوئے تھے اور جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگا رہے تھے۔ بس ان کا یہی جرم قابض ہندو فوج کے نزدیک گردن زدنی تھا۔ چنانچہ اس کا سارا الزام مسرت عالم بھٹ پر تھوپ کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی گرفتاری مقبوضہ کشمیر کے محکمہ پولیس کے ہندو ڈائرکٹر جنرل راجندر کے حکم پر ہوئی۔ (ڈان 18 اپریل 2015ء) یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ نوے فیصد مسلمان اکثریتی ریاست کشمیر میں گورنر اور اعلیٰ پولیس افسران ہندو ڈوگرے یا مسلمان دشمن سکھ ہوتے ہیں۔

جبکہ وہاں 6 لاکھ قابض فوج نیم فوجی دستے اور پولیس مرہٹہ، راجپوت، گور کھا بنگالی، مدارسی یعنی ساری کی ساری غیر کشمیری ہے۔ یہ بادی النظر میں مقبوضہ علاقہ لگتا ہے۔ قابض فوجی نسل، رنگ روپ، زبان، مذہب، رسم و رواج، خوراک پوشاک کے اعتبار سے مقامی آبادی سے بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ وہ تو مقامی آبادی کی زبان تک نہیں جانتے۔ بھارت کے قابض لشکر جرار کے سامنے بھلا کشمیری پولیس کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ پھرت بھارت کی حکومت نے Army Special Powers Act کے تحت قابض فوج کو ریاست میں اختیاراتِ کلی دے رکھے ہیں جس کے باعث ان کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل اور عورتوں کی عصمت دری روز مرہ کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ اپنے قبضے کے دوران بھارت کی قابض فوج نے اسی ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے لیکن وہ صرف 65 ہزار افراد جنہیں وہ پاکستانی در انداز کہتی ہے کے قتل کا اعتراف کرتی ہے۔

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں ہزار ہا نوجوان اور بوڑھے قابض افواج کے ہاتھوں اغوا کیے جا چکے ہیں جنہیں وہ لاپتہ کہتی ہیں اگر یہ مقتولین پاکستانی درانداز تھے تو مقامی آبادی ان کی قبروں پر پھول چڑھانے اور فاتحہ پڑھنے کیوں آتی ہے؟ اگر سارے لاپتہ افراد پاکستان کے مجاہدین ہیں تو ان کے مقامی اہل خانہ ان کی تصاویر کے کتبے کیوں اٹھائے ان کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں، ستم تو یہ ہے کہ کشمیریوں کی اتنے وسیع پیمانے پر نسل کشی کرنے والے الٹا مقتولین کو دہشت گرد اور خود کو انسداد دہشت گردی کا علمبردار کہتے ہیں۔ بھارت سے بڑا ریاستی دہشت گرد تو اسرائیل بھی نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ اسرائیل کی آبادی اس کے نصف سے بھی کم ہے۔ یوں تو راجیو گاندھی کے زمانے سے بھارت اورا سرائیل میں گٹھ جوڑ شروع ہو گیا تھا لیکن اٹل بہاری واجپائی نے اسرائیل کی موساد اور اپنی را کے مابین مستقل تعاون قائم کیا تا کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری، ہدفی قتل اور دہشت گردی کا بازار گرم رکھیں۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے کشمیر پر قابض بھارت کی فوج کو رات کی تاریکی میں دیکھنے والی عینکیں اور اسلحے فراہم کیے۔ بھارت نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے اسرائیل سے نسل کشی کے ماہرین کی خدمات حاصل کیں جبکہ یہود و ہنود و نصاریٰ کے میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو پاکستان کی در اندازی پر محمول کیا۔

اب تو عالم یہ ہے کہ پاکستان کے بعض ذمہ دار افراد کشمیر میں جاری جدوجہد کو دہشت گردی قرار دے کر اس سے اجتناب کرنے اور ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ کو موردِ الزام قرار دے کر قوم کی ساری توانائی کا استعمال دہشت گردی پر صرف کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جبکہ اندرون پاکستان برپا دہشت گردی میں امریکہ اسرائیل اور بھارت ملوث ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے حالیہ انکشاف کی روشنی میں تو بلوچستان اور کراچی میں برپا دہشت گردی میں متحدہ عرب امارات ملوث ہے۔ اتنا تو ہم جانتے ہیں کہ ابو ظہبی نے الشمس فضائی اڈہ اپنے سیرو شکار کے لیے کم اور قبائلی علاقوں کی پختون آبادی پر ڈرون حملوں کے لیے زیادہ استعمال کیا ہے۔ اس پر ہم ان پرلعنت بھیجتے ہیں۔

یہود و ہنود و نصاریٰ نے اپنی جھوٹ کی فیکٹریوں کے ذریعے پاکستان کو رسوا کرنے کے لیے اسے دہشت گردی کی آماجگاہ بلکہ تربیت گاہ قرار دے دیا ہے جبکہ خود اندرون بھارت آسام، جھار کھنڈ، چھتیس گڑہ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں مسلح بغاوت جاری ہے۔ ان میں بعض دلت یعنی اچھوت ، بعض ادی باس قبائلی آسام کے علیحدگی پسند ہیں۔ وہاں بھارت کی سرحدی فوج جنگجوؤں سے لڑ رہی ہے۔

ایک بار تو سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھارت میں اندرون ملک جاری مسلح بغاوت کو بھارت کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ الکفرامۃ واحدۃ پاکستان اور مسلم ممالک میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہے ۔ کبھی ایران پاکستان میں تنازع پیدا کر دیا تو کبھی سعودی عرب اور ایران میں محاذ آرائی کرا دی تاکہ یہ ممالک باہم متحد نہ ہو سکیں۔ لیکن جہاں ہم یہود و ہنود و نصاریٰ کو امہ میں تفرقہ پردازی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں وہاں یہ جانتے ہوئے بھی ہم ان کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں۔ اگر یہود و ہنود و نصاریٰ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم امہ فلسطین اور کشمیر کو یہود ہنود کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے انتہا پسندی اور دہشت گردی پر اتر آئی ہے تو انہیں مسلمانوں کو مورد الزام قرار دینے کی بجائے ان علاقوں کا قبضہ خالی کر دینا چاہیے۔ لیکن استعماری اور شیطانی ذہن ایسا کب سوچتا ہے ؟ مسلم امہ کو باہم الجھنے کی بجائے یہود و ہنود و نصاریٰ کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ان پر جوابی حملہ کرنا چاہیے۔ آج کل میڈیا بہت بڑی قوت بن کر ابھرا ہے لہٰذا یہود و ہنود و نصاریٰ کی طرح ہمیں بھی اپنے مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن نے نقشے میں ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں دکھایا تو اس نے ناراض ہو کر اس کی نشریات بند کر دیں۔ (اسلام 18 اپریل 2015ء) قطر نے یہی دوستانہ پالیسی حماس ، اخوان اور طالبان کی جانب بھی اختیار کی ہوئی ہے۔

اس کے برعکس اگر بعض اسلامی ممالک اخوان، حماس، لشکر طیبہ یا افغان طالبان کو دہشت گرد کہنا شروع کر دیں تو کیا یہ اسلام اور مسلم دشمنی نہ ہو گی؟ ابھی مسلم امہ پر مطلق العنان بادشاہوں، آمروں، غاصبوں اور بکاؤ حکمرانوں کا غلبہ ہے جس کے باعث وہ کشمیر، فلسطین، افغانستان کو آزاد نہیں کرا سکتی کیونکہ وہ ان مصلحت پسند بلکہ خود غرض حکمرانوں کی تابع ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں کتنے ایسے ہیں جو بڑی طاقتوں کو الٹی میٹم دیں کہ جب تک کشمیر اور فلسطین سے بھارت اور اسرائیل قبضہ نہیں ختم ہو گا وہ مغربی ممالک کو تیل کی ترسیل بند کر دیں گے جیسا شاہ فیصل نے کیا تھا؟ ان کا یہ کارنامہ بمنزلہ جہاد تھا جس کے باعث وہ حقیقی معنوں میں خادم حرمین شریفین تھے بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر محافظ امہ بن گئے لیکن ان کے جانشینوں نے ان کے ورثے کی حفاظت نہیں کی جس کی وجہ سے وہ امہ کے احترام سے محروم ہو گئے۔

اگر آج ہمارے علماء ، اساتذہ، صحافی، وکلاء، طلباء، کسان، مزدور متحد ہو کر عہد کریں کہ ہم یہود و ہنود نصاریٰ کی سرپرستی میں مسلم ممالک میں جاری در اندازی، تخریب کاری، دہشت گردی کا خاتمہ کر کے بحر الکاہل سے لے کر بحر اوقیانوس تک واقع مسلم ممالک کو امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے تو اسی دن کفار و مشرکین کی سازش دم توڑ دے گی لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے دلوں سے یہود و ہنود و نصاریٰ کا ڈر نکالنا ہو گا اور اس کی جگہ خوفِ خدا طاری کرنا ہو گا۔ با الفاظ دیگر ہمیں استعمار اور سرمایہ داری کے سارے لات و منات توڑنا ہوں گے تبھی خوفِ خدا ہمارے قلوب میں جاگزیں ہو سکے گا۔ ایک ارب کلمہ گو کرۂ ارض تو کیا ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں بشرطیکہ یہ وحدتِ اسلامی کے اٹوٹ رشتے میں منسلک ہو جائیں۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں