.

چینی صدر کا دو روزہ دورۂ پاکستان

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوں تو چین کے رہنماؤں کی پاکستان آمدورفت بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے لیکن اس بار تو پاکستان اور چین کے تعلقات نے غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل کر لی جس سے پاکستان میں دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بین الاقوامی معیار کے حامل تزویراتی ڈھانچے کی تعبیر کے کام کا ہنگامی بنیادوں پر آغاز ہوگا۔ اس منصوبے کو پاک چین اقتصادی راہگزر کے نام سے بجاطور پر منسوب کیا گیا ہے کیونکہ ایک طرف تو کاشغر کو خنجراب سے ملانے والی عظیم شاہراہ پاکستان کے صوبوں سے گزرتی ہوئی گوادر تک پہنچ جائے گی جبکہ گوادر کو ایک عظیم بندرگاہ کی حیثیت حاصل ہو جائے گی جس کے راستے وسط ایشیا، جنوبی ایشیا اور خلیج سے بحیرہ روم جہاز رانی کو فروغ حاصل ہوگا تو دوسری طرف گوادر میں ایک اعلیٰ درجہ کا وسیع و عریض اور جدید ترین سہولیات کا حامل بین الاقوامی ایئرپورٹ قائم کیا جائے گا۔ پاکستان میں توانائی کی کمیابی کے باعث ملک کی زرعی اور صنعتی ترقی میں حائل رکاوٹوں کے ازالے کے لئے عوامی جمہوریہ چین نے پانی سے لے کر شمسی توانائی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر فوری طور پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔

پن بجلی منصوبہ کیلئے خیبر پختونخوا، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کیلئے ٹھٹھہ، کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کیلئے قحط زدہ تھرپارکر کا انتخاب کر کے وفاق کے تمام صوبوں بالخصوص پسماندہ ترین آبادیوں والے علاقے میں بجلی کے بحران میں ازالے کا اہتمام کیا گیا ہے جو مقامی آبادی کی زندگیوں میں خوشحالی کی ضمانت ثابت ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ان منصوبوں پر کام شروع ہونے پر مقامی افرادی قوت کی کھپت ہو گی اور ان ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ فلاحی نظام بھی قائم ہوگا۔ مثلاً سکولوں، ہسپتالوں اورفنی مہارت پیدا کرنے کیلئے تربیتی مراکز بھی قائم کئے جائیں گے جو دور حاضر کے ترقیاتی منصوبوں کا جزو لاینفک (Sustainable development) سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود چین کے ماہرین نے پاکستانیوں کو خوش فہمی سے باز رکھنے کیلئے کہا ہے کہ ان منصوبوں کے باوجود پاکستان کو درکار توانائی کے لئے تھرمل پاور پلانٹ کی ضرورت بہرصورت رہے گی۔

چین کے صدر نے فوری ترقیاتی منصوبے جن میں مذکورہ توانائی کے مراکز شامل ہیں کے لئے 28 ارب ڈالر کی پیشکش کر کے امریکہ اور یورپی طاقتوں کو شرمندہ کر دیا ہے۔ دوسرے مرحلے پر جو طویل المدت نوعیت کا ہو گا 17 ارب ڈالر مختص کر دیئے ہیں اس طرح مجموعی طور پر چین سے پاکستان کو ملنے والی امداد 45 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ اس میں قراقرم شاہراہ کی توسیع بھی شامل ہے۔ اگر اس پس منظر میں جرمنی، فرانس اور کینیڈا میں نریندر مودی کی بھیک یاترا کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کے اعصاب پر جنگی جنون سوار ہے۔ فرانس سے 36 لڑاکا طیارے اور کینیڈا سے جوہری ٹیکنالوجی کی درآمد بھارت کے جارحانہ اور توسیع پندانہ عزائم کی غمازی کرتے ہیں۔ یہ کینیڈا ہی تو تھا جس نے بھارت کو بھاری پانی کا ری ایکٹر فراہم کر کے اسے 1974ء میں پوکھران میں تجرباتی ایٹمی دھماکہ کرنے کے قابل بنایا جبکہ اوباما نے بھی اسے جوہری امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کا وعدہ کرلیا۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے یہ دونوں طاقتیں ہندوستان کو ایٹمی طاقت بنا کر اسے عوامی جمہوریہ چین کے خلاف صف آرا کرنا چاہتی ہیں۔

امریکہ اور بھارت نے سری لنکا میں سابق صدر کے خلاف سازش کر کے اسے انتخاب میں شکست دلوا کر اس کی ہی پارٹی کے فرد کو صدر بنوا دیا جبکہ اس نے سابق حکومت اور عوامی جمہوریہ چین کے مابین سری لنکا میں بندرگاہ کی تعمیر سے متعلق معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے عوامی جمہوریہ چین کو اپنی بحریہ کے جہازوں کا سری لنکا کی بندرگاہوں میں داخلہ بھی ممنوع قرار دے دیا۔ اسی طرح نریندر مودی اور اوباما کی کوشش ہے کہ برما میں آنگ سان سوچی کو برسراقتدار لا کر اس کے ذریعے اس ملک میں بندرگاہ کی تعمیر کے منصوبے سے چین کو خارج کرا دیں۔ اگر اس تناظر میں گوادر بندرگاہ کی چین کے ذریعے تعمیر کے بارے میں ان دو طاقتوں کے رویے کا اندازہ لگایا جائے تو یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے تخریب کاری کرائیں گے، یہی وجہ ہے کہ چین کے صدر نے یہ ذمہ داری لینے سے پہلے پاکستان سے اپنے زیرتعمیر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئروں، ماہرین اور عملے کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا اور جب انہیں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی ایک ڈویژن اور دیگر امن، سلامتی نافذ کرنے والے ادارے چینی عملے کے گرد حصار بنا لیں گے تاکہ انہیں کوئی گزند نہ پہنچا سکے توانہیں ایک گونا اطمینان ہوگیا۔ ماضی کی حکومتوں کی نااہلی کے باعث کتنے ہی چینی انجینئروں اور ماہرین کی دہشت گردوں کے ہاتھوں المناک ہلاکت ہوئی ہے جو پوری قوم کے لئے باعث شرم ہے۔

چونکہ ان منصوبوں کے باوجود قوم کو توانائی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا تو کیا ہمارے حکمرانوں نے ایران، پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے چین کا عندیہ لیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس منصوبے کے بغیر قوم کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔ پاکستان، ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ تو ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی عائد کردہ پابندیوں سے پہلے یعنی 2009ء میں کیا گیا تھا اس لئے وہ اس پر لاگو نہیں ہوتیں اور اب جبکہ ایران اور 6 بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری منصوبے پر مفاہمت ہوچکی ہے تو پاکستان اس معاہدے پر کیوں عملدرآمد نہیں کرتا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پہلے امریکہ کا ڈر تھا اوراب سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی ناراضگی کا ڈر ہے۔ آخر پاکستان کی ترقی کے منصوبے کب تک بیرونی طاقتوں کے یرغمالی بنے رہیں گے۔

پاکستان کو فی الوقت چین کے اشتراک سے ملک کوصنعتی و تجارتی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنا چاہئے۔ چین نے بھارت کے ہاتھوں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد دفاعی طور پر خود کفیل بنانے کے ساتھ اسے صنعتی بنانے کے لئے بڑا کردار اداکیا ہے۔ ٹیکسلا کا مشین ساز کارخانہ اس کی بہترین مثال ہے، پھر چشمہ منصوبہ، کامرہ میں طیارہ سازی کا کارخانہ جو 2007ء سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے، اس سے قبل 2001ء میں خالد ٹینک اور 2008ء میں فریگیٹ بھی چینی اور پاکستانی ماہرین کے اشتراکِ عمل کے شاہکار ہیں۔ پاکستان کی دفاعی صنعت تو خو دکفیل ہو چکی ہے۔ اب ملک میں سڑکوں، ریلوے لائن، ہوائی اڈوں، بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں، کان کنی، دھات سازی کی جانب توجہ ضروری ہے کیونکہ صنعتی ڈھانچے کے بغیر جدید ریاست کا تصور محال ہے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ ’’ننئی بات‘‘

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.