.

ڈرون حملے میں امریکی اطالوی باشندوں کی ہلاکت

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما نے پہلی بار ڈرون حملے میں دو گورے مسیحیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے جو 15 جنوری کو شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں ایک مکان پر میزائل داغنے پر مارے گئے تھے۔ اس وقت تو مقامی اور امریکی میڈیا میں بڑا چرچہ ہوا تھا کہ ڈڑون حملے میں غیر ملکی دہشت گرد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے لیکن اوباما نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت تو کی لیکن ڈرون حملوں کی افادیت اور ضرورت پر حسب سابق زور دیتا رہا۔ ظاہر ہے کہ یہ غمزدہ خاندان کے زخموں پر نمک پاشی نہیں تو اور کیا تھی۔ اگر تیونین میں امریکی شہری ڈاکٹر وارن وانسٹائن Dr Warren Weinstein جو ماہر اقتصادیات تھا اور نو سال سے پاکستان میں کیلفیورنیا کے Alistin کمپنی کے امدادی منصوبے میں کام کر رہا تھا۔ امریکی عیسائی نہ ہوتا تو اوباما اس کی ہلاکت پر کبھی تعزیت کا ڈھونگ نہ رچاتا۔ وہ اطالوی کارکن Giovanni Lo Porto کی موت بلکہ قتل پر مطلق آنسو نہ بہاتا مگر مجبوری یہ تھی کہ دونوں بیک وقت امریکی قزاق حملے میں مارے گئے تھے لہٰذا اگر اس کی تعزیت نہ کرتا تو پوپ کی ناراضگی کا ڈر تھا۔ اس حملے میں نو مسلم امریکی نوجوان Adam Gadahn اور مبینہ القاعدہ کے جنگجو استاد فاروق بھی ہلاک ہوئے تھے لیکن اوباما نے امریکی نوجوان کے قتل پر اظہار افسوس تک نہیں کیا۔ اوباما نے ایک فاش غلط بیانی یہ کی کہ امریکی اور اطالوی باشندے اور Adamgadahn اور استاد فاروق دو علیحدہ علیحدہ ڈرون حملوں میں مارے گئے جبکہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ یہ سب 15 جنوری کے حملے میں مارے گئے تھے۔

اس خونیں واردات پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی تنظیم برائے شہری آزادی نے ہمیشہ کی طرح شدید احتجاج کیا کیونکہ ان کا مؤقف رہا ہے کہ ان حملوں میں عام شہری لقمۂ اجل بنتے ہیں لہٰذا انہیں روک دیا جانا چاہیے امریکی شہری آزادی کی تنظیم نے اوباما سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ شہریوں کی موت پر معافی مانگے لیکن وہ اس کے لیے آمادہ نہیں نظر آتا۔ اس موقع پر پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے ڈرون حملوں میں ہلاک کیے گئے امریکی اور اطالوی باشندوں کی ہلاکت پر حکومت کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا ایک بار پھر پر زور اعادہ کیا کہ یہ حملے قطعی طور پر بند کیے جانے چاہئیں کیونکہ ان میں عام شہریوں کی ہلاکت واقع ہوتی ہے۔ لیکن حکومت پاکستان کا احتجاج کھوکھلا ہے کیونکہ اس کے حکام ڈالروں کے لالچ میں امریکی سی آئی اے کو جنگجوؤں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور حملے کے بعد لیپا پوتی کرتے ہوئے میڈیا کو (جس کا داخلہ قبائلی علاقے میں ممنوع ہے) اطلاع دیتے ہیں کہ وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں نے عسکریت پسندوں کے احاطے پر میزائل داغے جس میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔

دریں اثناء مقامی باشندوں نے تونین کی ناقابل شناخت لاشوں کو دفن کر دیا البتہ مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ اس احاطے میں عسکریت پسند (جن میں غیر ملکی بھی تھے) رہائش پذیر تھے وغیرہ وغیرہ۔ ان حملوں کی اجازت تو غاصب مشرف نے دی تھی جبکہ شہباز اور الشمسی اڈے سی آئی اے کے حوالے کر دیئے گئے تھے۔ باب وڈ ورڈ Bob Woodward کی کتاب Obama’s Wars میں مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ اپنے دورِ صدارت میں آصف زرداری نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی تھی اسے قبائلی علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں پر بمباری کرتے وقت اضافی نقصانات Collateral Damage کی فکر دامن گیر رہتی ہے لیکن ہمیں نہیں۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کے مصداق معزول شدہ وزیراعظم یوف رضا گیلانی نے امریکیوں سے کہا تھا کہ بے شک وہ قبائلی علاقے میں بمباری کرتے رہیں جبکہ ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔ جب ایسے حکمران ہوں جو اپنے ہی ملک پر بیرونی طاقتوں سے بمباری کراتے رہیں اور جس کا سفیر مبینہ طور پر امریکہ کو اپنے وطن کی فوج کو ملکی معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی دعوت دے اور مواخذہ ہونے پر عدالت کا سامنا کرنے کی بجائے دوبارہ حاضری کا وعدہ کر کے فرار ہو جائے تو ڈرون حملے کیسے بند ہو سکتے ہیں؟

اب تو نظیر قائم ہوتی جا رہی ہے کہ بیرونی طاقت اندرون پاکستان عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کر سکتی ہے۔ پھر آخر بھارت اس کا فائدہ کیوں نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اسے تو 1947ء سے شکایت رہی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے مقبوضہ کشمیر میں در اندازی، تخریب کاری اور دہشت گردی کرواتا ہے۔

مندرجہ بالا سطور میں میں نے وہ اسباب، عوامل بیان کر دیئے ہیں کہ آخر حکومت پاکستان اپنی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کے خلاف سلامتی کونسل یا بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ کیوں نہیں دائر کرتی یا ان کے انسداد کا مطالبہ کیوں نہیں کرتی؟ اس کا جواب صاف ہے۔ وہ ایسا نہیں چاہتی۔ اس کے برعکس وہ ڈرون حملے جاری رکھنا چاہتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی بڑا پر اسرار ہے۔ وہ (حکومت پاکستان) اندرون ملک بلوچستان میں برپا تخریب کاری اور دہشت گردی کا الزام بھارت پر تو رکھتی ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ امریکہ نے بار ہا کہا کہ پاکستان نے ہنوز بلوچستان میں بھارت کی ایجنسییوں کی جانب سے کی گئی دہشت گردی اور تخریب کاری کے ثبوت نہیں پیش کیے۔ اگر امریکی جھوٹ بول رہے ہیں تو حکومت ان خفیہ اطلاعات کو طشت از بام کر دے جو بھارت کی تخریب کاری کی ناقابل تردید شہادت ہیں۔

اگر حکومت بھارت کی اندرون پاکستان تخریب کاری کے ثبوت اور شواہد بین الاقوامی برادری کے رو برو نہیں پیش کرتی تو پارلیمان اور سیاسی پارٹیوں کو اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ مذکورہ حقائق منظر عام پر لائے۔ کیا بھارت سے آلو، ٹماٹر، سرخ مرچ، پیاز، فلموں کی درآمد کے بدلے قوم اس کی پاکستان دشمنی فراموش کر دے؟ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں نہ اٹھائے؟ مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کی نسل کشی کا تماشا دیکھتی رہے، سیاچن اور سر کریک بھارت کے حوالے کر دے؟ مشرقی محاذ خالی کر کے شمال مغربی کے محاذ پر فوج لگا دے؟ ایران گیس پائپ لائن نہ بچھائے۔

آج کل ایک مکتب فکر یہ بات پھیلا رہا ہے کہ پاکستان ہر قیمت پر بھارت سے دوستی کر لے اور اس سے برابری کا خواب دیکھنا فراموش کر دے اور سب سے بڑھ کر وہ اسلامی نظریہ کو ترک کر کے قومیت کا نظریہ اپنالے۔ یاد رہے ہمارا نظریہ قومیت ہی اسلام پر مبنی اور اسی سے عبارت ہے۔ اگر ہم خالص قومیت کو اپناتے ہیں تو مشرقی بنگال کی طرح سندھ، ٰخیبر، پنجاب اور بلوچستان بھی علیحدہ ہو جائیں گے کیا یہ مہنگا سودا ہمیں منظور ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.