.

افغان طالبان کو وزیراعظم کی دھمکی

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مئی کو وزیراعظم پاکستان کابل تشریف لے گئے۔ ان کے ہمراہ مسلح افواج کے سربراہ بھی تھے۔ وہاں ان کی ملاقات افغان جنتا کے صدر اشرف غنی اور منتظم خاص عبداللہ عبداللہ سے ہوئی، نہ جانے ان کے میزبان نے انہیں افغان طالبان کے بارے میں کیا بتایا کہ وہ ان (افغان طالبان) پر سخت برہم ہو گئے اور انہیں افغان جنتا کے خلاف بندش پر سخت انتباہ کیا کہ اگر کسی عسکریت پسند گروہ نے افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی تو اسے دہشت گرد قرار دے کر اس کا شکار کیا جائے گا. (ڈان بدھ 13 مئی 2014ء)

ہمیں وزیراعظم کے غیر ملک میں اس طرح غصے کا مظاہرہ کرنے پر حیرت ہوئی کیونکہ اس کا اختیار مقامی انتظامیہ کو ہے اور یوں ہمیں موصوف لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں خواتین سمیت کئی افراد کے پولیس کے ہاتھوں بے دریغ قتل عام اور بلوچستان اور کراچی میں جاری غیرملکی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہدفی قتل کے مرتکبین کو ہنوز سزا نہ دے سکے جبکہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں ہے۔ پھر وہ مقبوضہ افغانستان میں مقامی طالبان اور جنگجو عناصر کو امریکہ کی پٹھو جنتا کے خلاف مزاحمت کرنے سے کیونکر روک سکتے ہیں؟ واضح رہے کہ اس وقت افغانستان پر امریکی فوج کا قبضہ ہے اور اشرف غنی نے امریکہ کو افغانستان کی سرزمین پراس کی فوج کے قیام کی اجازت دے کر افغانستان کے اقتدارِ اعلیٰ کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ نہ حامد کرزئی نہ ہی اشرف غنی کو افغانستان پر حکمرانی کا حق ہے کیونکہ وہ مقبوضہ افغانستان میں منعقدہ انتخابی ڈھونگ کے نتیجے میں صدر بن بیٹھے۔ علاوہ ازیں مقبوضہ علاقے میں قابض فوج کی نگرانی میں کیے گئے انتخاب کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اگر ہوتی تو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کی نگرانی میں کرائے گئے انتخابات کو کیوں نہیں تسلیم کرتا؟

اگر حکومتِ پاکستان حامد کرزئی یا اشرف غنی کو افغانستان کی حکومت کا جائز سربراہ تسلیم کرتی ہے جیسا کہ وزیراعظم نوازشریف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے تو اسے مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے انتخابات جعلی تھے اس امکان کی کوئی حیثیت نہ ہے اگر نوازشریف اشرف غنی کو افغانستان کا جائز حکمران سمجھتے ہیں تو افغان طالبان سے کس لئے مذاکرات کئے جا رہے ہیں، سنا ہے کہ مئی کے آغاز سے افغان طالبان کا ایک وفد قطر میں افغان جنتا سے مذاکرات کررہا ہے۔

ایسے میں نوازشریف کو رنگ میں بھنگ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کا الزام پاکستان پر تھوپا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان کو اتنا تو معلوم ہوگا کہ امریکہ نے افغان طالبان کو باغی Insurgents کہا ہے ، دہشت گرد نہیں کہا، نوازشریف نے وزیر خارجہ نہیں مقرر کیا تو کیا ہوا، ان کے سلامتی امور کے مشیر جناب سرتاج عزیز اور مشیر امور خارجہ جناب طارق فاطمی تو انہیں بتا سکتے ہیں کہ Insurgent کے معنی باغی ہیں نہ کہ دہشت گرد ۔ قطر میں طالبان کی قومی حکومت میں شمولیت پر مذاکرات ہو رہے ہیں اور اگر فریقین رضامند ہو جاتے ہیں تو طالبان افغانستان کی مخلوط حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔ پھر انہیں اس طرح ڈانٹنا، پھٹکارنا دانشمندی کے منافی ہے۔ جہاں تک ان کو Hunt Down کرنے کی خواہش ہے تو یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جب امریکہ ان 15 سال سے لگاتار ڈیزی کٹر اور کلسٹر بم گرا کر بھی انہیں زیر نہیں کر سکا اور بالآخر سعودی عرب، قطر اور پاکستان سے انہیں رام کرنے کے لئے درخواست کرنی پڑی۔

بھلا انہیں علاقائی ریاستیں کیسے شکست دے سکتی ہیں؟ کابل میں مقیم امریکی روزنامہ لاس اینجلس ٹائمز کے نمائندے علی ایم لطیفی کی رپورٹ کے اقتباسات سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے توسط سے اشرف غنی سے بات چیت کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر قیوم کو چائی نے کہا کہ طالبان کو یہ معلوم کرکے اچھا نہیں لگا کہ اشرف غنی نے ان سے رابطہ کے لئے پاکستان سے درخواست کی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق طالبان پاکستان کو بیچ میں لانا چاہتے بلکہ براہ راست گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں کیونکہ انہیں ماضی میں پاکستان سے تلخ تجربہ ہوا ہے۔ مثلاً حکومت پاکستان نے عبدالغنی عرف ملا برادران کو کراچی میں پابند کیا ہوا ہے اور وہ اس کی اجازت کے بغیر نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔ اسی طرح مبینہ طور پر پاکستان کے حکام نے گزشتہ مئی میں طالبان رہنما طیب آغا (جنہیں 2012ء میں قطر میں مذاکرات کے لئے بھیجا گیا تھا) کے دو بھائیوں یونس اور طاہر کو پانچ مہینے تک حراست میں رکھا جس کا مقصد مبینہ طور پر طیب آغا پر مذاکرات میں کردار کرنے کے لئے مجبور کرنا تھا (ڈان بدھ 13 مئی 2015) .

ڈاکٹر کوچائی نے کہا کہ پاکستانی حکام نے طالبان دور حکومت میں وزیر دفاع عبیداللہ کو حراست میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی تو ان کے اہل خانہ کو یہ اطلاع دی گئی کہ وہ دو سال قبل یعنی 2010ء میں کراچی میں نیند کے دوران دل کی بیماری سے انتقال کر گئے (ڈان: 13 مئی)۔ یاد رہے کس طرح غاصب مشرف نے پاکستان میں طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف کو ویانا کنونشن برائے سفارتکار ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی حکام کے حوالے کردیا تھا تو اس بدذات نے انہیں اس زور کا تھپڑ مارا کہ وہ گر پڑے بعدازاں بے گناہ ثابت ہوئے تو انہیں رہا کردیا گیا لیکن وہ آج تک مشرف کا مجرمانہ رویہ نہیں بھولے اور برملا کہتے ہیں کہ امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرو لیکن خبردار پاکستان پر بھروسہ نہ کرنا۔

اگر ڈاکٹر قیوم کوچائی اور دیگر کی اطلاعات صحیح ہیں تو یہ پاکستان کے حق میں اچھی بات نہیں ہے کہ افغانستان میں کوئی فریق اس پر اعتماد نہیں کرتا اور اگر وہ اشرف غنی پر تکیہ کرتا ہے تو شاخ نازک پر آشیانہ بنانے کے مترادف ہوگا۔
----------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.