مسکین بابا
بہت سے قارئین نے پوچھاہے کہ اسامہ بن لادن کی موت ایک ایسا افسانہ کیوں بنتی جارہی ہے جو حقیقت سے بہت دور ہے؟ سازشی مفروضے نیا رنگ و آہنگ کیوں اختیار کررہے ہیں؟ ایک پولیس افسر نے پوچھا کہ القاعدہ اورداعش میں کیا فرق ہے؟ کیا یہ دونوں ایک نہیں؟ اسے یہ نہیں پتہ تھاکہ القاعدہ نے بہت سال پہلے ملا محمد عمر کو امیر المومنین تسلیم کرلیا تھا اور داعش کا امیر المومنین ابوبکر بغدادی ہے۔ دونوں جہاد کے نام پر عسکری کارروائیوں میں مصروف ہیں لیکن دونوں کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ القاعدہ لمبی منصوبہ بندی کےبعد بڑا حملہ کرتی ہے تاہم اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کوئی بڑا حملہ نہیں کرسکی۔ داعش کے اکثرحملے جلد بازی میں کئے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 1999ء میں خالد شیخ محمد نے امریکہ میں حملوں کامنصوبہ القاعدہ کی قیادت کے سامنے رکھا تو اسے مسترد کردیا گیا۔
اس منصوبے کے مطابق امریکہ کے مختلف شہروں میں دس جہازاغوا کئے جانےتھے۔ دس میں سے نو جہازوں کو پینٹاگون، سی آئی اے اورر ایف بی آئی کے دفاتر کے علاوہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر، وائٹ ہائوس اور امریکہ کی ایٹمی تنصیبات پر گرایا جانا تھا۔ خالد شیخ محمد چاہتا تھا کہ دسواں جہاز گرایا نہ جائے بلکہ اغوا کر کے واشنگٹن سے بہت دور کیلی فورنیا کے کسی شہر میں لینڈ کیا جائے اور پھر میڈیاکو بلا کر بتایا جائے کہ یہ کارروائی کیوں کی گئی؟ اس منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیکر اس میں ترمیم کی گئی۔ دس کی بجائے چار جہاز اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس پر سعودی عرب کے 15، متحدہ عرب امارات کے دو اور مصر و لبنان کے ایک ایک نوجوان نے عمل کیا۔ دوجہازوں کے ذریعہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تباہ کیا گیا ایک جہاز پینٹاگون پر گرایاگیا چوتھا جہاز کسی اہم عمارت پر نہ گر سکا۔
القاعدہ کی شوریٰ کے رکن اور شریعہ کمیٹی کے سربراہ ابوحفظ الموریطانی نے اس ترمیم شدہ منصوبے کی بھی مخالفت کی اورشرعی دلائل کی روشنی میں کہا کہ بے گناہوں کو مارنا جہاد نہیں۔ اسامہ بن لادن کا موقف تھا کہ امریکہ کی معاشی و فوجی طاقت کی علامتوں پر حملہ جائز ہے۔ ابو حفظ الموریطانی کے علاوہ القاعدہ کی شوریٰ کے دیگر ارکان مصطفیٰ حامد، سعید المصری اورسیف العادل نے بھی اس منصوبے پر اعتراضات کئے۔ ابوحفظ المصری اس منصوبے کے حامی تھے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ زیادہ مشورہ نہیں ہوا۔ بعدازاں ابو حفظ الموریطانی کو 2003ء میں ایران میں گرفتار کر لیا گیا۔ 2011ء میں انہیں موریطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ سیف العادل بھی ایران میں گرفتار ہو گئے۔ ان کا تعلق مصر سے تھا لیکن انہیں مصر کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے بارے میں یہ خبریں آئیں کہ وہ ایران میں گرفتار ہوگئے تھے پھر پتہ چلا وہ رہا ہوگئے۔
ایران اور القاعدہ کا تعلق بڑا پراسرار ہے۔ ایران نے ہمیشہ القاعدہ کی مذمت کی ہے لیکن القاعدہ نے کبھی ایران کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا۔ 1997ء میں جب اس خاکسار نے اسامہ بن لادن کا پہلا انٹرویو تورا بورا میں لیاتو انہوں نے افغانستان، پاکستان، ایران اورچین کے اتحاد کی تجویز پیش کی جس پر طالبان بڑے ناراض ہوئے۔ دوسری طرف داعش ایران کے خلاف ہے۔ داعش شام میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور امریکی میڈیا میں یہ الزام لگایا گیا کہ داعش کو بالواسطہ طور پر امریکہکی حمایت حاصل ہے۔
القاعدہ اور ایران کا تعلق پراسرار اس لئے ہے کہ نومبر 2008ء میں پشاور سے ایک ایرانی سفارتکار حشمت اللہ اطہر زادے کو اغوا کیا گیا۔ مارچ 2010ء میں یہ سفارت کار خیر خیریت سے واپس ایران پہنچ گیا۔ مئی 2011ء میں ایبٹ آباد آپریشن کےبعد اسامہ بن لادن کے اہل خانہ سے تفتیش ہوئی تو پتہ چلا کہ اسامہ بن لادن کی ایک اہلیہ خیریا بھی کافی عرصہ تک ایران میں نظر بند تھیں۔ انہیں مارچ 2010ء میں رہا کیا گیا اور وہ اسامہ بن لادن کے پاس پہنچ گئیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ انہیں حشمت اللہ اطہر زادے کے بدلے میں رہا کیا گیا۔ ایرانی حکومت نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ ان کا سفارت کار کیسے واپس آیا۔ ایک پاکستانی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر کا خیال ہے کہ خیریا اوراسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی اہلیہ امل میں اختلافات تھے اور خیریا نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کے بارے میں مخبری کی لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔
یہ پہلو بھی اہم ہے کہ امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے اسامہ بن لادن پر 1994ء میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ لیبیا کے ایک باشندے عبدالرحمان الخلیفی نے 1994ء میںاسامہ پر سوڈان میں حملہ کیا۔ گرفتاری کے بعد اس نے دعویٰ کیاکہ اسے ایرانی انٹیلی جنس نے بھیجا ہے لیکن بعدازاں پتہ چلا کہ اس کا تعلق سعودی حکومت کے حامی ایک انتہا پسند گروپ سے تھا۔ اسی سال اسامہ کی سعودی شہریت بھی منسوخ ہوئی۔ اسامہ کی ایک اہلیہ خدیجہ طلاق دے کر واپس سعودی عرب چلی گئی اور کچھ عرصے میں اسامہ کو سوڈان سے نکال دیا گیا۔ جولائی 2001ء میں افغانستان کے ایک گوریلا لیڈر گلبدین حکمت یار کے ساتھ میری تہران میں ملاقات ہوئی تو انہوں نےبتایا کہ وہ ایران اور طالبان کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش میں ہیں۔
اس ملاقات میں مرحوم قاضی حسین احمد بھی موجود تھے ۔ وہ بھی ایران اورطالبان کو قریب لانا چاہتے تھے لیکن گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں نے دنیا کو بدل ڈالا۔ ان حملوں کے ردعمل میں افغانستان اورپاکستان سے لیکر عراق اور صومالیہ تک کئی مسلم ممالک میں مسلمان ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان آئے۔ کچھ عرصہ سوات اورہری پور میں رہے پھرایبٹ آباد چلے گئے۔ زندگی کے آخری دنوں میں بھی وہ امریکہ پرایک بڑےحملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ان کی موت ایک افسانہ اس لیے بنتی جارہی ہے کہ حکومت پاکستان نے ایبٹ آباد انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو باقاعدہ جاری نہیں کیا۔
اس انکوائری کمیشن کے سامنے میں بھی پیش ہوا تھا اورمیں نے یہی عرض کیا تھاکہ ایبٹ آباد آپریشن سیکورٹی اداروں کی نااہلی تھی تاہم سیاسی و فوجی قیادت ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی سے بے خبر تھی۔ نااہلی کا اندازہ یوں لگائیں کہ 18 جنوری 2002ء کو اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف نے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ اسامہ گردے کی بیماری کے باعث مر چکا ہے۔ اکتوبر 2001ء میں افغان صدر حامد کرزئی نے ایک دفعہ پھر یہی دعویٰ سی این این پر دہرایا۔ 2006ء میں ایک فرنچ اخبار نے لکھا کہ اسامہ ٹائیفائڈ سے مر گیا۔ مئی 2009ء میں اس وقت کے صدرآصف علی زرداری نے بی بی سی کو کہا کہ اسامہ زندہ نہیں۔ ہمارے سربراہان مملکت سیکورٹی اداروں کی فراہم کردہ ناقص اطلاعات کی بنیاد پر عالمی میڈیا کو بتاتے رہے کہ اسامہ بن لادن مر چکا لیکن امریکی اسے ڈھونڈتے رہے اورآخر کار انہوں نے اسے ایبٹ آباد میں ڈھونڈ نکالا۔ اسامہ بن لادن نے اپنا آخری آڈیو پیغام 21 جنوری 2011ء کو جاری کیا۔
یہ پیغام پاکستان کے بارے میں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے بارے میں تھا۔ ایبٹ آباد انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو ناصرف سامنے لانا چاہئے بلکہ اس پر بحث ہونی چاہئے تاکہ ہمارے سیکورٹی اداروں کو پتہ چلے کہ ان سے ماضی میں کیا غلطیاں ہوتی رہیں۔ یہ رپورٹ سامنے آئے گی تو پتہ چلے گا کہ اسامہ بن لادن نے کئی سال تک ناصرف ہمارے سیکورٹی اداروں کو بے وقوف بنایا بلکہ ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹائون کے جس بڑے سے گھر میں مقیم تھا اس گھر کے پاکستانی بچوں کے سامنے ایک ’’مسکین بابا‘‘ بنا رہا۔ ایک دن اس گھر کی ایک بچی رحما نے مسکین بابا کو الجزیرہ پر دیکھا تو شورمچا دیا کہ یہ ہمارا مسکین بابا ہے لیکن اس کے والد نے اسے سختی سے چپ کرا دیا۔ مسکین بابا اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن اس کی موت کا افسانہ کسی نہ کسی کو مسکین ضرور بنا دیگا۔ اس لئے ایبٹ آباد انکوائری کمیشن رپورٹ جاری کردی جائے تو بہتر ہے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔