امریکی حملے میں بھارتی بحری عملے کی ہلاکت، مودی جی سیون میں ہرمز کا مسئلہ اٹھائیں گے
بھارتی بحری جہازوں پر امریکہ نے حملہ کیا تھا
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی گروپ آف سیون (جی سیون) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتہ کو یورپ روانہ ہوئے جہاں توقع ہے کہ امریکی حملوں میں بھارتی بحری عملے کی ہلاکت کے تناظر میں بھارت آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر محدود جہازرانی کا مطالبہ کرے گا۔
فرانس کے قصبے ایوین میں جی سیون کانفرنس میں شرکت سے قبل دونوں ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے مودی فرانس اور سلواکیہ جائیں گے۔
مودی کا سفر آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملے میں تین بھارتی بحری عملے کی ہلاکت کے چند دن بعد ہو رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ موٹر ٹینکر "ایران سے تیل لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔"
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، بھارت جی سیون سربراہی اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر اپنا مؤقف پیش کرے گا۔
انہوں نے ایک بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم چاہتے ہیں اور ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی قانون کے مطابق بلاتعطل اور محفوظ جہازرانی ہو اس لیے یہ ہمارا مؤقف ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو بحث کے لیے آئے گا اور ہم اپنے نکات سامنے رکھیں گے۔ اس کے علاوہ دیگر خدشات جو مغربی ایشیا کی صورتِ حال اور وہاں کی پیش رفت سے ہمارے لیے پیدا ہوئے ہیں۔"
نیز کہا، "اپنی سمندری برادری کی نگہداشت یعنی ان کی فلاح و بہبود ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہم اس نکتے کو دہراتے رہیں گے اور ان کی فلاح و بہبود اور سلامتی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔"
عمان میں بھارتی سفارت خانے کے مطابق خلیج میں بھارتی عملے والے تین بحری جہازوں پر اسی ایک ہفتے امریکی افواج نے حملہ کیا ہے۔
مودی جنہوں نے بھارتی عملے کی ہلاکتوں پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا ہے اور ان پر حملوں کی مذمت کرنے کے لیے یونینز کا دباؤ ہے جس کے درمیان فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ان کی ملاقات ہونے کی توقع ہے۔
تکشلا انسٹی ٹیوشن کی ایک تحقیقی تجزیہ کار ونشیکا صراف نے کہا، اس طرح کی میٹنگ سے "بھارت کا براہِ راست ٹرمپ سے سامنا ممکن ہو گا۔ اور ہم یہ جان سکیں گے کہ امریکہ غیر مسلح بھارتی عملے اور وسیع شہری انفراسٹرکچر کو متأثر کیے بغیر کس طرح اپنی ناکہ بندی نافذ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔"
جیسا کہ عمان کے ساحل پر ہونے والے واقعات نے بھارت کے لیے "حساب کتاب بدل دیا ہے" تو جی سیون سربراہی اجلاس ایران-امریکہ جنگ کے بارے میں "بھارت کے خدشات کا اظہار کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم" ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو جہاز آبنائے عبور بھی کر چکے ہیں یا اس سے گریز کر رہے ہیں، وہ خطرے کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے بھارت کو اب پوری سمندری گذرگاہ میں محفوظ راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم پلٹ کر دیکھیں تو جی سیون بنیادی طور پر 1970 کے عشرے میں تیل کے عالمی بحران اور اس دور کے معاشی بحران کے بعد سامنے آیا۔ اس کا بنیادی مقصد معاشی پالیسی میں رابطہ کاری اور عالمی بحرانوں سے نمٹنا ہے۔"
فرانس میں پیر کو شروع ہونے والی جی سیون کانفرنس بھارت کے لیے خلیجی ممالک سے گفتگو کا بھی ایک موقع ہو گی۔
-
وزیرِ اعظم پاکستان: امریکہ اور ایران امن معاہدے پر 24 گھنٹوں میں دستخط متوقع ہیں
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے ...
پاكستان -
ایران: اسلام آباد یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے
ہفتہ کو سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ...
بين الاقوامى -
ایرانی وزیر خارجہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کےلیے کل اتوار کو اسلام آباد پہنچیں
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ ...
مشرق وسطی