.

اصل دھندہ کیا ہے؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’ایک وقت تھا جب انٹرنیٹ ڈرائنگ روم میں رکھے اس کمپیوٹر تک محدود تھا جسے ڈائل اپ موڈیم کے ذریعے کنکٹ کیا جاتا تو بیپ کی آواز سے لاؤنج میں بیٹھے سب افراد کو معلوم ہو جاتا‘ انٹرنیٹ کنکٹ ہو گیا ہے مگر اب آئی پیڈز اور آئی فونز کی بدولت انٹرنیٹ کی یہ دنیا ہمارے بچوں کے ننھے ہاتھوں میں سما گئی ہے۔ اب والدین بچوں پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ اس لئے آن لائن فحش مواد کی باآسانی دستیابی کے باعث ہمارے بچوں کی معصومیت چھن گئی ہے میں آپ کو اخلاقیات کا درس نہیں دے رہا۔ میں آج ایک حکمران کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک باپ کی حیثیت سے آپ سے مخاطب ہوں میرا ایمان ہے فحاشی کے خلاف جنگ کا وقت آگیا ہے…‘‘ آپ کے خیال میں یہ اقتباس کس کی تقریر کا ہو سکتا ہے؟

پہلی بار یہ الفاظ دیکھ کر گمان ہوا شاید جماعت اسلامی کے کارکنوں نے مصر کے معزول صدر مر سی کی کسی پرانی تقریر کا حوالہ ڈھونڈا ہے‘ پھر سوچا ترکی کے صدر عبداللہ گل یا وزیراعظم طیب اردوان سے بھی اس طرح کے تنگ نظر اور دقیا نوسی افکار کی توقع کی جا سکتی ہے مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خطاب کسی انتہا پسند مسلمان کا نہیں بلکہ جدید اور متمدن برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی تقریر ہے جو انہوں نے آن لائن فحاشی کے خلاف سخت ترین اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کی تو حیرت کی انتہاء نہ رہی۔ 19 ملین برطانوی گھرانے کسی نہ کسی انداز میں انٹرنیٹ تک رسائی کے حامل ہیں برطانوی اخبار ڈیلی میل نے چند سال پہلے ایک چونکا دینے والی رپوٹ شائع کی کہ 10 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ایک تہائی برطانوی بچے پورن موویز دیکھ چکے ہوتے ہیں اس سروے کے دوران 10 میں سے 6 برطانوی والدین نے کہا کہ وہ اس گمبھیر صورت حال پر پریشان ہیں بس پھر کیا تھا پورے برطانیہ میں پورنوگرافی کے خلاف مہم شروع ہو گئی اس مہم کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ڈیوڈ کیمرون نے فحاشی کے خلاف جن عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے ان کے مطابق تمام انٹرنیٹ صارفین کو متعلقہ انٹرنیٹ پر وائیڈرز کی جانب سے فیملی فرینڈلی فلٹرز کی سہولت فراہم کی جائے گی والدین خود کال کر کے اس فلٹر کو ڈس ایبل کرالیں تو ان کی مرضی وگرنہ ان فلٹر زکے باعث کوئی بچہ اپنے لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ پر قابل اعتراض اورفحش تصاویر یا فلمیں نہیں دیکھ سکے گا۔

اسی طرح تمام موبائل فونز پر بھی انٹرنیٹ کنکٹ فلٹرز لگائے جائیں گے۔گوگل اور یاہو جیسے سرچ انجنوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ پورن یا سیکس کے الفاظ کو ناکارہ بنا دیں اوراس طرح کی سرچ پر کو ئی نتائج ظاہر نہ کریں۔ پورنو گرافی محض برطانیہ کا درد سرنہیں ہے بلکہ پوری دنیا اس یلغار کی لپیٹ میں ہے۔

فحاشی ہر دور میں ہر سماج کا حصہ رہی ہے مگر اس کے مقابلے میں انسانی معاشرہ جس قدرآج لاچار و بے بس ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ فحش کتاب کو خریدنے نہ خریدنے کا اختیار آپ کو اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ گھر لانے کے بعد بھی بچوں سے چھپانے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے قابل اعتراض فلموں کے ضمن میں یہ گنجائش موجود ہے کہ بچوں کی پہنچ سے دُور رکھی جائیں یہاں تک کہ کسی نہ کسی حد تک ٹی وی چینلز کی بابت بھی یہ توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی چینل عریانی و فحاشی کو فروغ دے رہا ہے تو آپ اسے نہ دیکھیں کوئی اور چینل لگا لیں بچوں کے کمروں میں ٹی وی نہ رکھیں مگر نونہالان قوم کو انٹرنیٹ کی غلاظت و گندگی سے بچانے کی کوئی تدبیر نہیں۔

ہمارے ہاں جب سے تھر ی جی کا زمانہ آیا ہے، ہر نوخیز نوجوان کو پورن موویز تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ آپ کا بچہ واش روم میں‘ اپنے بیڈ روم میں یا آپ کی نگاہوں کے سامنے بستر پر لیٹا کیا گل کھلا رہا ہے‘ ہرگزمعلوم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اباحیت و بے شرمی کا سیلاب اخلاقی‘ سماجی اور مذہبی قدروں کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے جا رہا ہے۔اس صورتحال پر پوری دنیا تشویش کا شکار ہے۔ امریکی بچوں کا بچپن محفوظ بنانے کی کوششوں کا آغاز 1996ء میں اس وقت ہوا جب امریکی حکومت نے Communication Decency Act پاس کرکے بچوں کو فحش ٹیکسٹ میسج یا فحش تصویر بھیجنے کو قابل سزا جرم قرار دیا۔

چند سال قبل جب محسوس ہوا کہ فحاشی کی یلغار کے آگے باندھا گیا ۔ یہ بند ناتواں اور ناکافی ہے تو 1998ء میں بل کلنٹن نے بچوں کی معصومیت کوآلود ہ ہونے سے بچانے کے لئے Child Online Protection ایکٹ جاری کیا اس سے بھی کام نہ چلا اور بچوں کے ذہن پراگندہ ہونے کا سلسلہ جاری رہا تو 2000ء میں Child Internet Protection Act کے تحت نئی قانون سازی کی گئی اس ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز کو فلٹرنگ سوفٹ ویئر کی سہولت دینے کا پابند کیا گیا امریکہ جیسے آزاد خیال معاشرے میںہر سال فحاشی کے جرم میں اوسطاً 6500 افراد گرفتار ہوتے ہیں اور 1500 کو سزائیں ہوتی ہیں ۔

آسٹریلوی حکومت اس آلودگی سے بچاؤ کے لئے کئی سال پہلے Australian Commnication And Media Authority کے نام سے ادارہ بنا چکی ہے۔ا سپین میں پورنو گرافی کے الزام میں ہر سال سینکڑوں مقدمات درج ہوتے ہیں۔ روس میں گزشتہ برس انٹرنیٹ بلاک لسٹ کے نام سے ایک قانون پاس ہوا ہےگزشتہ سال بھارتی سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ پر دستیاب تمام فحش ویب سائٹس بند کرنے کا حکم دیا اس وقت دنیا بھر کے 97 ممالک میں فحاشی کے خلاف قوانین موجود ہیں مگرجب ہمارے ہاںفحاشی کے خلاف آوازیں اٹھتی ہیں تومیرے ملک کے آزا دخیال دانشور مذاق اڑاتے ہیں وہ منٹو کے افسانوں کو گھسیٹ لاتے ہیں اور بات کا رُخ غربت‘ مہنگائی اور ملاوٹ کی طرف موڑ دیتے ہیں کہ یہ بھی تو فحاشی ہے۔

میرے ملک کے لبرل فاشسٹ کہتے ہیں کہ فحاشی کی کوئی تعریف نہیں کی جاسکتی فحاشی پر روک ٹوک نہیں لگائی جا سکتی ۔فحاشی تو اذہان قلوب میں ہوتی ہے‘ فحاشی تو آلودہ نگاہوں اور پراگندہ ذہن میں ہوتی ہے ان کا خیال ہے کہ تعفن زدہ گٹر پر ڈھکن دینے کے بجائے اسے کھول دیا جائے‘ آن لائن پورنوگرافی تک رسائی کا حق نہ چھینا جائے کہ یہ اظہار رائے کی آزادیوں کے منافی ہے جہاں جہاں بھی فحاشی کے خلاف حکومتوں نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اقدامات کئے ایسے لبرل فاشسٹوں نے یہی منطق پیش کی‘ امریکہ میں تو معاملہ عدالت تک گیا مگر فیصلہ یہ ہوا کہ پتھروں کو باندھ کر رکھنا اور کتوں کو کھلا چھوڑ دینا مسئلے کاحل نہیں۔

پورن ویب سائٹس سالانہ اربوں ڈالر کما رہی ہیں جس طرح فلمی ستارے ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی فلم میں ادا کاری کے جوہر دکھانے کے لئے پیسے لیتے ہیں اسی طرح پورن اسٹار ہوتے ہیں اس انڈسٹری میں جو ایسے مناظر فلمانے کے عوض بھاری معاوضہ لیتے ہیں جنسی ادویات فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں ایسی فلموں کواسپانسر کر تی ہیں‘ 2000ء میں پورن ڈی وی ڈیز اور سی ڈیز کی فروخت سے امریکہ 6 اب ڈالر سالانہ کماتا تھا مگر اب آن لائن پورن انڈسٹری کے باعث امریکی کمپنیوں کا سالانہ منافع 37 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔عالمی سطح پر پورن انڈسٹری کا حجم 97 بلین ڈالر بتایا جاتا ہے۔اس ملٹی بلین ڈالر انڈسٹری میں ایک پاکستانی آئی ٹی کمپنی کا نام بھی آتا ہے جو ان دنوں جعلی ڈگریوں کے دھندے کے باعث شہ سرخیوں میں ہے (حالانکہ اس کمپنی نے مالکان نے اس معاملے میں ملوث ہونے کی پُرزور تردید کی ہے) مگر اس گندے دھندے کا ذکر نہ تو امریکی اخبار کی رپورٹ میں ہے اور ناں ہی پاکستانی میڈیا نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.