.

ہم نے سعودی عرب کو سمجھنے میں غلطی کی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمیں یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ ہم پرائی آگ میں نہیں کود سکتے، ہمارا جواب یہ ہونا چاہئے تھا کہ اے ہمارے محسن اور برادر ملک! بارہ برس کی دہشت گردی کی جنگ نے ہمارا کچومر نکال دیا ہے، ہماری معیشت کا جنازہ اٹھ چکا اور ہمارا انجر پنجر ہل چکا، اس لئے ہم آپ کی مدد کے قابل نہیں رہ گئے۔

خدا کی پناہ! ہم نے سعودیہ کے مسئلے کو سمجھنے میں فاش غلطی کی، چلئے، اب ہی یہ غلطی مان لیں اور ایک بار پھر ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف سعودیہ جائیں اور شاہ سلمان سے کہیں کہ دنیا نے ہمارا بھرکس نکال دیا، ہم کسی کھیت کی مولی نہیں ہیں، وہ دن لد گئے جب ہم نعرے لگاتے تھے کہ پاکستان عالم اسلام کا قلعہ اور خلیج کے دہانے کا چوکس چوکیدار ہے۔

آج سعودی عرب نشانے پر ہے۔ اس کے ساتھ وہ باریک کھیل شروع ہو گیا ہے جو پاکستان،عراق، افغانستان، مصر، الجزائر وغیرہ میں کھیلا جا چکا۔ اس کھیل کا موجد رچرڈ ہالبروک تھا، وہ مرنے کو مرگیا مگر اپنے جراثیم پیچھے چھوڑ گیا، ہالبروک وہ ذات شریف ہے جس نے بوسنیا کے اس طرح ٹکڑے کئے جیسے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کئے گئے تھے۔ عثمانی خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو عالمی سطح پر یہ اصطلاح استعمال کی گئی کہ اس خطے کی بالقنائزیشن کی جا رہی ہے مگر جب رچرڈ ہالبروک نے بوسنیا کو ٹکڑوں میں بانٹا تو دنیا نے بالقنائزیشن کی بجائے ہالبرو کنائزیشن کی نئی اصطلاح ایجاد کی۔ یہ شخص قوموں کو رنگ و نسل، علاقے اور صوبے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سائنس کا پی ایچ ڈی تھا، مسلم ممالک میں اس نے فرقہ واریت کے بیج بوئے، سنی، شیعہ کی تقسیم پیدا کی، کافر بنانے کی فیکٹریوں کا بے دریغ لائسنس دیا۔ ایک خدا، ایک رسول ﷺ، ایک قرآن پر ایمان رکھنے والے ایک دوسرے کے خون کی پیاسے بنا دیئے گئے، مسجدوں، مزاروں، امام بارگاہوں، چرچوں، سکولوں پر حملوں اور جوابی حملوں کے ذریعے خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کر دی گئی۔

یہ آگ اب سعودی عرب تک پھیل گئی ہے، پہلے اس ارض مقدس کو حوثیوں کے خلاف صف آرا کیا گیا، سعودی عرب دہائی دیتا رہ گیا کہ اس کے وجود کو خطرہ ہے، حرمین شریفین کو خطرہ ہے مگر ہم نے اس کا مذاق اڑایا۔ ہم نے سعودی ایس او ایس پیغام کو ڈی کوڈ کرنے میں سنگین غلطی کا ارتکاب کیا، ہماری پارلیمنٹ نے بھی سعودیہ کو ٹھینگا دکھایا اور ہماری سول سوسائٹی نے بھی سعودیہ کے لتے لئے۔ ہم حال ہی میں سعودیہ کے اڑھائی ارب ڈالر ڈکار چکے تھے، ہماری جان کڑکی میں آئی ہوئی تھی تو ہم نے سعودیہ میں پناہ ڈھونڈھی، اب ہم مشکل سے نکل چکے تھے اور میں سعودیہ کی کوئی ضررو ت نہ تھی، اس لئے ہم نے سعودیہ کی درخواست کو در خور اعتنا نہ سمجھا۔

سعودیہ کا کیس خراب کرنے والوں میں وہ مذہبی طبقات پیش پیش تھے جو سال ہا سال سے پیٹرو ڈالر پر پل رہے ہیں، جن کی گردنیں موٹی اور توندیں باہر نکل آئی ہیں، جنہوں نے کاغذی مدرسے کھولے اور اپنے بینک اکاﺅنٹ بھر لئے۔ بھلا کیا جاتا تھا سینیٹر ساجد میر اور مولانا فضل الرحمن کا اگر وہ پارلیمنٹ کی قرارداد کے سامنے دیوار بن جاتے اور قوم کو سمجھاتے کہ سعودیہ کی اصل ضرورت کیا ہے اور ہما را کردار کیا ہونا چاہئے لیکن یہ بھلے مانس ایوان میں خاموش رہے اور باہر سڑکوں پر جلوس نکالنے لگ گئے، قوم کے فیصلے سڑکوں پر تو نہیں ہوتے۔ میرا خیال ہے کہ سعودیہ کو دوست دشمن میں تمیز کرنے کا ہنر آ گیا ہو گا۔

سعودی عرب میں دہشت گردی کی حالیہ واردات کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے اور دعا یہ ہے کہ یہ پہلی واردات نہ ہو، آخری ہو، سعودی عرب کو اللہ اس فتنے سے بچائے، وہاں حرم کعبہ ہے اور حرم نبوی ہے، لاکھوں زائرین صبح شام عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ ابھی رمضان کی آمد آمد ہے اور پھر حج کا سیزن شروع ہو جائے گا، اس لئے ہمیں گڑگڑا کر دعا کرنی چاہئے کہ اللہ اس سرزمین کو اپنی پناہ میں رکھے۔

کہنے کو تو ہم نے کہہ دیا کہ ہم پرائی آگ میں نہیں پڑتے، اس سے سعودی عرب کا دل بھی دکھا اور روح بھی زخمی ہوئی مگر خدا لگتی بات یہ ہے کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے قابل ہی نہیں رہے، دہشت گردی نے ہمارا بھرکس نکال دیا، ہم ویسے ہی اتراتے پھریں، ڈینگیں مارتے پھریں تو اور بات ہے ورنہ ہم تو ہشت پا کے شکنجے میں ہیں، ہمیں تو لندن اور کراچی کے دو اصحاب للکار رہے ہیں کہ کسی چھڑی کا ڈر نہیں۔ واقعی کسی کو اس چھڑی سے کیا ڈر ہو گا۔ اس چھڑی میں تو ہم سو چھید کر چکے۔

بات بے بات ہم اس چھڑی پر برستے ہیں کہ اس نے مارشل لا لگا کر ملک کو تباہ کر دیا مگر کوئی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنا پسند نہیں کرتا کہ دوہزار آٹھ کے بعد جمہوریت بحال ہو گئی، عدلیہ بحال ہو گئی، میڈیا آزاد ہو گیا تو ہم نے اس ملک کا حال کیا کر دیا، نہ کھانے کو دو وقت کی روٹی، نہ پڑھنے کو کوئی سکول، نہ تن ڈھانپنے کو کپڑا، نہ دوا دارو۔ شاعر نے کہا تھا کہ گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن، اب ان پیروںکے گھر بھی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ایک گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے جو زمین سے آسمان تک چھایا ہوا ہے۔

امت مسلمہ پر کئی بار برا وقت آچکا ہے، کبھی طائف، کبھی احد، کبھی کربلا ، کبھی سقوط بغداد، کبھی سقوط غرناطہ اور کبھی سقوط ڈھاکہ۔

اب ہم کسی سقوط کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سعودیہ کے لئے ہماری جانیں حاضر ہیں، یہ سعودیہ پر احسان نہیں ، حرمین شریفین کی سرزمین ہمیں پکار رہی ہے، یہ پکار رہی ہے کہ اسے فرقہ واریت کے میدان جنگ میں تبدیل نہ کریں۔ کوئی ہے جو حوثیوں سے نبٹے، داعش سے نبٹے، بوکوحرام سے نبٹے،طالبان سے نبٹے، خود کش بمباروں سے نبٹے، را سے نبٹے، موساد اور سی آئی اے سے نبٹے، کیا مسلم دنیا میں کوئی ایک خالد بن ولید نہیں، کوئی ایک صلاح الدین نہیں۔ کوئی تو ہوگا جو ان فتنوں کا سر کچلے گا۔

یہاں ذکر پھر رانا نذالرحمن کا.... وہ بوڑھے آدمی ہیں فون سنتے سنتے بے حال ہو گئے ہیں، ان کی درخواست ہے کہ جدوجہد آزادی کے قافلہ سالار مستری محمد صدیق پر کتاب کے حصول کے لئے انہیں بذریعہ خط اپنا پتہ بھیج دیجئے، وہ کتاب رجسٹری کر دیں گے، اپنا خط اس پتہ پر بھیجئے۔ 32- B، ٹیک سوسائٹی بالمقابل ڈاکٹرز ہسپتال، کینال بینک لاہور۔ انہوں نے نوائے وقت کا پھر شکریہ ادا کیا ہے کہ اس کی وساطت سے وہ تحریک آزادی کے اسلاف کا لٹریچرعوام تک پہنچانے کے قابل ہو گئے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.