یہ قیادت کاشارٹ فال ہے حضور!

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

رعایا گرمی کی شدت سے مر رہی تو کیا ہوا حضور!آپ توخوابوں کے سوداگر ہیں ،کوئی نیا خواب دکھا دیجئے۔جیسا کہ کراچی میں مصنوعی بارش برسانے کا خواب۔نت نئے پاور پلانٹ لگانے کا خواب۔آخر اس قوم نے گزشتہ جمہوری حکومت کے پانچ برس بھی تو انہی خوابوں کے سراب میں روتے ہنستے گزاردیئے۔اگر نئے خواب دستیاب نہیں ہیں تو کیا ہوا ،پُرانے خواب ہی نئی پلکوں پر سجا دیجئے، یہ لوگ ایک بار پھر بہل جائیں گے۔تھر کول میں کوئلے کے بے بہا ذخیروں کا خواب کیسا دلکش تھا،پلک جھپکنے میں ہی پانچ برس گزر گئے۔ 9600 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیںاگر ان سے بجلی بناناچاہیں تو مسلسل 500 سال تک سالانہ 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیداہو سکتی ہے۔ جنوبی افریقہ کی کمپنی coal to liquid اس کوئلے سے ڈیزل بناناچاہتی ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق ایک کیوبک فٹ کوئلے سے ایک بیرل ڈیزل بن سکتا ہے۔ گویا یہاں سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل بن سکتا ہے اور وہ بھی صرف 30 ڈالر فی بیرل کے حساب سے جبکہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل ہے۔ اس کوئلے سے لاکھوں ٹن کھاد بنائی جا سکتی ہے،امونیا اور میتھین گیس تیار ہو سکتی ہے۔

ایک بار تو ہم کنفیوژ ہی ہو گئے کہ اس کوئلے کا کریں توکیا کریں ۔ظاہر ہے کسی کنگلے کی لاٹری لگ جائے تو اس کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ رقم خرچ کہا ں کرے۔آخر فیصلہ ہوا کہ تھرکول فیلڈ کو 8بلاکس میں تقسیم کیا جائے اور ان میں سے ایک بلاک ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے حوالے کر دیا جائے تاکہ اس سے بجلی بنائی جا سکے اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو۔بتایا گیا کہ اس ایک بلاک میں بھی 2 ارب ٹن کوئلہ موجود ہے جس سے مسلسل 30 سال تک سالانہ 30 ہزار میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ اور یہ بجلی ہوگی بھی بہت سستی ،2 سے 4 روپے فی یونٹ۔ جنوری 2014ء میں نواز شریف اور آصف زرداری نے تھرکول پروجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح مشترکہ طور پر کیا تو اسے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا گیا۔میں نے ایک بار ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے پوچھا، اس منصوبے کا کیا ہوا؟ کہنے لگے، مجھے یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ میں زیرزمین کوئلے میں پائپ لگا کر اسے سلگائوں اور گیس بنائوں تاکہ اسے زمین سے باہر نکالے بغیر ہی ٹربائن چلائی جا سکے۔گیس بنانے اور ٹربائن چلانے کا عملی مظاہرہ 2011ء میں ہو چکا اور اس کے بعد منصوبہ التواء کا شکار ہے کیونکہ فنڈز دستیاب نہیں ۔دھت تیری کی۔نیلم جہلم پاور پروجیکٹ ،پورٹ قاسم پاور پروجیکٹ ،گڈانی پاور پلانٹ اور چند دیگر کاغذی منصوبوں کی کہانی بھی تھرکول پروجیکٹ سے زیادہ مختلف نہیں۔

اب لوڈ شیڈنگ کے ستائے اور گرمی سے تنگ آئے عوام کو لبھانے کے لئے کسی بڑے اور فوری خواب کی اشد ضرورت ہے۔میرے خیال میں اس صورتحال سے نکلنے کا تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف فوری طور پر گلگت بلتستان جائیں اور دیامر بھاشا ڈیم کا فیتہ کاٹ آئیں ۔اس میں حرج ہی کیا ہے۔آخر جنرل پرویز مشرف اور یوسف رضا گیلانی نے بھی اسی طرح پذیرائی حاصل کی تھی۔ 2006ء میں جنرل پرویز مشرف نے دیامر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ 6.5ارب ڈالر کی لاگت سے 2015ء میں مکمل ہو گا اور اس سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔ 6سال بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اکتوبر 2011ء میں ایک بار پھر اس منصوبے کا افتتاح کیا اور عوام کو یہ مژدہ جانفزا سنایا کہ 12ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا یہ ڈیم 2022ء میں مکمل ہو گا اور اس سے لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ ہو جائے گا۔

اس میں قباحت ہی کیا ہے اگر آج وزیر اعظم نوازشریف اس منصوبے کا تیسری بار سنگ بنیاد رکھتے ہوئے عوام کو بتائیں کہ جس ڈیم کی مجموعی لاگت 12ارب ڈالر تھی اس کے لئے زمین کے حصول کی غرض سے ہم نے 15ارب مختص کئے ہیں اگرچہ ہم نے گزشتہ بجٹ میں بھی دیامر بھاشا ڈیم کے لئے زمین حاصل کرنے کی نیت سے رقم مختص کی تھی مگر وہ فنڈز اس سے زیادہ اہم منصوبوں پر خرچ ہوگئے مگر اب ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ توانائی بحران کا خاتمہ بھی ضروری ہے لہٰذا آپ جمع خاطر رکھیں 2028ء تک یہ منصوبہ ضرور مکمل ہو جائے گا۔یہ اور بات ہے کہ 2028ء تک جب دیامر بھاشا ڈیم مکمل ہو گا اور نیشنل گرڈ میں 4500 میگا واٹ کا اضافہ ہو گا،ہمارے ملک میں بجلی کی طلب 22000 میگا واٹ سے بڑھ کر 50000 میگا واٹ ہو چکی ہو گی۔مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کی کھپت اور طلب سپر سونک ا سپیڈ سے بڑھ رہی اور بجلی کی پیداوار کی رفتار کچھوے سے بھی کم ہے۔یہ جاننے کے لئے کسی اعداد و شمار کے جادوگر کی ضرورت نہیں کہ اگر ہمارے ہاں بجلی کی طلب سالانہ 10 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے تو پاور جنریشن میں سالانہ کم از کم 15 فیصد اضافہ کر کے ہی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ادارے 10 فیصد اضافہ بھی نہیں کر پارہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ برس 73435 گیگا واٹ بجلی بنائی گئی جبکہ گزشتہ برس 71712 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوئی یعنی گزشتہ سال کی نسبت بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہونے کے بجائے 2.35 فیصد بجلی کم پیدا کی گئی۔اب یہ بات تو گلی محلے کا کوئی بھی آئن اسٹائن بتا سکتا ہے کہ اس رفتار سے چلتے رہے تو ہر سال شارٹ فال میں اضافہ ہوگا ،کمی نہیں ہوگی۔وزیر اعظم نے 16 اپریل 2014ء کو نندی پور پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا ،اس افتتاح کے بعد صرف ایک ٹربائن چلی اور وہ بھی تین دن اس کے بعد 13 ماہ تک یہ پلانٹ بند پڑارہا ۔ایک مرتبہ پھر چلانے کی کوشش ہوئی اور اس بار 28 دن چلنے کے بعد پلانٹ خراب ہو گیا۔ 83 ملین ڈالر لگا کر اس پلانٹ کو گیس پر منتقل کر چکے تو نیپرا کے ذریعے معلوم ہوا کہ گیس تو پہلے سے چل رہے پاور پلانٹس کو نہیں مل رہی تو اس نئے پلانٹ کو کیسے مہیا کی جائے۔

دنیا کے بیشتر ممالک کے پاس 40 فیصد دریائی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجو د ہے ۔بھارت کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اس سے بھی زیادہ ہے۔ مگر توانائی کے شدید بحران سے دوچار پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف 13 فیصد ہے باقی پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔ جس ملک میں آخری ڈیم 40 سال پہلے بنایا گیا ہو،جہاں پانی کے نام پر سیاست ہوتی ہو،وہاں توانائی میں خود کفالت کا خواب کیسے پورا ہو سکتا ہے؟چلیں اس پیچیدہ اور تکنیکی بحث کو چھوڑیں ایک سادہ اور آسان سا کام کرتے ہیں ۔واپڈا یا وزارت پانی وبجلی کی ویب سائٹ پر جا کر چیک کریں ان دنوں بجلی کی مجموعی طلب کتنی ہے؟ 22000 میگا واٹ،اس کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہمارے ہاں بجلی کی پیداوار کے لئے نصب تمام پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت کتنی ہے؟ تقریباً 20000 میگا واٹ ،تو پھر یہ شارٹ فال کیوں ہے؟؟؟حضور ! یہ بجلی کا شارٹ فال نہیں ، گڈ گورننس کا شارٹ فال ہے، قیادت کا شارٹ فال ہے

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size