ایک عاجزانہ تجویز

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

ایک سال قبل یعنی 2014ء کے اگست کے مہینے کو یاد کیجئے۔ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور محترم عمران خان نیازی ، مقبولیت کے بے لگام گھوڑے پر سوار ، لندن پلان کے تحت ، لاہور سے اسلام آباد پر یلغار کے لئے نکلے۔ تب اسلام آباد کے حاکموں کی حالت غیر ہوگئی تھی۔ مقبولیت تو زمین بوس تھی ہی ، ماڈل ٹائون کیس کی تلوار بھی سروں پر لٹک رہی تھی۔ بدحواسی کی وجہ یہ بھی تھی کہ ملکی اور عالمی مقتدر قوتوں کی طرف سے دھرنا دینے والوں کی پشت پناہی راز نہیں رہی تھی۔ شیخ رشید احمد قسمیں کھارہے تھے اور قادری صاحب نے قرآن ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا کہ عیدسے قبل حکومت کی قربانی کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین تالیاں بجانے اور روٹی شوٹی کھلانے کیلئے ساتھ تھے اور یہ افواہ بھی عام تھی کہ اسکرپٹ کے آخری حصے کے طو ر پر آخری وار الطاف حسین صاحب اور آصف علی زرداری صاحب کریں گے اور اگر تب بھی قربانی میں کوئی کسر رہ گئی تو عدلیہ کی چھری سے اسے ذبح کردیا جائے گا۔

موت کو سامنے دیکھ کر انسان بخار برداشت کرنے پر بخوشی آمادہ ہوجاتا ہے چنانچہ وزیراعظم پہلے مرحلے میں عدالتی کمیشن کے قیام پر آمادہ ہوئے ۔ پھر مزید رعایتیں دینے کو تیار ہوئے اور ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ پنجاب کی حکمرانی کی قربانی پر بھی آمادہ ہوگئے تھے ۔ یہی وقت تھا جب ہم جیسے عمران خان صاحب کی منتیں کرتے رہے کہ وہ حکومت سے زیادہ سے زیادہ منوا کر دھرنوں سے باز آجائیں ۔ ہم تجویز دیتے رہے کہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے خودمختار عدالتی کمیشن کے ساتھ ساتھ آزاد الیکشن کمیشن کا مطالبہ منوایا جائے، انتخابی نظام میں اصلاحات کا مقصد حاصل کرلیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ احتساب کا شفاف نظام تشکیل دینے کا دیرینہ مطالبہ منوا لیا جائے ۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ اس وقت وزیراعظم صاحب ان سب مطالبات کو ماننے پر تیار ہوگئے تھے بلکہ ان سے اور بھی بہت کچھ منوایا جاسکتا تھا لیکن بدقسمتی یہ رہی کہ عمران خان صاحب کو اسکرپٹ میں ان کی وزارت عظمیٰ دکھائی گئی تھی اور وہ وزیراعظم کی رخصتی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہورہے تھے۔ دوسری طرف قادری صاحب کا ہدف کچھ اور جبکہ اسکرپٹ رائٹرز کا کچھ اور تھا۔

چنانچہ اپنی مقبولیت کے نشے میں مست ہوکر انہوں نے یلغار اور دھرنوں کو ہی ضروری سمجھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کو کھربوں کا نقصان ہوا۔ فیصل آباد، ملتان اور اسلام آباد میں ایک درجن سے زائد عمران خان کے چاہنے والوں کی زندگیوں کے چراغ گل ہوگئے ۔ سیاست بے وقعت ہوئی ۔ سیاست اور صحافت سے بیک وقت شائستگی رخصت ہوگئی ۔ بدتمیزی اور قانون شکنی کا کلچر عام ہوا۔ آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے میدان میں آنے والے ، سول نافرمانی جیسی حرکتیں کرنے لگے ۔ پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملوں سے عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی ہوئی۔ چین کے وزیراعظم کو دورئہ پاکستان ملتوی کرنا پڑا۔ میڈیا کو بری طرح تقسیم اور ذلیل کر دیا گیا ۔ عدلیہ کو گالیاں پڑوائی گئیں۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان خود عمران خان کی ذات اور ان کی جماعت کو پہنچا۔ ان کی ذات میں جو خامیاں دھرنوں سے قبل صرف ہم جیسے نقاد وں کو نظر آرہی تھیں، پوری دنیا کے سامنے آگئیں ۔ وہ جاوید ہاشمی کی صحبت سے محروم ہوکر شیخ رشید احمد کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ بن گئے ۔

وہ اور ان کے ترجمان دھرنوں کے نتیجے میں مشہور تو ہوگئے اور اس پر وہ بہت خوش بھی ہیں لیکن شہرت کے ساتھ عزت باقی نہ رہی۔ وہ پرویز خٹک جنھیں دھرنوں سے قبل پختونخوا میں تبدیلی کا قائد سمجھا جارہا تھا، اپنے رقص کے حوالے سے شہرت پانے لگے ۔ وہ مراد سعید جو پہلے تبدیلی اور نوجوان قیادت کی علامت سمجھے جاتے تھے، مشہور تو بہت ہوئے لیکن مخالفین کے ساتھ بدتمیزی اور غلط بیانی کے لئے ۔ خفیہ قوتوں کی مزاج شناس اور ایٹمی صلاحیت کی محافظ سمجھی جانے والی شیریں مزاری عامیانہ زبان کے لئے مشہور ہوئیں۔ الغرض نہ نوازشریف کی حکومت رخصت ہوئی ، نہ پنجاب میں تبدیلی آئی ، نہ احتساب ہوا اور نہ انقلاب آیا۔ چنانچہ پہلے دھرنے کے خاتمے اور پھر پارلیمنٹ میں واپس جانے کے بہانے ڈھونڈے جانے لگے ۔ وہ پارلیمنٹ جسے دھرنوں کے دوران بار بار جعلی کہا گیا میں، وہاں ایک دن خود پی ٹی آئی کے ممبران جعلی بن کر جاکر بیٹھ گئے ۔

یہ ممبران اسمبلی جو دھرنوںسے قبل سینے تان کر مخالفین کو للکارا کرتے تھے ، جب پہلی مرتبہ اس ’’جعلی اسمبلی‘‘ کے اندر جارہے تھے تو ایسے لگ رہے تھے کہ جیسے ایان علی ، عدالت میں پیشی کے لئے آرہی ہو۔ ایک سال کی اس شرمناک سیاسی تاریخ کے بعد جب پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی بلدیاتی انتخابات کے ضمن میں پختونخوا کے عوام کے پاس گئے تو انہیں اس صوبے کے غیرت مند اور اقدار کے شیدائی عوام نے مسترد کردیا۔ پرویز خٹک صاحب عملاً نوشہرہ میں ہارے ہیں۔اسپیکر اسد قیصر صاحب اپنے گائوں میں، وزیرتعلیم محمد عاطف اپنے گائوں میں ، مراد سعید اپنے گائوںمیں ، شہریار آفریدی اپنے گائوں میں اور شاہرام ترکئی اپنے گائوں میں ہارے ۔ علیٰ ہذہ القیاس۔ دوسری طرف وہاں پی ٹی آئی کی نگرانی میں ایسی بدترین دھاندلی ہوگئی کہ اس کی اتحادی جماعت اسلامی بھی چیخ اٹھی اور اب جب اس صوبے میں اس جماعت کے لوگ عام انتخابات میں دھاندلی کی بات کرتے ہیں تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ کہاں وہ بلندی اور کہاں یہ پستی۔

دھرنوں کی اس کہانی کو اس موقع پرمیں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کے زخموں پر نمک پاشی کی غرض سے نہیں بلکہ ایک خاص تناظر میں تازہ کیا ۔ اب الحمد للہ ہماری سلامتی کے ادارے اس کے سربراہوں کی بہتر حکمت عملی اور جوانوں کی قربانیوں کی وجہ سے انتہا کی حد تک مقبولیت کی نعمت سے بہرہ ور ہوچکے ہیں ۔ ہر طرف سے ان اداروں کو شاباش دی جارہی ہے ۔ وزیراعظم کی مقبولیت زمین بوس ہوچکی ہے تو آرمی چیف کی مقبولیت آسمان سے باتیں کررہی ہے اور عوام انہیں مسیحا سمجھنے لگے ہیں۔ وفاق میں مسلم لیگ اور جے یو آئی کی ، سندھ میں پیپلز پارٹی کی ، بلوچستان میں بلوچ اور پختون قوم پرستوں کی ، پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت کا ایک دوسرے کے ساتھ نااہلی اور بے حسی کا میچ زوروں پر ہے ۔

سچ تو یہ ہے کہ سیاستدانوں سے لوگ بری طرح مایوس ہوگئے ہیں اور جمہوریت پر سے عام آدمی کا یقین اٹھنے لگا ہے ۔ چنانچہ اس صورت حال میں ایک بار پھر خوشامدی عناصر میدان میں آگئے ہیں اور قدم بڑھائو راحیل شریف ، قوم تمہارے ساتھ ہے کا نعرہ بلند کرکے فوج کو اقتدار پر قابض ہونے یا پھر سیاستدانوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ جس سے خوفزدہ ہوکر آصف علی زرداری صاحب جواب میں اینٹ سے اینٹ بجانے جبکہ الطاف حسین صاحب قیامت برپا کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب دونوں طرف آنکھ مار رہے ہیں لیکن واقفان حال جانتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی بھی خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں ۔ فوجی قیادت سیاست میں دخیل ہونے کا بظاہر کوئی ارادہ نہیں رکھتی لیکن بعض اوقات ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امن و امان کے قیام کے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے وہ شاید سیاست کو جرم سے پاک کرنے کی خاطر احتساب کابیڑہ اٹھانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے ۔ ایسی خواہش یا کوشش ، بظاہر تو امن وامان کی بحالی کے لئے ضروری قرار پاتی ہے لیکن منطقی نتیجے کے طو رپر یہ فوج اور سیکورٹی اداروں کے کام کو مشکل بلکہ ناممکن بنادے گی ۔ فوج ایک ایسا قومی ادارہ ہے جسے ہر قسم کی تفریق اور تقسیم سے بالاتر ہونا چاہئے جبکہ پاکستان کے اندر احتساب کا عمل جس قدر مشکل ہے ، اس قدر متنازع بھی ہے ۔ اس گند میں ہاتھ ڈالا گیا تو لامحالہ جمہوریت کو ختم کرنا پڑے گا اور یہ امر اظہرمن الشمس ہے کہ یہ ملک ایک اور مارشل لاء کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہی لوگ جو اس وقت مارشل لاء کو دعوت دے رہے ہیں ، چند سال بعد خاکم بدہن جنرل راحیل شریف صاحب کوبھی انہیں الفاظ میں یاد کریں گے ، جن میں آج جنرل پرویز مشرف کو یاد کررہے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خود دخیل ہونے کی بجائے فوج اپنی مقبولیت اور سیاسی قیادت کی مدافعانہ پوزیشن کا فائدہ اٹھاکر عدلیہ کے تعاون سے پارلیمنٹ کو احتساب کا ایسا شفاف نظام وضع کرنے پر آمادہ کرے ، کہ جس کے نتیجے میں نہ صرف سیاست کرپشن سے پاک ہوجائے بلکہ ہر طبقے اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد کا بلاامتیاز احتساب ہو۔ میرے نزدیک اس وقت سیاسی قیادت اس پوزیشن میں آگئی ہے ، جو پوزیشن دھرنوں کے وقت حکمرانوں کی تھی اور عسکری قیادت کی مقبولیت اس سے کئی گنا زیادہ ہے جو دھرنوں سے قبل عمران خان کی تھی ۔ اب پوری سیاسی قیادت موت (مارشل لاء ) کے خوف سے بخار(احتساب کے شفاف نظام) پر آسانی سے آمادہ ہوسکتی ہے ۔ عسکری قیادت نے اپنی مقبولیت اور سیاسی قیادت کی عدم مقبولیت کا یہ فائدہ اٹھا کر ملک میں عدلیہ کے ذریعے حقیقی احتساب کا نظام وضع کرنے پر سیاسی قیادت کو مجبور کیا اور خود سیاست اور حکومت سے دور رہی تو یہ اس قوم پر احسان عظیم ہوگا اور آئندہ نسلیں بھی موجودہ عسکری قیادت کو ہیرو کے طور پر یاد رکھیں گی

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں