پاک بھارت سلامتی امور کے مشیروں کا اجلاس
پاکستان کے سلامتی امور کے مشیر سرتاج عزیز اِس ماہ دہلی کا دورہ کرنے جارہے ہیں، وہاں اُن کی ملاقات بھارت کے کسی سفارتکار سے نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ جس کے بارے میں تصدیق شدہ بات ہے کہ وہ پاکستان میں مداخلت کر رہی ہے اور اس کے مداخلت کے منصوبہ ساز اور اب بھارت کے سلامتی امور کے مشیر اجیت ڈول سے ہوگی۔ دونوں کے درمیان کوئی مطابقت نہیں ہے، سرتاج عزیز انتہائی شریف النفس، اچھے معیشت داں اور اچھے سفارتکار ہیں جبکہ بھارتی مشیر تخریب کاری میں مہارت رکھتے ہیں اور جنگجو ذہنیت کے حامل ہیں۔
پاکستان اچھے تعلقات کی خواہش میں کئی غلطیاں پہلے ہی کرچکا ہے جیسے میاں نواز شریف کا نریندر مودی کی حلف برداری میں شرکت، اوفا میں نریندر مودی کا اپنی سیٹ سے آگے نہ بڑھ کر نوازشریف سے ملنا، جس سے لگا کہ میاں صاحب بھارت کے جھنڈے تلے مل رہے ہیں، پھر سرحدوں پر شہری اور فوجی شہید ہورہے ہیں، ہمارے حکمراں آموں کی پیٹیوں کے تحفے بھیج رہے ہیں جسے کم ظرف اور جنگجو ذہنیت کی حامل بھارتی لیڈر شپ ہماری کمزوری سے محمول کر رہی ہے۔ پاکستان کی سوچ بہت مثبت اور اِس اصول پر مبنی ہے کہ پڑوسیوں سے اچھے تعلقات قائم کرنا چاہئیں، جیسے افغانستان کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اپنی کاوشوں سے افغان حکومت اور طالبان کو یہ یقین دلانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے کہ پاکستان میں امن، افغانستان کے امن سے وابستہ ہے۔
اِس سلسلے میں پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ مری کانفرنس کے نام سے کر ادیا ہے، ملا عمر کی موت اور طالبان کے نئے امیر کی تقرری کی وجہ سے وقتی طور پر یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں مگر بالآخر یہ مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔ اسی طرح پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے اور عالمی دانشور لکھ رہے ہیں کہ پاکستان ایک پُرامن ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے، وہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود اُس کے ساتھ جنگجویانہ رویہ اختیار نہیں کررہا ہے، اس نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے تباہ کردیئے جو امریکا نہیں کرسکا تھا، نہ صرف فاٹا بلکہ درہ خیبر کے علاقے میں بھی شدت پسندوں کو زیر کرلیا ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں تبدیلی کا مظہر ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ عالمی میڈیا نے اِس پر خاص توجہ نہیں دی یا تو یہ بات عالمی میڈیا کو پسند نہیں آئی کہ پاکستان میں خون کا بہنا رک گیا ہے یا پھر اس کی ترجیحات دوسری ہیں۔
دوسری طرف بھارت کی موجودہ حکومت نے اشتعال انگیزی کی ساری حدیں پھلانگ ڈالی ہیں اور اس سے باز نہیں آرہا ہے، بھا رتی حکومت پاکستان کو پُرامن ملک دیکھنا نہیں چاہتی، پاکستان سے بدلہ اور پاکستان کو سرنگوں کرنے کا بھوت اس کے سر پر سوار ہے، اس لئے ہمیں شبہ ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے بلکہ بھارت اس سے دُنیا کی نظر میں اپنے نمبر بڑھانا چاہتا ہے اور بیچ میں خرابی کرنے کا ارادہ باندھے بیٹھا ہوا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ امن کی کوشش نہیں کرنا چاہئے مگر یہ ضرور کہتے ہیں کہ اِن مذاکرات میں بھارت یہ تصور اُجاگر کرے گا کہ پاکستان امن نہیں چاہتا۔ اس لئے کئی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، ایک تو یہ کہ پاکستان کی توہین نہیں ہونی چاہئے، پہلے سے طے ہو کہ سرتاج عزیز کو پورا پروٹوکول ملے گا، ایجنڈے کے بارے میں خود سرتاج عزیز صاحب نے کہا ہے کہ ابھی طے نہیں ہوا اُس کو طے ہونا چاہئے اور بالکل واضح اور غیر مبہم ہونا چاہئے، اُس کا پہلے سے پرچار ضروری ہے تاکہ بھارت ملاقات سے چند گھنٹے پہلے یا ملاقات کے بعد اس سے مکر نہ جائے، یہ سوچ کر جنبش کرنا چاہئے کہ بھارت کی اس دعوت کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، کیا ایک دفعہ پھر وہ پاکستان کی توہین کرنا چاہتا ہے اُس کو کمزور اور اپنے آپ کو خطے کی بالادست قوت کے طور پر دکھانے کیلئے کوئی ویسی ہی جنبش کرتا ہے جیسا کہ اس نے اوفا میں کی یا یہ کہ واقعی وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہے یا پھر دکھاواہے اور اِس ملاقات کے موقع پر ایسی حرکت کر دے گا جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنائو میں اور اضافہ ہو جائے، اوفا کانفرنس کے بعد گورداسپور کا واقعہ ہو گیا، نام پاکستان کا لگا دیا گیا اگرچہ واقعات و شواہد اِس سے مختلف تھے مگر وہ اِس واقعہ سے پاکستان کے بھارتی ڈرون گرانے کی سُبکی کو پس پشت ڈال گئے اور ایسا ہو جانے کے بعد انہوں نے تسلیم کرلیا کہ گورداسپور کے واقعہ میں پاکستان ملوث نہیں ہے، اس لئے یہ دیکھ لیا جائے کہ بھارت ایسا کوئی من گھڑت واقعہ جنم دے کر اِن مذاکرات کو پھر موخر نہ کردے، چنانچہ ہماری تجویز یہ ہوگی کہ مذاکرات اس وقت تک نہیں کئے جائیں جب تک وہ سرحدوں پر اشتعال انگیزی سے باز نہیں آتا، اُس کے اپنے ملک میں 22 سے زیادہ آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔
انہوں نے ایک ڈرامہ رچایا ہے کہ ناگا باغیوں سے اُن کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، یہ پاکستان میں بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے ہتھیار ڈالنے کو متوازن کرنا تھا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہورہا ہے تو بھارت میں بھی ایسا ہوسکتا ہے مگر ناگالینڈ میں لڑنے والے کئی گروپ ہیں، بھارت نے جن سے معاہدہ کیا ہے وہ خود بھارتی لکھاریوں کیلئے مشکوک ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اِس سے ناگائوں کی جنگ آزادی نہیں رُکے گی۔ جہاں تک پاکستان اور بھارت کے مذاکرات کی بات ہے تو ہمارا خیال ہے کہ جب گورداسپور کے واقعہ میں بھارتی حکام اور بھارتی میڈیا کوئی شواہد نہیں دے سکے تو انہوں نے اوفا کانفرنس سے رجوع کرکے مذاکرات کی دعوت دے ڈالی، خود بھارت میں یہ تصور زور پکڑ گیا ہے کہ یہ مذاکرات تو مختلف اسکول آف تھوٹس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان ہوں گے، ایک ’’را‘‘ کا سابق سربراہ جس کی سوچ تخریب کاری اور دہشت گردی سے عبارت ہے اور دوسری طرف ایک شریف سفارتکار دونوں کے درمیان گفتگو کے بنیادی اصول کیسے طے ہوں گے اور یہ بیل منڈھے چڑھتے نظر نہیں آتی، اس لئے سرتاج عزیز کو اپنے وفد کے ہمراہ جواب آں غزل کے طور پر ہماری انٹیلی جنس کے کسی سابق سربراہ یا ماہر کو ساتھ لے کر جانا چاہئے۔ بیان بازی کی جنگ یا تخریب کاری یا سرحدوں پر اشتعال انگیزی اور پاکستان کو ختم کرنے کے خواب سے اب بھارت کو تائب ہونا چاہئے کہ یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ پاکستان کو زیرنگیں کرلے، یہی بہتر ہے کہ اچھے پڑوسیوں کی طرح دونوں ممالک ساتھ ساتھ رہیں اور امن کے فوائد کو عوام تک پہنچائیں۔
دُنیا بدل گئی ہے ملکوں کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں، چین اور روس امریکا کو چیلنج کر رہے ہیں، امریکا جواباً تیسری عالمگیر جنگ کے خدشے کو ابھار رہا ہے اور باقاعدہ تیاری کررہا ہے، اپنے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کررہا ہے۔ چین اور روس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے، تینوں ممالک اپنے جنگی ہتھیاروں کی نمائش کرکے ایک دوسرے کو ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں ہر ایک حتمی ہتھیار سامنے لارہا ہے جو دوسرے پر سبقت ظاہر کرتا ہے، ایسے میں کوشش یہ کرنا چاہئے کہ جنوبی ایشیا اس جنگ کے اثرات سے بچے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان اور بھارت دونوں مل کر خلوصِ دل سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں اور جو تنازعات ہیں انہیں طے کرلیں اس سے ہم کسی جنگ کا ایندھن بننے سے بچ جائیں گے ورنہ عالمی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت جنگ کی طرف سرپٹ دوڑے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ ہماری کاوشوں کو اگرچہ سراہا جارہا ہے مگر جنگ کی صورت میں دلیل اور مثبت سوچ دھری کی دھری رہ جاتی ہے، تباہی اُن ملکوں کا مقدر بن جاتی ہے جو جنگ کرتے ہیں، معاشی طور سے تباہی اور انسانی جانوں کا بے دریغ ضیاع پھر دونوں ملک ایٹمی طاقت بھی ہیں تو کیا بچے گا برصغیر میں اگر دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی، اس لئے ضروری ہے کہ بھارت کے حکمراں اپنی بچکانہ شرارتوں اور ضد سے باز آئیں اور اچھے پڑوسیوں کی طرح مذاکرات کرکے مسائل کو حل کریں۔
----------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'