بھارت و امریکہ ۔ معاشی راہداری

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

ہم نے کئی دفعہ لکھا ہے کہ امریکہ و مغربی طاقتیں اور بھارت چین پاکستان معاشی راہداری کی راہ میں ہر طرح کی رکاوٹ ڈالیں گے سو انہوں نے اس کام کیلئے منفی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ بھارت یہ کہتا ہے کہ وہ یہ اقتصادی راہداری بننے نہیں دے گا چاہے اُسے داعش کو ہی کیوں نہ استعمال کرنا پڑے اور اُن کو ایٹمی اسلحے سے بھی کیوں نہ مسلح کرنا پڑے۔ امریکہ نے پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی پاور پلانٹ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، پاکستان اور چین کے پاور پلانٹ عالمی قوانین کے عین مطابق ہیں مگرامریکہ ایسے بات کرتا ہے کہ جیسے امریکہ عالمی قوانین کی پابندی کا بہترین ریکارڈ رکھتا ہو۔ امر واقع یہ ہے کہ وہ عالمی قوانین اور ساری دُنیا کے ممالک میں مداخلت بیجا میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، ہر وقت دُنیا کو حالت جنگ میں رکھنا اور انہیں خوفزدہ کرنا امریکا کا وطیرہ ہی نہیں بلکہ اُس کی پالیسی کا حصہ بھی ہے۔

پینٹاگون کا وژن 2015ء کے مطابق امریکہ دُنیا کو ہر وقت جنگ کی حالت میں رکھے گا اور کسی کو بھی اِس پوزیشن میں نہیں آنے دے گا کہ اُس کو چیلنج کرسکے، صرف یہی نہیں کسی ملک کی اُس کے لحاظ سے اسٹرٹیجک پوزیشن ہے، تووہ اپنے زیراثر رکھنے کیلئے اس ملک کو عدم استحکام کا شکار کر دیتا ہے، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ اور دانشور ہنری کسنجر کے مطابق امریکہ سے امریکی دوستوں کو امریکی دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے، اگر کسی کے پاس زیادہ معدنی دولت ہے تو وہ بھی امریکی دشمنی کے زمرے میں آجاتا ہے، اُس کی معدنی دولت سے امریکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور پھر وہ ایسے ملک کو یا تو تباہ کر دیتا ہے یا اس پر قبضہ جما لیتا ہے یا وہاں بدامنی کرا دیتا ہے، جیسے عراق، شام، لیبیا اور افغانستان وغیرہ۔ اُس کی ایماء پر بھارت اور افغانستان بھی پاکستان کو اس لئے مشکل میں ڈال رہے ہیں کیونکہ ہمارا اسٹرٹیجک محل وقوع ہے، پاکستان معدنی دولت سے مالا مال ہے، بقول ایک سائنسداں کے صرف ریکوڈک میں 1400 بلین ڈالرز کا سونا ہے اور تھرپارکر میں سو سال کی پاکستانی ضرورت پورا کرنے والا کوئلہ، اسی طرح چنیوٹ میں سونا، لوہا اور تانبا موجود ہے، صرف یہاں تک ہی موقوف نہیں بلکہ ہنزہ کے پہاڑ اپنے اندر سونا چھپائے ہوئے ہیں۔

اس طرح پاکستان کی اہمیت کئی طرح سے ہوگئی ہے، اس کا محل وقوع امریکہ کو کھٹکتا ہے، اُس کی معدنی دولت کو وہ للچائی نظروں سے دیکھتا ہے، پاکستان کے عوام کی حب الوطنی کے جذبوں سے خائف ہے جو اس نے 2005ء کے زلزلہ اور 2010ء کے سیلاب میں دیکھی اور اب پاکستان چین کے ساتھ جڑ گیا ہے تو امریکہ اپنے کئی ہاتھ استعمال کررہا ہے کہ پاکستان کو مشکلات میں ڈالے۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے وہ ہمارے خلاف استعمال ہو کر بھی خوش ہوتا ہے اس لئے وہ پاکستان کو ہر طرح سے مشتعل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ روزانہ کا معمول ہے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے، لوگ بے گناہ مارے جارہے ہیں، سرحد کے قریب رہنے والے پاکستانیوں کی زندگی کو خطرہ ہے کیونکہ وہ بلااشتعال گولہ باری کردیتا ہے۔ اِس کے علاوہ افغانستان سے وہ بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے جس کو بہرحال کافی حد تک روکا جا چکا ہے۔ بہت سے مداخلت کار مارے جارہے ہیں اور بہت سے گرفتار ہورہے ہیں۔ پاکستان افغان طالبان میں صلح کرانا چاہتا ہے مگر وہاں بھی امریکہ اور اُس کے اتحادی خصوصاً برطانیہ اِن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ سابقہ شمالی اتحاد نے افغانستان میں فی الحال اپنا اثرورسوخ جمایا ہوا ہے۔ اِس خوف سے طالبان کے ساتھ اگر مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں تو پشتونوں کو حصہ دینا پڑے گا، اس لئے وہ بھی ان مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے، ملا عمر کی موت کی خبر بی بی سی نے نشر کی اور افغانستان نے یہ الزام لگایا کہ ملا عمر کی طبعی موت کراچی کے ایک اسپتال میں ہوئی۔

آغا خاں اسپتال نے اِس کی برملا تردید کی۔ اِس کے بعد انہوں نے طالبان کی صفوں میں انتشار کی خبریں نشر کیں اور یہ کہا کہ ہمیں ایسے لوگوں سے مذاکرات کی کیا ضرورت ہے جو بے اثر ہوگئے ہیں۔ جواباً افغان طالبان نے کابل میں دھماکے کئے اور دوردراز علاقوں میں بھی دھماکوں اور خودکش حملوں سے اپنی موجودگی اور طاقت کا اظہار کیا، ردعمل کے طور پر افغان حکام جن میں صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے الزام لگایا کہ پاکستان طالبان کی مدد کررہا ہے، جس کے یہ معنی ہوئے کہ افغان حکومت امریکی و بھارتی زبان بول رہی ہے اور پاکستان کو خواہ مخواہ الزام دے رہی ہے۔ طالبان سے پاکستان نے مری میں مذاکرات کا پہلا دور شروع کرا دیا دوسرا دور ہونے سے تین روز قبل ملا عمر کی موت کی خبر نشر کی گئی پھر جلال الدین حقانی کی موت کو بھی ظاہر کیا گیا جو شرارت کے زمرے میں آتی ہے۔

طالبان کے نئے رہنما نے مذاکرات کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا البتہ وقتی طور پر اُن کو ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ افغان طالبان کی اپنی پالیسی ہے، وہ ہمارے غلام نہیں اور حکم ماننا اُن کی سرشت میں شامل نہیں۔ پاکستان اُن سے درخواست کرسکتا ہے، اُن کو مذاکرات کیلئے راضی کرسکتا ہے، نہ یہ کہ انہیں کسی عمل سے روک سکتا ہے۔ جب افغان حکومت اپنے عمل سے اُن کے وجود کی نفی کرتی ہے تو وہ اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں۔ بھارت اس سے بہت خوش ہے کہ اس نے پاکستان کی مغربی سرحد کے محفوظ ہونے کے امکانات کو معدوم کردیا ہے تاہم یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہیں۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی حکومت بچ جائے گی صرف انہیں طالبان کو حکومت میں حصہ دینا پڑے گا دوسری صورت میں افغان طالبان موجودہ افغان حکومت کا قیام مشکل بنا دیں گے، افغانیوں کا خون بہے گا کون سی عقلمندی کی بات ہے، جس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ افغان حکمراں خود اپنی حکومت کو بچانے میں اور عوام کا خون بہنے سے روکنے میں دلچسپی نہیں رکھتے یا پھر امریکی و بھارتی سرکاروں کے حکم کے تابع ہیں کہ پاکستان کو مشکل میں ڈالنے کیلئے اپنی حکومت کو بھی خطرہ میں ڈالو اور ہر صورت میں چین پاکستان معاشی راہداری نہ بننے دو۔ اگرچہ بظاہر وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان مل کر دہشتگردوں کا مقابلہ کریں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بھارت نے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کو 50 ملین ڈالرز کی خطیر رقم دی ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں اُن کی مدد کرے۔ طالبان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا عمل حامد کرزئی کی ہوس دولت کا شاخسانہ ہے۔

دوسری طرف پاکستان اور چین نے مصمم ارادہ باندھا ہوا ہے کہ وہ چین پاکستان معاشی راہداری کو ہر حال میں بنائیں گے، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے پنجگور میں اپنے دورے کے دوران کہا کہ پاکستان یہ راہداری ہر حال میں مکمل کرے گا اور اپنے چھپے اور ظاہری دشمنوں سے واقف ہے اور انکے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، بظاہر اس راہداری سے پاکستان کے علاوہ ایران اور افغانستان کو بھی فائدہ ہے جبکہ آسٹریلیا کی خاتون وزیرخارجہ پاکستان کا دورہ کرکے اپنے ملک کی خدمات اس راہداری کو بنانے اور پاکستان میں اپنے کان کنی کے تجربہ کی پیشکش کرچکی ہے۔ اُن کے علاوہ کئی اور مغربی ممالک بشمول امریکہ کے اس راہداری میں اپنی ہنرمندی اور تجربے کو بروئے کار لانے میں بظاہر دلچسپی رکھتے ہیں مگر اندرونی طور پر وہ اِس راہداری کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اور وہ بھارت، افغانستان اور پاکستان میں موجود اپنے کارندوں کو حرکت میں لاچکے ہیں کہ اس راہداری کی تعمیر میں جس طرح کی بھی رکاوٹ ڈالی جاسکتی ہو وہ ڈالی جائے، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی اور اسٹرٹیجک معاملے میں کسی نے بھی گڑبڑ کی تو اُس کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ پاکستانی عوام کا یہ عزم ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے ملک کا دفاع کریں گے اور خوشحالی و سلامتی کی جس راہ پروہ چل پڑے ہیں اس پر وہ ثابت قدم رہیں گے اور چھپے اور ظاہر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دینگے خواہ وہ ملک کے اندر سے کی جائیں یا ملک کے باہرسے۔ ملک کے اندر ایم کیو ایم کو اپنےرویے پر نظرثانی کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان کیلئے مشکلات پیدا نہ کرے جبکہ بلوچ بھائی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ -
----------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size