قصورکس کا!

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

انتخابی ٹریبونل کے فیصلہ پر قانونی رائے تو یقیناً قانون دان ہی دیں گے مگر ایک عام آدمی کی حیثیت سے میرے ذہن میں عرصہ دراز سے یہ سوال ہے کہ عدالتیں فیصلہ محفوظ کیوں کر لیتی ہیں ؟اور کئی کئی ماہ فیصلے محفوظ کیوں رکھے جاتے ہیں ؟ایک اور سوال یہ ہے کہ جب کسی بھی ٹریبونل کے فیصلے میں یہ بتایا جا تا ہے کہ کتنے ووٹوں ک تصدیق نہیں ہو سکی،شناختی کارڈ نمبر غلط تھے ،کائونٹر فائل پر مہر نہیں لگی تھی ،یا کوئی اور بے ضابطگی تھی تو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ ان مشکوک ووٹوں میں سے کتنے کس امیدوار کو کاسٹ ہوئے ۔مثال کے طور پر اگر NA122میں 23 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی تو کیا یہ سارے کے سارے ایاز صادق کو ڈالے گئے یا عمران خان سمیت سب امیدواروں کے تھیلوں میں سے نکلے ؟اگر تو ان تمام مشکوک ووٹوں کا تعلق جیتنے والے امیدوار سے ہے تو شاید اس نے دھاندلی کی ہو گی لیکن اس طرح کی بے قاعدگی سب کے حصے میں آئی تو انتخابی عملہ قصور وار ہے۔اگر انتخابی عملہ قصور وار ہے تو اس کی سزا کسی بھی امیدوار کو دینا یقینا زیادتی اور ناانصافی ہے ۔حالیہ فیصلے میں دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ سردار ایاز صادق کو 20لاکھ روپے بطور ہرجانہ عمران خان کو دینے کی سزا بھی دی گئی ہے ۔اس حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر دھاندلی یا انتخابی بے ظابطگی کا ذمہ دار ایاز صادق کو سمجھ لیا گیا ہے تو پھر محض جرمانے کی سزا کیوں ؟اسے تو نااہل قرار دینا چاہئے تھا تاکہ آئندہ الیکشن نہ لڑ سکتا لیکن اگران بے ظابطگیوں کا تعلق جیتنے والے امیدوار سے ثابت نہیں ہوا تو پھر یہ سزا کیوں دی گئی؟؟؟جب ٹریبونل کے فیصلے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انتخاب کے دوران الیکشن مشینری فیل ہو گئی تو پھر اس کی سزا کسی امیدوار کو کیوں دی جا رہی ہے؟

میری کوشش تھی کہ ٹریبونل کا تحریری فیصلہ ہاتھ میں آجائے تو اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کیا جائے ۔جب اس فیصلے کو پڑھنا شروع کیا تو تمہید میں ہی محسوس ہو گیا کہ یہ فیصلہ کس نوعیت کے ماحول میں دیا گیا ہے۔ٹریبونل کے جج لکھتے ہیں کہ میں نے یہ فیصلہ تحریر کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کے سامنے حسب ذیل سوالات رکھے :

1۔ کیا میری تخلیق کا مقصد محض اپنے پیٹ کے بارے میں سوچنا ہے؟
2۔کیا میں اس جانور کی طرح ہوں جسے کسی منصب کے کھونٹے سے باندھ دیا گیا ہواور وہ صرف اپنے چارے کے بارے میں سوچے؟
3۔کیا میں اس بدمست جانور کی طرح ہوں جو محض گھومتا پھرتا ہے ،کھاتا ہے اور اس مقصد زندگی سے نابلد رہتا ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا؟
4۔کیا میرے پاس کوئی دین الہٰی نہیں؟ کیا میرے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہے ؟کیا مجھے خوف خدا ہے؟
5۔کیا مجھے شتر بے مہار کی طرح اس دنیا میں چھوڑ دیا گیا ہے یا پھر کوئی پوچھنے والا ہے؟

چونکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس تھا،ان کے الفاظ چغلی کھا رہے ہیں کہ وہ شاید ذہنی دبائو میں تھے اور اسی دبائوکے زیر اثر یہ فیصلہ دیا گیا۔ بہر حال اب اس فیصلے کے قانونی پہلوئوں پر تو سپریم کورٹ غور کرے گی کیونکہ سردار ایاز صادق نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے۔زیر نظر سطور شائع ہونے تک عدالت عالیہ کے دروازے پر دستک دی جا چکی ہو گی۔اس پر میری رائے وہی ہے جس کا اظہار میں نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف فیصلہ آنے پر کیا تھا کہ اپنا جائز آئینی و قانونی حق استعمال کرنے کے بجائے مسلم لیگ (ن) کو عوام کی عدالت میں جانا چاہئے۔خواجہ سعد رفیق جیسے متحرک و فعال اور عوامی مزاج کے حامل شخص کو تو ہرانا انتہائی دشوار ہے مگر موجودہ حالات میں سردار ایاز صادق کا بھی دوبارہ جیتنا مشکل نہیں ۔تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور اس کا واضح ثبوت ہری پور کے ضمنی انتخاب میں سامنے آیا۔عام انتخاب میں پی ٹی آئی نے اس لیئے معقول ووٹ حاصل کئے کیونکہ وہاں ایاز صادق کا مقابلہ عمران خان سے تھا ۔اب عمران خان راولپنڈی کی نشست چھوڑ کر ان کے مقابلے میں دوبارہ الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور اس بات کا اظہار بھی وہ کر چکے ہیں ۔چنانچہ سردار ایاز صادق باآسانی ضمنی انتخاب جیت کر باوقار انداز میں پارلیمنٹ واپس آ سکتے ہیں اور ایسی صورت میں انہیں دوبارہ قومی اسمبلی کا اسپیکر بھی منتخب کیا جا سکتا ہے۔عدالتی چارہ جوئی کی صورت میں انہیں حکم امتناعی کے باعث قومی اسمبلی کی رکنیت تو فوراً مل جائے گی لیکن اسپیکر کا منصب شاید نہ مل سکے۔حکومت کی کیفیت یہ ہے کہ آگے کھائی ہے تو پیچھے کنواں ۔اگر کسی اور کو اسپیکر منتخب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دھاندلی کا الزام تسلیم کر لیا گیا اور دوسری طرف اگر انہیں دوبارہ اسپیکر منتخب کیا جاتا ہے تو یہ اقدام شدید سبکی کا باعث ہو گا۔ٹریبونل کا فیصلہ غلط ہے یا درست یہ بات تو بہت بعد میں جا کر طے ہو گی لیکن سوالات اٹھ جانے اور متنازع ہو جانے کے بعد پارلیمان کے اعلیٰ ترین منصب پر بر قرار رہنا جمہوری و پارلیمانی روایات کے برعکس ہوگا۔

جتنا اب تک سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں ہو تو سمجھیں حق اور سچ کا بول بالا ہوا ہے اور پٹواریوں کا منہ کالا ہوا ہے جبکہ فیصلہ خلاف ہونے کی صورت میں ایک ہی للکارا ،اوئے فلاں ! تم کتنے میں بکے؟اور لگے ہاتھوں ایک اور خواہش کا اظہار بھی کرد وں۔ انتخابی ٹریبونلز سے ،ازراہ کرم آئندہ اگر حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دینا ہو تو ویک اینڈ پر ہی دیا کریں تاکہ فوری طور پر حکم امتناعی نہ مل سکے اور اتوار کا دن تو بھرپور جشن منایا جا سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size