میاں صاحب! کوئی بڑھک ہی مار دیں
اقوام عالم میں سرحدی تنازعات کی کوئی کمی نہیں ۔ چین اور شمالی کوریا کے درمیان 880 میل کی سرحد پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ چاڈ اور سوڈان کے مابین 850 میل طویل بائونڈری لائن پر تنائو کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ وینزویلا اور کولمبیا کو الگ کرنے والی 1275 میل پر محیط سرحد پر سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات موجود ہیں ۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے تعلقات تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان کو جداکرنے والی 150 میل لمبی خونی لکیر پر دونوں ممالک کے سپاہی بندوقیں تان کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہتے ہیں مگر جب دنیا کے خطرناک ترین بارڈرز کی فہرست تیار ہوتی ہے تو اس میں پہلے اور دوسرے نمبر پر یکے بعد دیگرے پاکستان کا نمبر آتا ہے۔
سب سے پہلے ہماری مشرقی سرحد کی بات ہوتی ہے ،جسے دنیا کا سب سے خطرناک ترین بارڈر سمجھا جاتا ہے اور اس کے بعد پاک افغان سرحد کا تذکرہ آتا ہے۔ خطرناک ترین بارڈر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود چند روز کے وقفے کے بعد اچانک نصف شب بریکنگ نیوز آتی ہے ’’بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، دشمن کی توپیں خاموش کروادیں‘‘ میں اکثر سوچتا ہوں، اگر یہ بلا اشتعال فائرنگ ہے تو پھر اشتعال انگیز فائرنگ کیسی ہوگی؟ یہ وہ نرالی سرحد ہے جہاں پریڈ کے دوران ایڑیاں اٹھاکر مارنے کا مقابلہ بھی ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو تحفے تحائف بھیج کر دوستی کی خواہش بھی کی جاتی ہے۔ ایٹم بم چلانے کی دھمکیاں دیکر جنگ کی بھاشا کو بھی فروغ بخشا جاتا ہے اور فلمی ستاروں کو سرحدوں کے آرپار پرفارم کرنے کی اجازت دیکر امن کی خواہش کو بھی آگے بڑھانے کی کوشش ہوتی ہے۔
چار بار جنگ لڑ کر دیکھ لی ،ایک دوسرے کو پراکسی وار کے میدان میں چت کرنے کی اپنی سی کوشش کر بیٹھے ،سفارتکاری کے نام پر خود کو دھوکہ دیکر دیکھ لیا،بیک ڈور ڈپلومیسی کی گیدڑ سنگھی آزما چکے ،کرکٹ میچ کو کھیل کے بجائے جنگ سمجھ کر کھیل چکے،جنگی مشقیں اور فوجوں کی پیشقدمی کا عذاب جھیل چکے ،واہگہ بارڈر سے آلو، پیاز اور ٹماٹر کی تجارت کر کے دیکھ لی،کنٹرول لائن پر آہنی باڑ لگا کر اس میں برقی رو دوڑا چکے ،ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو ناپسندیدہ قرار دیکر بھگا چکے، وہ نفرت انگیز فلمیں بنا چکے اور ہم ان پر پابندی لگوا چکے، گزشتہ 68 سال کے دوران کیا کوئی ایسا حربہ، کوئی ایسا دائو پیچ، کوئی ایسا دھوبی پتٹرا، کوئی ایسا تیر بہدف نسخہ، کوئی ایسا شافی کافی فارمولہ رہ گیا ہے جسے بروئے کار نہ لایا گیا ہو؟ لیکن اس دوران کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ سب سے بڑا فاتح وہ ہے جو دشمن کو دوست بنا لے ۔ دیوار برلن گر گئی، امریکہ نے کیوبا اور ایران سے تعلقات بحال کر لئے، تائیوان کا قضیہ نمٹ گیا، روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا خاتمہ ہوگیا، پوری دنیا کو یہ سمجھ آگئی کہ پر امن بقائے باہمی میں ہی ترقی و خوشحالی کا راز پوشیدہ ہے مگر بھارت کی مودی سرکار آج بھی اس واہمے کاشکار ہے کہ اکھنڈ بھارت کا خواب جلد حقیقت میں بدل جائے گا او ر ہمارے ہاں بھی ان افراد کی کوئی کمی نہیں جو دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی خام خیالی میں مبتلاء ہیں ۔جوع الارض کے مرض میں گرفتار ان نابغوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آرہی کہ جس کے پاس جس قدر سلطنت ہے وہ تو سنبھالی نہیں جا رہی ،توسیع پسندی چہ معنی دارد؟
چند روز قبل جب پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات منسوخ ہوئی تو چار دانگ عالم تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ اب کیا ہو گا ؟عالمی سطح پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مذاکرات کا سلسلہ کیوں منقطع کیا گیا۔ تکلف برطرف ،اگر یہ ملاقات ہو بھی جاتی تو کونسا انقلاب برپا ہو جاتا ؟ اس سے پہلے کتنی ملاقاتیں ہوئیں ،مشترکہ اعلامیے جاری ہوئے، ورکنگ گروپ بنے ،تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت سے حل کرنے پر اتفاق ہوا اور دونوں طرف کے سفارتکار اس بات پر پھولے نہیں سماتے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یادش بخیر 3 اکتوبر 2005ء کو جب پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری بھارتی ہم منصب نٹور سنگھ کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ دونوں ممالک میزائل تجربات سے پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے تو بھارت نے اطلاع دیئے بغیر زمین سے فضاء میں مار کرنے والے آکاش میزائل کا تجربہ کیا اور اس مشترکہ اعلامیے کی حقیقت واضح کر دی۔
پاک بھارت تعلقات کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے شہر روانہ ہوتے وقت اس کے باپ نے نصیحت کی کہ بیٹا جو چیز بھی لینا لڑ جھگڑ کر لینا۔ وہ صبح صبح جوتا خریدنے کے لیئے ایک دکان میں داخل ہوا۔ دکاندار نے جوتے کی قیمت 250 روپے بتائی تو اس نے سوچا کوئی ایسی قیمت لگائوں کہ یہ دکان دار غصہ کھا جائے اور لڑنے کو تیار ہو جائے۔ اس نے کہا ،میں تو 100 روپے دونگا ۔دکاندار نے اسے حیران ہو کر دیکھا اور کافی دیر بحث کرتا رہا تاکہ کسی مناسب قیمت پر اتفاق ہو جائے۔ بات بن نہیں رہی تھی اور دکاندار پہلے گاہک کو خالی ہاتھ بھیجنے کو تیار نہ تھا۔ آخرکار اس نے کہا، ہے تو نقصان لیکن تم دکان میں داخل ہونے والے پہلے شخص ہو، میں نہیں چاہتا کہ پورا دن خراب گزرے، چلو کوئی بات نہیں 100 روپے ہی دے دو۔ اب اس نے نیا پینترا بدلا کہ نہیں اب تو میں 100 نہیں 50 روپے دونگا۔ دکاندار نے سوچا یہ شخص جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہا ہے ،اس سے جان چھڑائی جائے۔ معاملہ رفع دفع کرنے کے لئے اس نے کہا: بھائی ! چھوڑو تم پچاس روپے بھی نہ دو، مفت لے جائو جوتا، بس اب توجائو ،تمہاری مہربانی۔ مگر اس وقت وہ ہکا بکا رہ گیا جب انوکھے گاہک نے یہ کہتے ہوئے پیشکش مسترد کردی کہ مفت دینا ہے تو پھر دو جوتے دو ایک تو میں نہیں لوں گا۔ مودی سرکار نے جب اجیت دووال جیسے شخص کو قومی سلامتی کا مشیر لگایا تو تب ہی ہمارے حکمرانوں کو سمجھ میں آجانا چاہئے تھا کہ کسی بڑے کی نصیحت پر وہ ہر قیمت پر اور ہر حالت میں لڑنا چاہتے ہیں۔
یہ وہی شخص ہے جو خود لاہور میں بھارتی خفیہ ایجنٹ کی حیثیت سے تخریب کاری کرنے کا اعتراف کرتاہے۔ہم نے تو محض ’’Phantom‘‘ کے خلاف شور مچایا مگر مودی سرکار کی آمد پر اس نوعیت کی کئی فلمیں بنائی گئیں جن میں اپنی حسرتوں اور خواہشوں کا اظہار کیا گیا ۔مثال کے طور پر ’’Baby‘‘ نامی ایک فلم میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے آزمائشی بنیادوں پر ایک ادارہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی سے عبدالرحمان (اشارہ عبدالرحمان مکی کی جانب ہے) نامی ایک مولانا دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ اس ادارے کے آفیسرز خفیہ طور پر ایک عرب ملک جاتے ہیں کیونکہ ان کی معلومات کے مطابق وہاں مولانا عبدالرحمان کے ایک دست راست موجود ہیں۔ منصوبہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کو قتل کر دیا جائے مگر ان کی توقعات کے برعکس مولانا عبدالرحمان خود اس کمرے میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ آفیسرز اس عرب ملک کی انٹیلی جنس کو چکمہ دیکر مولانا کو وہاں سے اٹھا کر دہلی لے آتے ہیں اور میڈیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔ اس فلم کو دیکھ کر بے ساختہ یہ مصرع لبوں پر مچل جاتا ہے :
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہرحال میاں نواز شریف کا حال اس دکاندار جیسا ہے جس سے لڑائی پر آمادہ گاہک ہر قیمت پر ہاتھا پائی کرنا چاہتا ہے ۔نصیحت تو میاں صاحب کو بھی یہی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں لیکن وہ لڑنے پر آمادہ نہیں۔ بیشک نہ لڑیں لیکن لاہوری اسٹائل میں کوئی بڑھک ہی مار دیں تاکہ لوگوں کی تسلی ہو جائے ۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔