انوکھے لاڈلے

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

گاہے خیال آتا ہے ،ہم کیسے نرالے اور انوکھے لاڈلے ہیں ؟ہم مصر میں ناخوش ہیں ،ہم لیبیا میں عدم تحفظ کا شکار ہیں ،یمن سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں ، شام سے نکل کر پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں،یہاں تک کہ افغانستان ،ایران اور پاکستان سے نکل کر دوسرے ممالک میں آباد ہونا چاہتے ہیں ۔

ہماری خواہش ہے کہ آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، ہالینڈ، ہنگری، فن لینڈ، سوئٹرز لینڈ سمیت کافروں کے کسی بھی ملک میں رچ بس جائیں مگر ان کے خلاف نفرت و کدورت کا یہ عالم ہے کہ گلی کا کتا بھی مر جائے تو مغربی معاشرے کو گالیاں دینے لگتے ہیں ۔اس وقت تک دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں اور یورپ پر بہتان تراشی سے باز نہیں آتے جب تک کسی حیلے بہانے سے وہاں جا کر آباد نہ ہو جائیں ۔لیکن جب وہاں شہریت حاصل کرنے کے بعد تما م حقوق حاصل ہو جاتے ہیں تو ہمارا جذبہ ایمانی انگڑائیاں لینے لگتا ہے اور ہم کافروں کے اس ملک کو اپنی اسی سوچ ،اپنے اسی انداز فکر کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں جس سے تنگ آ کر اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو ئے۔چند روز قبل اسلام آباد سے واپس آتے ہوئے ایک دوست نے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ یہ خبر سنائی کہ امریکہ میں ایک مسلمان خاتون ہوسٹس نے مسافروں کو الکوحل پیش کرنے سے انکار کر دیا جس پر اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔میں نے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ کیا اسے ملازمت کرتے وقت معلوم نہ تھا کہ اس کے فرائض میں کیا کچھ شامل ہے؟یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہندو کسی قصاب کے پاس ملازمت کر لے اور جب گائے ذبح ہونے کے بعد گوشت کی بوٹیاں کرنے کا مرحلہ آئے تو یہ کہتے ہوئے معاونت سے انکار کر دے کہ اس کا مذہب یہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔

ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ پڑے شام کے تین سالہ بچے ایلان کردی کی لاش نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ فن لینڈ کے وزیر اعظم جوہا سیپلا نے اپنا گھر شامی مہاجرین کےلئے وقف کر دیا۔ ہنگری کے موجودہ وزیراعظم کو غیر انسانی رویئے پر تنقید کا سامنا ہے مگر سابق وزیر اعظم Ferenc Gyurcsany نے اپنے گھر کے دروازے تارکین وطن کےلئے کھول دیئے اور جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے تو حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی کی یاد تازہ کردی اور اسے بجا طور پر ’’ماما مرکل‘‘ کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ملک کے دروازے شامی مہاجرین کے لئےکھول دیئے اور 8 لاکھ مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا اعلان کر دیا۔ تازہ ترین عزم یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جرمنی ہر سال پانچ لاکھ مہاجرین کو آباد کر سکتا ہے۔

اگرچہ ترک حکمران رجب طیب اردوان نے بھی شامی پناہ گزینوں کو خوش آمدیدکہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور لبنان کے علاوہ اردن میں بھی شامی مہاجرین بڑی تعداد میں آباد ہیں مگر دنیا بھر میں انسانیت کو بیدار کرنے والی ایلان کی لاش بھی خراٹے مارتے عرب ضمیر کو جگانے میں ناکام رہی۔شام سے کسی خلیجی ملک کا فاصلہ 1500 میل سے زائد نہیں مگر مصیبت کے مارے یہ لوگ قریب ترین کسی اسلامی ملک کا رُخ کرنے کے بجائے ،یورپی ممالک کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔یہ اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر کھلے سمندر میں سفر کرتے ہیں ،دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرتے ہیں ،ٹرینوں کے دھکے کھاتے ہیں اور 3000 میل کا طویل سفر طے کر نے کے بعد جرمنی پہنچتے ہیں ۔مگر ہم خوابوں خیالوں کی دنیا میں رہنے والے انوکھے لاڈلے پھر بھی مسلم بلاک جیسی انہونیوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ان مصیبت کے ماروں کو پناہ دینا تو درکنار ایک عرب ملک کی وزارت سماجی معاملات نے شامی بچوں کو گود لینے پر پابندی عائد کر دی۔مجھے بتائیے یہ امت مسلمہ کس چڑیا کا نام ہے ؟یہ مسلمان کس ملک میں بستے ہیں ؟

چونکہ ہمارے ہاں غیر حقیقت پسندانہ خوابوں کے خریدار بہت ہیں اس لئے خواب بیچنے والے سوداگروں کی بھی کوئی کمی نہیں ۔خوابوں کے ایک ایسے ہی سوداگر جن کے ہاں گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور ’’دکان ‘‘ پر تِل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی ،انہوں نے یورپی ممالک کی اس ’’مصنوعی‘‘ انسانیت کے پیچھے چھپی اصل سازش بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے اور عرب ممالک کی مجرمانہ خاموشی کا بہت خوبصورت جواز بھی پیش کیا ہے۔موصوف معاصر اخبار میں لکھتے ہیں :’’کیا اس طرح بے بسی کی موت مرنے والے بچے کی یہ پہلی تصویر ہے جو پوری انسانیت کے منہ پر طمانچے کی طرح ثبت ہوئی ہے۔نہیں، اس جدید تہذیب کے منہ پر ہزاروں بلکہ لاکھوں طمانچے ایسے ہیں جو اپنی انگلیوں کے نشان تک چھوڑ گئے ہیں ۔ جدید تہذیب کی سب سے بڑی پہچان جدید سیکولر قومی ریاستیں اور ان کی سرحدیں ہیں ۔وہ سرحدیں جن میں کسی دوسرے انسان کا گھسنا حرام ہے۔

سرحد کے بانکے پہرے دار بندوقوں سے مسلح وہاں موجود ہوتے ہیں ۔آپ کو دوسرے ملک میں یا تو پناہ کی بھیک مل سکتی ہے یا پھر اگر انہیں آپ کے کام کی ضرورت ہو تو مزدوری۔‘‘ اگر سرحدوں اور ملکیت کا تصور اس قدر ہی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے تو یقینا اس جدید تہذیب کو مطعون کرنے والے متذکرہ بالا دانشور نے اپنے گھر کے باہر کوئی دربان نہیں بٹھایا ہو گا، چار دیواری نہیں بنائی ہو گی، دروازے مقفل نہیں ہوتے ہونگے بلکہ جتنے بھی لوگ گھر کی نعمت سے محروم ہیں، وہ بلا اجازت اور بلا تکلف ان کے گھر میں آسکتے ہونگے اور ان کی حیثیت پناہ گزین یا مہمان کی نہیں ہو گی بلکہ وہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر رہائش پذیر ہونگے۔ ان کے بنک اکائونٹ کا اے ٹی ایم کارڈ گھر کی دہلیز پر پڑا رہتا ہو گا کہ جب جو حاجت مندچاہے حسب ضرورت پیسے نکلوا کر استعمال کرے اور ان کی گاڑی کی چابیاں بھی ہر ایک کو دستیاب ہونگی کہ کسی بھی علاقے کا کوئی بھی باشندہ جب چاہے ان کی گاڑی نکال کر لے جائے۔ آپ جس جدید تہذیب کو صبح شام برا بھلا کہتے ہیں ،جن کافروں کو بلا توقف رگیدتے اور مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

ان سیکولر قومی ریاستوں کے بے ایمان حکمرانوں کا دل تو پھر بھی پسیج گیا مگر آپ کے ممدوح کٹھور دل خلیجی حکمرانوں کے کانوں پر تو پھر بھی جوں تک نہیں رینگی۔ قومی ریاستوں کی تخلیق، عالمی سرحدوں کا قیام اور قوم پرستی کا جذبہ ہی تباہی و بربادی کا سبب ہوتا تو آج جرمن فرانسیسیوں سے لڑ رہے ہوتے، اٹلی اور آسٹریلیا میں جنگ کا سماں ہوتا ،سویڈن نے ڈنمارک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہوتی ۔لیکن اس کے برعکس جنگ ہوتی ہے تو ایران اور عراق کی،تباہی شام اور لیبیا کا مقدر بنتی ہے ،ایک مسلمان ملک کے ہاتھوں یمن پر حملہ ہوتا ہے تو ہم اسے بھی مغربی ممالک کی سازش قرار دیتے ہیں ۔وہ انسانیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بے یارو مددگار لوگوں کو پناہ دیتے ہیں تو بھی ہمیں کسی سازش کے آثار نظر آتے ہیں کیونکہ ہم غیر حقیقت پسندانہ خوابوں اور خیالوں میں رہنے والے انوکھے اور نرالے لاڈلے ہیں۔

-------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں