.

لبنان کو درپیش دو اہم مسائل

نائلہ توینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر لبنانی سیاست کی بات کی جائے تو حالیہ دنوں میں اسے دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم مسئلہ مک کے نئے صدر کا انتخاب ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ صدر کے بغیر یہ ملک ری پبلک نہیں کہلا سکتا۔ لبنان میں نئے صدر کے انتخاب پر ملک کی سیاسی جماعتیں تقسیم ہیں اور سابقہ صدر مائیکل سلیمان گزشتہ سال 25 مئی کو اپنے عہدہ کی مدت پوری کر کے سبکدوش ہوگئے۔ اگرچہ کہ مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد حل ہوجائے لیکن ملک کے دونوں بڑے سیاسی بلاکس یعنی مارچ 8 کے الائنس اور 16 مارچ الائنس کی ترجیحات مختلف ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ اب ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن صدر کے انتخاب کے سلسلہ میں ہونے والے پارلیمنٹ کے 22 سیشن بےنتیجہ ختم ہو چکے ہیں۔

لبنان ایک کثیر المذہبی ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے 18 فرقے حکومت کی جانب سے منظور شدہ ہیں۔ جس میں مسلمانوں کے چار فرقے، عیسائیوں کے بارہ فرقے، دروزیوں اور یہودیوں کا ایک ایک فرقہ شامل ہے۔ لبنان ایک طویل عرصہ تک فرقہ وارانہ خانہ جنگی کا شکار ہے جو کہ 1975ء سے لے کر 1989ء تک جاری رہی جسکا بالآخر 1989ء میں طائف معاہدہ کے نتیجے میں اختتام ہوا۔ اس معاہدہ کے تحت 128 رکنی پارلیمنٹ تشکیل دی جائے گی جس میں 64 ارکان مسلمان اور اتنے ہی عیسائی ہوں گے۔ اس معاہدہ کے تحت صدر ہمیشہ مارونی عیسائی ہوگا جبکہ وزیر اعظم سنی مسلمان اور اسمبلی کا اسپیکر شیعہ مسلمان ہوگا۔

پارلیمنٹ میں شیعہ اور سنی اراکین کی تعداد برابر ہے یعنی 27,27 ارکان ہیں۔ اسی طرح اسرائیل نے لبنان پر 1978ء, 1982ء , 1996ء , 2006ء میں فوجی جارحیت کی اور 1978ء میں اس نے ملک کے جنوبی علاقوں پر قبضہ کر لیا جو اس نے بالآخر 22 سال بعد 2000ء میں ختم کیا۔ اسی طرح شامی افواج ملک میں 29 سال تک موجود رہیں اور 2005ء کے عوامی مظاہروں کے نتیجے میں اسے ملک سے نکلنا پڑا۔ یہ وہ تمام واقعات ہیں جنہوں نے لبنان کے استحکام اور سالمیت کو کافی کمزور کیا۔

1943ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے لے کر 1975ء کی خانہ جنگی شروع ہونے تک بیروت عرب دنیا کا مالیاتی مرکز سمجھا جاتا تھا اور اسے بحیرہ احمر کی زینت بھی کہا جاتا تھا اور کئی لوگ اسے مشرق کا پیرس بھی کہتے تھے لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے اور اب محسوس یوں ہوتا ہے کہ ملک ایک بار پھر آہستہ آہستہ خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے جو کہ اس ملک کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ ملک میں صحت وصفائی کے حوالہ سے ہے جس پر ملکی عوام خاصے نالاںدکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر بیروت کی سڑکوں پر ہزاروں شہری لبنان کا جھنڈا لہراتے ہوئے انقلاب کے نعرے لگا رہے ہیں اور اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عوامی اجتماع تھا۔ انکا سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ وزیر ماحولیات کو برطرف کیا جائے کیوں کہ وہ شہر کی صفائی او رستھرائی کا نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں جاری ہیں جس میں کئی سو مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں جبکہ سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اس تحریک کا نام You Stink تم بدبودار ہو رکھا گیا ہے اور ان دو الفاظ نے لگتا ہے کہ لبنانی عوام کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے کیونکہ کسی زمانہ میں عرب دنیا کا یہ ثقافتی شہر اب اپنی عظمت رفتہ کھو چکا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مظاہروں کی کال کسی سیاسی جماعت نے نہیں دی تھی اور نہ ہی ہاسے کسی تنظیم کی تائید حاصل تھی پھر بھی عوام کا جذبہ دیکھنے کے قابل تھا ۔ صفائی ستھرائی نہ ہونے کی ایک بہت بڑٰ وجہ یہاں کے سیاسی نظام میں انتشار کا ہونا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور انکے رہنماؤں کو عمومی طور پر مفاد عامہ کے مسائل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ You Stink تحریک نے موجودہ حکومت کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کی اہے اور کہا ہے کہ نئے پارلیمانی انتخابات کروائے جائیں لیکن لبنان کے فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار سیاسی نظام میں فی الحال یہ ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔ لبنان کی بدقسمتی یہ ہے کہ فرقہ وارانہ سیاسی نظام کی موجودگی میں کسی بات پر تمام فرقوں کا متفق نہ ہونا ایک معمول کی سی بات ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ملک گزشتہ ایک سال سے بغیر صدر کے چل رہ اہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا آپس میں عدم تعاون اور ملکی معاملات میں عدم دلچسپی ہے۔

لبنانی پارلیمنٹ نے ملک کے تیرہویں صدر کا چھ سالہ مدت کے لئے انتخاب کرنا ہے جو ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ ابھی تک لبنانی کے عیسائی اور دو بنیادی سیاسی بلاکس یعنی مارچ آٹھ اور مارچ چودہ الائنس کسی ایک امیدوار پر متفق نہیں ہو سکے۔ شام کی صورت حال نے بھی لبنانی سیاست پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے اور دونوں الائنسز میں اختلاف کی نوعیت شام میں جاری اختلافات کی مرہون منت ہے اور دونوں الائنسز کی کوش ہے کہ انکا حمایت یافتہ امیدوار عہدہ صدارت پر متمکن ہو تاکہ شام کے حوالے سے انکی پالیسی پر کوئی اثر نہ پڑ؁۔ دوسری طرف اس بڑھتے ہوئے بحران پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے جتنا یہ مسئلہ طول پکڑے گا اتنا ہی سیاسی بحران بڑھے گا۔ ایک ایسا ملک جہاں عوام پہلے ہی بدامن ، بے روزگار ، بجلی کی کمی اور تنخواہوں کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں۔ یہ معاملہ انکے لیے مزید بےچینی کا باعث بنے گا۔ اگر ملک کے سیاست دان اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں تو وہ عوام کے مسائل کیا حل کریں گے اور اس حوالے سے ان میں کتنا اتفاق رائے ہوگا؟

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.