.

قبرستان کی خاموشی نہیں چاہئے

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کی سابق خاتون اول اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کسی مشہور شخصیت کے دیدار کیلئے زندگی میں صرف ایک مرتبہ سڑک کے کنارے کھڑی ہوئی تھیں۔اس مشہور شخصیت کا نام تھا بینظیر بھٹو ۔ہیلری کلنٹن نے کچھ عرصہ قبل شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’ہارڈ چوائسز‘‘ (HARD CHOICES) میں لکھا ہے کہ 1987ء کے موسم گرما میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ لندن میں چھٹیاں منا رہی تھیں۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ رٹز ہوٹل کے باہر ایک ہجوم کھڑا ہے ۔پتہ چلا کہ یہ ہجوم بینظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے انتظار کر رہا ہے ۔ہیلری لکھتی ہیں کہ وہ بھی اپنی بیٹی چیلسی کے ہمراہ سڑک پر کھڑی ہو گئیں اور بینظیر کا انتظار کرنے لگیں تھوڑی دیر کے بعد بینظیر بھٹو ایک گاڑی سے اتریں اور بڑے باوقار انداز میں چلتے ہوئے ہوٹل کے اندر چلی گئیں۔ ہیلری کلنٹن کی کتاب میں بینظیر بھٹو صاحبہ کا ذکر جس محبت اور احترام سے کیا گیا ہے اسے پڑھ کر دل میں اک درد سا اٹھتا ہے۔

جس خاتون کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لندن کی سڑکوں پر ہیلری کلنٹن کھڑی ہو جاتی تھی اس خاتون کو راولپنڈی کی ایک سڑک پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔کئی سال گزرنے کے باوجود انکے مقدمہ قتل کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ اس مقدمے میں ایک امریکی صحافی مارک سیگل اہم گواہ تھے۔پیپلز پارٹی کی حکومت 2008ء سے 2013ء تک اقتدار میں رہی اس پانچ سالہ دور اقتدار میں پیپلز پارٹی کی حکومت مارک سیگل کو پاکستان بلا کر عدالت میں ان کا بیان ریکارڈ نہ کراسکی ۔آخر کار اکتوبر 2015ء میں نواز شریف کے دور اقتدار میں ویڈیو لنک کے ذریعہ مارک سیگل کا بیان امریکہ سے ریکارڈ کرایا گیا۔

مارک سیگل نے اس بیان میں کہا کہ 25ستمبر 2007ء کو انکی موجودگی میں بینظیر بھٹو نے پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی ایک ٹیلی فون کال سنی جس میں مشرف نے بینظیر بھٹو کے ساتھ دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا تھا۔ یہ بیان ریکارڈ ہونے کے بعد پرویز مشرف نے مارک سیگل کا بیان مسترد کر دیا اور کہا کہ انہوں نے کبھی بینظیر بھٹو کے ساتھ فون پر بات نہیں کی تھی۔انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری بینظیر بھٹو پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے ماری گئیں۔پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بینظیر بھٹو کے کچھ مبینہ قاتل تو پکڑ لئے گئے لیکن قتل کے اصل ماسٹر مائنڈ کو کبھی نہیں پکڑا جا سکے گا۔ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں مارک سیگل کو ایک ای میل بھجوائی تھی جس میں لکھا تھا کہ اگر وہ قتل ہو گئیں تو ذمہ دار پرویز مشرف ہونگے۔

بینظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو قتل ہوئیں اور اسی شام مارک سیگل نے سی این این پر وولف بلٹزر کے پروگرام میں اس ای میل کا ذکر کر دیا تھا۔ اس قتل کے فوراً بعد القاعدہ کے ایک رہنما مصطفیٰ ابو یزید نے بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی لیکن وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے طالبان رہنما بیت اللہ محسود کو بینظیر بھٹو کا قاتل قرار دیا۔بیت اللہ محسود نے اس الزام کی تردید کر دی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ طالبان جو ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری فخر سے قبول کر سکتے ہیں انہوں نے بینظیر بھٹو پر حملے کی ذمہ داری کیوں قبول نہ کی؟سچ اور جھوٹ کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو ہے لیکن مارک سیگل کے بیان اور اس سے جڑے ہوئے دیگر حقائق نے اہل فکرونظر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

آپ مارک سیگل کو جھوٹا قرار دے سکتے ہیں لیکن سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی گواہی کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں! رائس کی یہ گواہی انکی 2011ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’نو ہائر آنر ‘‘ (NO HIGHER HONORیں موجود ہے۔ کونڈولیزا رائس نے لکھا ہے کہ 2007ء کے شروع میں پرویز مشرف نے ان سے رابطہ کیا اور بینظیر بھٹو کے ساتھ مفاہمت کیلئے مدد مانگی۔رائس کی کوششوں سے مشرف اور بینظیر بھٹو کی جولائی 2007ء میں متحدہ عرب امارات میں ملاقات ہوئی جو بے نتیجہ رہی۔8؍اگست 2007ء کو پرویز مشرف پاکستان میں مارشل لاء نافذ کرنے والے تھے ۔رائس نے مشرف کو فون کرکے مارشل لاء سے باز رہنے کیلئے کہا۔ رائس کی کوششوں سے مشرف اور بینظیر بھٹو میں دوبارہ ڈائیلاگ شروع ہوا۔

ڈائیلاگ کا مقصد بینظیر بھٹو کی سیاسی مقبولیت اور فوج کی طاقت کو ملا کر انتہا پسندی کا خاتمہ تھا لیکن مشرف چاہتے تھے کہ بے نظیربھٹو انتخابات کے بعد واپس آئیں۔ رائس کو بینظیر بھٹو کی انتخابات سے قبل واپسی پر کوئی اعتراض نہ تھا لہٰذا وہ اکتوبر 2007ء میں پاکستان واپس آئیں تو ان پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہو گیا۔حملے کے کچھ دنوں بعد مشرف نے آئین معطل کر دیا تو بینظیر نے مشرف کے ساتھ مفاہمت ختم کر دی اور 27 دسمبر کو ایک اور حملے میں ماری گئیں۔کنڈولیزا رائس کی کتاب کے مطالعے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بینظیر بھٹو اور مشرف میں مفاہمت کا ا علان تو ہوا لیکن مشرف کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی قبول نہ تھی اور وہ انہیں واپس جانے پر مجبور کرتے رہے ۔

2007ء میں اس خاکسار نے جو کالم لکھے وہ نکال کر پڑھ لئے جائیں۔میں بھی بینظیر بھٹو کو مشرف کے ساتھ نام نہاد مفاہمت کے بھیانک نتائج سے خبردار کرتا رہا۔پاکستان واپسی کے بعد بینظیر صاحبہ نے اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران مجھے کہا کہ آپ کے خدشات درست تھے ۔انہوں نے صاف کہا کہ کراچی میں ان پر حملے کی ذمہ دار حکومت تھی اور یہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔کیا یہ صرف ایک بدگمانی تھی ؟قتل سے صرف چند گھنٹے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج نے محترمہ بینظیر بھٹو سے رحمان ملک کی موجودگی میں ملاقات کی اور انہیں لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسے میں جانے سے منع کیا ۔یہ ملاقات میجر جنرل نصرت نعیم کی کوشش سے ہوئی تھی جن کو یقین تھا کہ راولپنڈی میں بینظیر بھٹو پر حملہ ہونے والا ہے ۔ بینظیر بھٹو کا خیال تھا کہ انہیں دہشت گردوں سے ڈرا کر جلسے میں جانے سے روکنے کی بجائے مزید سیکورٹی دی جائے تاکہ دہشت گردوں کا حوصلہ توڑا جائے ۔

مزید سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی حکومت کے کردار پر سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان نے بھی کئی شکوک وشبہات پیدا کئے جو انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کو دیا ۔کمیشن کے سربراہ ہیرالڈو میونوز نے جنرل کیانی کے اس بیان کا ذکر اپنی کتاب ’’قاتل بچ نکلا ‘‘(GETTING AWAY WITH MURDER)میں کیا ہے۔ ہیرالڈو نے آرمی ہائوس راولپنڈی میں جنرل کیانی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد راولپنڈی پولیس کی کارکردگی کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیا اور کہا کہ اگر آپ 24 گھنٹے کے اندر اندر جائے وقوعہ کو محفوظ نہیں بناتے تو پھر اہم شواہد ضائع ہو جاتے ہیں۔کیانی نے اشارہ دیا کہ انہیں بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی میں بیت اللہ محسود کے ملوث ہونے کا یقین نہیں تھا اور اس سلسلے میں مشرف حکومت کی پریس کانفرنس قبل از وقت تھی کیونکہ صرف کسی فون کال کی بنیاد پر مجرم کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

اس کتاب میں جنرل کیانی اور جنرل ندیم تاج کے متعلق جو لکھا گیا ہے اس سے تاثر ملتا ہے کہ فوج یا آئی ایس آئی بطور ادارہ بینظیر بھٹو کے خلاف کسی سازش میں ملوث نہ تھے لیکن کچھ افراد نے بینظیر بھٹو کو مناسب سیکورٹی فراہم نہ کرکے اور پھر ان کے قتل کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈال کر ایسے سوالات ضرور پیدا کر دیئے جن کا جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔کیا کسی کو اس ذمہ داری کا احساس ہے ؟

اہم ترین سوال یہ ہے کہ اکتوبر 2007ء میں کراچی آمد پر بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کے بعد انکی سیکورٹی کیوں نہ بڑھائی گئی ؟ اگر حکومت کو یقین تھا کہ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ان پر حملہ ہونے والا ہے تو وہاں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیوں نہ کئے گئے ؟ بینظیر بھٹو کو ڈرا ڈرا کر جلسے جلوسوں سے روکنے اور پاکستان سے بھگانے کی کوشش کیوں کی گئی ؟ جو نہ بھاگے اسے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اس پر حملہ ہو جائے اور وہ بچ جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس مرتبہ بچ گئے آئندہ نہیں بچوگے۔ پھر دوبارہ حملہ ہو جاتا ہے اور بندہ مارا جائے تو قتل کا ذمہ دار مقتول کو ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کا ماسٹر مائنڈ نہ پکڑا گیا تو وطن عزیز میں سیاست دان اور صحافی سڑکوں پر قتل ہوتے رہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دن ہر طرف خاموشی ہو جائے اور آپ اس خاموشی کو امن قرار دینے لگیں لیکن یہ قبرستان کی خاموشی ہو گی۔ ہمیں پاکستان کو قبرستان نہیں بنانا ہمیں بولنا ہو گا۔

-------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم گار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.