.

قندوزحملے کے مضمرات

رحیم اللہ یوسف زئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹھائیس ستمبر کو طالبان دستوں کی طرف سے قندوز شہر پر مختصر مدت کے لئے قبضہ افغانستان میں آئندہ پیش آنے والے واقعات کی ایک مثل قرار دیا جاسکتا ہے۔اگرچہ افغان سیکورٹی فورسز نے امریکی اسپیشل فورسز اور نیٹو کی فضائیہ کی مدد سے اس اہم شہر کے زیادہ تر حصوں کا کنٹرول واپس چھین لیا، لیکن طالبان جنگجو ابھی بھی اس کے مضافات میں چھاپہ مار کارروائیاں کررہے ہیں۔ اس طرح قندوز شہر کو طالبان کی طرف سے ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا، اور اس پر فریقین میں سے کوئی بھی، جس کا بھی کسی وقت پلڑابھاری ہوگا،قبضہ کرلے گا۔ اس سے پہلے طالبان نے ستمبر 2014ء اور پھر اپریل 2015ء میں قندوز شہرپر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ طالبان کی طرف سے قندوز شہر ، جو کہ قندوز صوبے کادارالحکومت ہے، کولاحق خطرے میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اُنھوں نے اس شہر کے نزدیک کچھ اہم ضلعی مقامات، جیسا کہ چہاردرا، دشت ِ آرچی اور امام صاحب پر قبضہ کرلیا تھا۔اس کے بعد خان آباد اور قلعہ زل کو بھی خطرہ محسوس ہونے لگا اور بعد میں یہ ضلعی مراکز بھی اُن کے قبضے میں چلے گئے۔

شمالی افغانستان میں پشتون اکثریتی صوبے کے شہر،قندوز ،پر قبضے کی کوششوںکے لئے گاہے بگاہے کیے جانے والے حملے عام شہریوں کی پریشانی اور تکلیف میں اضافہ کر چکے ہیں۔ قندوز میں 34 فیصد پشتون، 27 فیصد ازبک اور 23 فیصد تاجک نسل کے باشندوں کے علاوہ کچھ اور قومیتیں بھی آبادہیں، چنانچہ ان کی وفاداریاں اورسیاسی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ یہ اختلافات ان کے درمیان گہری فالٹ لائنز پیدا کرتے ہیں کیونکہ مختلف نسلی گروہ ہمیشہ طاقت اور وسائل کے لئے ایک دوسرے سے مسابقت کی دوڑ میں شریک رہتے ہیں۔ یہ صورت ِحال اُس وقت اور بھی بدترہوگئی جب امریکہ نے طالبان سے لڑنے کے لئے غیر پشتون جنگجوئوں کو بھرتی کرنا شروع کردیا۔ نسلی بنیادوں پر اپنا وجود رکھنے والی لکیریں مزید گہری ہوتی گئیں جب ان غیر پشتون جنگی دستوں، جنہیں’’ارباکی‘‘ کہا جاتا ہے، نے قانون اپنے ہاتھوں میں لے کر پرانے حساب چکانے شروع کردئیے۔

طالبان کے لئے قندوز کی اہمیت یہ ہے کہ یہ جغرافیائی طور پر اُن کے مضبوط گڑھ، جو پاکستان کی سرحد کے نزدیک جنوبی اور مشرقی افغانستان میں واقع ہیں، سے بہت دور ہے۔ طالبان، جن کی صفوں میں زیادہ تر پشتون نسل کے لوگ ہیں، شمالی افغانستان میں کمزور سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں غیر پشتون، جیسا کہ تاجک، ازبک، ہزارہ شیعہ اور ترکمن نسل کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ شمال کے علاوہ مغربی اور وسطی افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب بہت سے غیر پشتون افراد بھی ان کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں۔

اگرچہ درست اعدادوشمار دستیاب نہیں لیکن کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق پانچ سو کے قریب طالبان جنگجوئوں نے قندوز شہر پر حملہ کیا اور افغان نیشنل آرمی، افغان نیشنل پولیس اور افغان لوکل پولیس کہلانے والے ملیشیا کے مجموعی طورپر سات ہزارسیکورٹی اہل کاروں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ اس جنگ میں ان دستوں کی ناقص کارکردگی نے خطرے کی گھنٹیاں بجاتے ہوئے چارلاکھ نفوس پر مشتمل افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کی کمزوری کے بارے میں بعض حلقوںکے خدشات کی تصدیق کردی ۔ اس فورس کو تربیت دینے اور ہتھیار فراہم کرنے پر امریکہ نے 65 بلین ڈالر کے لگ بھگ خطیر رقم خرچ کی ، لیکن وہ تعدادمیں بہت کم اور ہتھیاروں کے اعتبار سے بہت پست ,طالبان کے حملے کا سامنا بھی نہ کرسکے۔ بہت سے تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ طالبان ایک مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے لڑرہے ہیں جبکہ افغان فوجیوں کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فورس سے فرار ہونے والوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہے۔

قندوز میں اٹھائی جانے والی ہزیمت نے افغان حکومت کے اتحادکوشرمندگی سے دوچار کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرماگرم بحث اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیااور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز ڈاکٹر عبداﷲ عبداللہ کے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آگیا۔ پارلیمنٹ کے ارکان نے طالبان کا سامنا نہ کرنے اور مقابلہ کیے بغیر میدان چھوڑ کر بھاگ نکلنے پر فوجی کمانڈروں اور قندوز شہر کی سول انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔تنقید کی تاب نہ لاتے ہوئے حکومت کو اعلان کرنا پڑا کہ قصور وار ثابت ہونے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ گورنر عمر سافی ، جو قندوز پر طالبان کے قبضے کے وقت تعطیلات گزارنے گئے ہوئے تھے، کو برطرف کرکے نگران گورنر مقرر کردیا گیا۔ انتہائی حساس چار شمالی صوبوں میں طالبان کے بڑھتے ہوئے خطرے کا تدارک کرنے کے لئے نئے گورنر تعینات کیے گئے۔ بہت سے افغان حلقوں نے اسے عالمی طاقتوں کی سازش قراردیتے ہوئے امریکی اورعلاقائی ، خاص طور پر پاکستان کے، خفیہ اداروں کو مورد ِ الزام ٹھہرایا۔

قندوز تاجکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور اس کا ڈیورنڈ لائن سے فاصلہ پانچ سو کلومیٹر ہے۔پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے جنگجوئوں کو قندوز کی لڑائی میں شرکت کرنے کے لئے پورے افغانستان سے گزرنے کی ضرورت تھی۔ اُنہیں وقت کے علاوہ سفر کرنے اور لڑنے کے لئے وسائل بھی درکار تھے ، اور پھر خطے میں جابجا چیک پوسٹوں میں سے بچ کر گزرنا آسان نہ تھا۔ کچھ حلقوں نے اسے داخلی سازش سے تعبیر کیا جس کے تانے بانے مخلوط حکومت میں شامل افسرا ن نے بنے تھے۔ وزیر ِ داخلہ نورالحق علومی، جو سابق دور میں کمیونسٹ تھے، نے دعویٰ کیا کہ اس شکست میں بہت سے سیکورٹی اہل کاروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ ماضی میں وزیر ِ موصوف کی طرف سے بیان سامنے آیا تھاکہ افغانستان کے دشمن جنوبی علاقوں جبکہ افغانستان کے ’’دوست‘‘ (افغان جنگجو سردار)شمالی علاقوں میں مسائل کے ذمہ دار ہیں۔

قندوز کی شکست کے بعد افغانستان میں غیر ملکی افواج کو دیر تک ٹھہرنے کا جواز مل سکتا ہے، کیونکہ اس واقعہ نے ثابت کیا کہ صرف ان کی مدد سے ہی افغان فورسز طالبان حملے کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئی تھیں۔ سی ای او ڈاکٹر عبداﷲ پہلے ہی کہتے رہے ہیں کہ غیر ملکی افواج کو 2016ء کے بعد بھی ٹھہرنا چاہیے۔ صدر باراک اوباما کے منصوبے کے مطابق 2016ء کے بعد صرف ایک ہزار غیر ملکی فوجی افغانستان میں قیام کریں گے، اور وہ بھی امریکی سفارت خانے میں موجود رہیں گے۔ تاہم افغانستان میں 14,000 امریکی اور غیر ملکی دستوں کی کمان کرنے والے جنرل جان کمپل کی تجویز تھی کہ فوجی دستوں کے یک دم انخلا کی بجائے اگلے پندرہ ماہ کے دوران ان کی تعداد میں بتدریج کمی لائی جائے۔ قندوز لڑائی کے دوران امریکی جنگی طیاروں کی طرف سے Doctors Without Borders کے زیر اہتمام چلائے جانے والے ایک دوسوبیڈ کے اسپتال پر بمباری کے نتیجے میں عملے کے بارہ افراد سمیت بائیس افراد ہلاک ہو گئے ۔ اس حملے کے نتیجے میں ملک میں امریکہ مخالف جذبات ابھرے۔ اس حملے کو بڑی حد تک جنگی جرم تصور کیا جارہا ہے، اگرچہ ماضی میں بھی ایسے ہی حملوں میں افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوتے رہے لیکن جلد ہی اُنہیں بھلا دیا گیا۔ Doctors Without Borders کے سربراہ کی طرف سے سخت اور اصولی موقف اپناتے ہوئے حملے کی انٹرنیشنل انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا گیاجس نے امریکہ کو ایک الجھن میںڈال دیا ہے، کیونکہ وہ حسب ِمعمول داخلی طور پر انکوائری کرتے ہوئے اپنی مرضی سے معاملات کو ہینڈل کرنا چاہتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ طالبان حملے کی صورت میں امریکی فضائیہ کا استعمال دیکھنے میں نہ آئے۔

قندوز پر قبضے نے نئے طالبان رہنما ملا اختر محمد منصور کی پوزیشن کو مستحکم کردیا ہے کیونکہ ان کے قائد بننے کے فوراً بعد طالبان 2001ء میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ کسی اہم شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ قندوز حملے کی قیادت ملاّ عبدالسلام نے کی۔ ملاّعبدالسلام ، جو ملاّ منصور کے بہت قریب ہیں اور ملاّ محمد عمر کی وفات کے بعد جانشینی کے مسئلے پر ان حمایت کرنے والے اولین طالبان کمانڈروں میں سے ایک تھے، کو طالبان کی طرف سے قندوز کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اس سے پہلے ملاّ منصور کی پوزیشن کو غزنی جیل توڑ کر طالبان کے 355 قیدی، جن میں 148 پر سیاسی اور دہشت گردی کے الزامات تھے، کو رہا کرانے کی کارروائی نے بھی مستحکم کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ تحریک طالبان میں منصور کے مخالفین کو یا تو اُنہیں اپنا قائد تسلیم کرنایا غیر فعال ہوکر ایک طرف ہٹنا پڑے گا، کیونکہ قندوز پر حملے کے بعد اب اُن کی مخالفت کرنے والے طالبان کے لئے قابل ِ قبول نہ رہیں گے۔ منصور کی مخالفت کرنے والے قیادت سے اُس وقت بے آسرا ہوگئے جب ملاّعمر کے خاندان نے اپنا ابتدائی موقف تبدیل کرکے ملاّ منصور کی قیادت کو تسلیم کرلیا۔

قندوز کی جنگ نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی امیدیں چکنا چور کردی ہیں۔اس وقت طرفین غصے سے اتنے آگ بگولا ہیں کہ ان کے درمیان بات چیت کی گنجائش نکلتی دکھائی نہیں دیتی۔ قندوز پرحملے اور شمالی افغانستان کے درجنوں ضلعی مقامات پر قبضے نے طالبان کے حوصلے بڑھا دئیے ہیں۔ اب افغان حکومت طالبان کے حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لئے شدید دبائو کا شکار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سات جولائی کو مری میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اب اگلا دور بہت تاخیر سے ہوگا ، بشرطیکہ پاکستان طالبان کو بات چیت کرنے پر آمادہ کرس

------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.