اسرائیل کے ساتھ چوتھا معاہدہ

عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کاریش گیس فیلڈ پرحالیہ معاہدے اور لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحدوں کی حدبندی پرنظر ڈالی جائے تو ہمیں یہ سمجھنے کے لیے گیس سے آگے دیکھنا ہوگاکہ ایران کے اتحادی بغلول میڈیا میں سیاسی رعایت کی کسی بھی بات کو کیوں نظراندازکر رہے ہیں۔معاہدے کے طول وعرض توبحرمتوسط (بحیرہ روم) کے پانیوں میں کھودے جانے والے کنوؤں سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔

اگر اعلیٰ مفادات نہیں ہوتے تومصر، نہ اردن اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ امن قائم کر پاتے اور برقرار رکھتے۔ مصر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ اورطابا معاہدہ، اردن کے ساتھ وادیِ عربہ کا معاہدہ، اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اوسلو معاہدہ،ان سب کے معاشی ضمیمے ہیں جو آج تک ان معاہدوں کی ضمانت کے طور پرکام کرتے ہیں۔

تاہم ،طابا، وادیِ عربہ اور اوسلو معاہدوں کے برعکس ، کاریش معاہدہ اسرائیل کے ساتھ بنیادی طور پرکوئی امن معاہدہ نہیں ہے- کم سے کم ابھی تک تونہیں۔ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے توشاید یہ واحد امکان ہے جو لبنان کے زوال کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لبنان نے مبہم اعداد و شمارفراہم کیے ہیں لیکن ابتدائی تخمینے کے مطابق لبنان کی سالانہ آمدن میں قریباً 5 ارب ڈالرکا اضافہ متوقع ہے جو حکومت کے بجٹ کا قریباً ایک تہائی ہے۔اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی آمدن لبنان کو اس کے 90 ارب ڈالر کے قرضوں سے نہیں بچا سکتی ہے۔

لبنان اسی گیس فیلڈ میں اسرائیل کی طرح اہم آمدنی حاصل کرسکتا ہے ، لیکن ڈرلنگ بھی دھوکا دہی ثابت ہوسکتی ہے ،جیسا کہ سمندری گیس فیلڈزمیں قطر کے ساتھ بحرین کا معاملہ تھا۔

کیا کاریش معاہدہ دمشق کو مذاکراتی ٹرین میں کودنے اور اسرائیل کے ساتھ اپنی آخری متنازع سرحد کو بند کرنے کی ترغیب دے گا؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ شام نے سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر حدبندی کی تھی۔ اپنے آخری دنوں میں ، صدر حافظ الاسد نے جنیوا کا سفر کیا تھا اور اپنی ابتدائی منظوری دی تھی ،صرف اسرائیلیوں کے لیے افق پر تبدیلیوں کا پتالگانے کی آڑ میں تازہ افہام و تفہیم کی خلاف ورزی کرنا تھا۔درحقیقت ، بحیرہ (جھیل) طبریا پرمذاکرات اور اس کے وسائل کی تقسیم کے دو ماہ بعد حافظ الاسد کا انتقال ہو گیا تھا۔اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی سرپرستی میں کینیڈا کی ایک کمپنی کو عمل درآمد کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اس معاہدے سے واقف شخصیات کے بہ قول اس نے دمشق کے زیادہ ترحد بندی کے مطالبات اور اسرائیل کے سلامتی اور فوجی مطالبات کو پورا کیاتھا۔اگر یہ مقدر نہ ہوتا تو یہ لمحہ شام اور خطے کی تاریخ بدل دیتا۔

اس کے باوجود، جھیل طبریاکے برعکس، قسمت لبنان کے کاریش معاہدے کے لیے کام کر سکتی ہے۔دو سال قبل شروع ہونے والے مذاکرات، فرانس کی طرف سے جلدبازی میں اسپانسرکیے گئے تھے اورامریکیوں نے اسرائیل کو قائل کرنے کی کوشش میں پیرس کی درخواست پر ثالثی کی ہے۔اب یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں اختتام پذیر ہوئے ہیں جو شاید اتفاق نہیں ہے. آنے والے دو ہفتوں میں دونوں ممالک میں اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی: اسرائیل میں یائرلبید کی حکومت کی میعاد یکم نومبر کو ختم ہونے والی ہے، جبکہ لبنان میں،میشال عون کی مدتِ صدارت، نظری طور پر، ایک دن پہلے، 31 اکتوبر کو ختم ہونے والی ہے۔

لبنان میں ایران نواز مزاحمتی محور کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو تیزکرنے میں جس دل چسپی کا مظاہرہ کیا گیا ہے،وہ عجیب معلوم ہوتا ہےلیکن اگر ہم سطح کو کھرچتے ہیں تو اس کی وجہ واضح ہوجاتی ہے:کاریش کے پاس تیل ہے ،طبریا جھیل کے پاس صرف مچھلی ہے۔

تیل، گیس اور ڈالر کے علاوہ سیاسی پہلو بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ سرحدوں اور خودمختاری کے معاملات پر اسرائیل کے ساتھ طے پانے والا ایک معاہدہ ہے، اور دوطرفہ تعلقات کا انتظام فرانسیسی ، روسی اور دیگر بینکوں اور تیل کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ آمدنی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ لبنان کی گیس کو مصری تیل، اردن کے پانیوں اور فلسطینی معاشی خود مختاری کی طرح ایک ہی علاقائی مساوات میں ڈال دے گا۔ بہ الفاظ دیگریہ بھی اعلیٰ مفادات پر مبنی ایک رشتہ ہوگا۔ماضی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔آج ان کی مالیت 5 ارب ڈالر ہے۔

تیل اورڈالروں کے حصول میں، حزب اللہ نے شبعا فارمزپر کاریش کوترجیح دی ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہ جماعت اور تہران دونوں اس (اسرائیل) سے مذاکراتی عمل کی تائیدسے انکارکرچکے تھے۔

لبنان کو جس موجودہ معاشی بحران کا سامنا ہے، یہ حزب اللہ کا بدترین بحران بھی ہے۔ایران نے چالیس سال قبل اس ملیشیا کی بنیاد رکھی تھی۔مغرب نے حزب اللہ پر جو معاشی اور مالی پابندیاں عاید کی ہیں، اس نے اس کی تمباکو کی اسمگلنگ سے لے کر منشیات کی اسمگلنگ تک، سب کارروائیوں اور سرگرمیوں ہی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔رقوم کی منتقلی پر پابندی اور مغرب کے بینکاری کے نظام سے تہران کے اخراج کے بعد ،ایران نے اس جماعت کو سالانہ نصف ارب ڈالر کی مالی امداد سے بھی محروم کردیا ہے۔اس کے بجائے حزب اللہ کو لبنان میں فروخت کرنے کے لیے تیل کی مصنوعات بھیجنے کا سہارا لیا تاکہ اس کی سرگرمیوں کو مالی اعانت مہیا کی جاسکے۔ لیکن یہاں تک کہ ان پربھی واشنگٹن نے پابندیاں عاید کردیں اور لبنانی حکومت پربھی پابندیاں عاید کی ہیں۔

کاریش معاہدہ ہرطرف سے محصور حزب اللہ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوسکتا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکا دونوں تھے جنھوں نے اس مرتبہ حزب اللہ کی ’لائف لائن‘ میں توسیع کی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں