سٹورمی ڈینیئلز جو ٹرمپ کا کیریئر تباہ کر سکتی ہیں

ایملی مائٹلس
ایملی مائٹلس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ڈونلڈ ٹرمپ کے دفاع کا آغاز ہی بدشگونی سے ہوا۔ سابق صدر نے اپنے ہی سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر موٹی (انگلی سے لکھی گئی) ہجوں کی موٹی غلطی کرتے ہوئے، پر اپنے ٹریڈ مارک بلاک کیپٹل حروف میں چیختے ہوئے لکھا کہ انہیں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کٹر انتہاپسندوں نے INDICATE کیا ہے۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے (بشرطیکہ QAnon تنظیم کا کوئی خفیہ کوڈ نہ ہو) البتہ انہیں indict کیا گیا ہے۔ برطانوی قارئین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں فردِ جرم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسا کرنے والے تاریخ میں پہلے امریکی صدر ہوں گے۔

تو اب آگے چل کر کیا ہو گا؟ کیا الزامات کی کوئی تک بنتی ہے، اور کیا ثبوت جمع ہو جائیں گے؟

تادمِ تحریر الزامات ابھی تک بند لفافے میں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ابھی تک کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ نیویارک کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ کا ٹرمپ پر کیس اصل میں کیا ہے، لیکن قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ فرد جرم ان کے کاروباری ریکارڈ کی ممکنہ جعل سازی سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ان کی انتخابی مہم کی مالی اعانت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

تحقیقات 2016 کے انتخابات سے پہلے کے دنوں میں ٹرمپ نے (سابق پورن سٹار) سٹورمی ڈینیئلز کو ادا کی گئی رقم کے ارد گرد گھوم رہی ہیں۔ اس رقم کا مقصد یہ تھا کہ انہیں ایک دہائی قبل اس کے ساتھ کیے گئے جنسی تعلقات کے بارے میں بات کرنے سے روکا جا سکے۔

ڈینیئلز اس وقت تک خاموش تھیں، لیکن زیادہ دیر تک خاموش رہی نہیں۔ جب وہ صدر ٹرمپ کے عضو کی شکل کے بارے میں تفصیل سے بات کر رہی تھیں تب میں نے 2018 میں ان کا انٹرویو کیا تھا۔ وہ ذہین، سخت، صفائی سے بولنے والی اور مزاحیہ تھیں۔ جب صدر ٹرمپ نے ان کا نام عوام کے سامنے افشا کر دیا تو ڈینیئلز نے بنیادی طور پر فیصلہ کر لیا کہ یہ صدر ٹرمپ کو شہ مات دینے کا وقت آ گیا ہے۔

عجیب و غریب ستم ظریفی ہے کہ جس عورت کا منہ بند کرنے کے لیے ٹرمپ نے رقم ادا کی وہ درحقیقت ان کا ’ہاؤس آف کارڈز‘ (تنکوں کا گھر) منہدم کر سکتی ہیں۔ ان کے جسم کا تھوڑا سا حصہ اوپر بیان کردہ موٹی انگلی سے بھی زیادہ شہرت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

جیسے ہی فرد جرم کی خبر میڈیا پر نشر ہوئی، جس کی تفصیلات ابھی تک پردے میں ہیں، ٹرمپ کے ساتھیوں نے فوری طور پر اسے سیاسی انتقام کا شاخسانہ قرار دے دیا۔

یہاں تک کہ صدارتی پرائمری انتخابات میں ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے والے سینیئر رپبلکن سیاست دانوں نے بھی احتیاط کے ساتھ برہمی کا اظہار کیا۔

فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس نے اسے ’قانونی نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا عمل‘ قرار دیا۔ نکی ہیلی، جن کا ٹرمپ کے لیے رویہ پیار اور دھتکار والا ہے، نے اسے ’انصاف سے زیادہ انتقام‘ قرار دیا۔

مائیک پینس تک نے اس فرد جرم کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا۔ یہ وہی پینس ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر بھی خود کو کیپیٹل کی عمارت پر ہلہ بولنے والے مظاہرین کے خلاف اپنی زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے پایا۔

آپ نے غور کیا ہو گا کہ ان تبصروں میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ٹرمپ خود بےقصور ہیں۔

اس سارے معاملے کا سیاسی نچوڑ یہ ہے کہ جو لوگ 2024 میں صدر کے لیے رپبلکن نامزدگی کے خواہاں ہیں ان کا خیال ہے کہ انہیں اپنے آپ کو ٹرمپ کی بنیادی مہم سے جوڑنا چاہیے۔ یہ دھڑا سمجھتا ہے کہ نظام اس کے خلاف ہے، اور یہ کہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرانے کی تمام کوششیں سیاسی استحصال ہیں۔ یہ وہی نکتہ ہے جو ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو پڑھایا ہے۔

لیکن سابق صدر ٹرمپ کی زیادہ شد و مد سے توثیق کریں اور وہ سیدھے ان کے بازوؤں میں چلے جائیں گے۔ نامزدگی کے خواہش مند بھی یہی نہیں چاہتے۔ کچھ نے بڑی ہوشیاری سے فی الحال مکمل خاموشی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

اور یہاں تک کہ ڈیموکریٹس جو سیاسی انتقام کے نظریے کا مذاق اڑاتے ہیں وہ نیویارک کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے اقدام کے بارے میں اپنی عدم تحفظ کا اعتراف کریں گے۔ وہ اندرونی طور پر سوچیں گے کہ ٹرمپ کے خلاف ممکنہ طور پر استعمال ہونے والے الزامات میں آپ کو بس یہی کچھ ملا تھا؟ ان الزمات میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش، جمہوریت گول کرنے کا اقدام، جارجیا میں جعلی ووٹوں کی بھیک مانگنا وغیرہ شامل ہیں۔

کیا یہ وہ پہاڑی ہے جس پر مرنا ہے: ایک اداکار، چند ہزار ڈالر اور ایک ناقص کاروباری معاہدہ؟ اس معاملے میں معروف مافیا ڈان ال کیپون کی سی بازگشت ملتی ہے۔ یہ غنڈوں کو پکڑنے کا طریقہ ہے، آمرانہ ذہنیت رکھنے والے شعبدہ بازوں کو نہیں۔

اور پھر بھی، ان ڈیموکریٹس کو اس فرد جرم پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ آپ کو ان ثبوتوں سے معاملے کا آغاز کرنا ہو گا جو آپ کے پاس ہیں، نہ کہ ان ثبوتوں سے جن کی آپ کو خواہش ہے۔ اور یہ یاد رکھیں کی انہی ثبوتوں کی بنا پر پہلے بھی ایک شخص پر نہ صرف فردِ جرم عائد ہو چکی ہے بلکہ اسے مجرم قرار دے کر سلاخوں کے پیچھے بھی بھیجا جا چکا ہے۔ یہ شخص ہیں ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن۔

پچھلی بار ٹرمپ پر فردِ جرم اس لیے نہیں لگی تھی کیوں کہ وہ اقتدار میں تھے۔ اس بار وہ اقتدار سے باہر ہیں۔

اس مقدمے کے بعد سے ٹرمپ کے سیاسی ورثے کے بارے میں بہت کچھ کہا سنا گیا ہے۔ وہ اس طرح سیاسی شہید کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ سرخیوں میں رہیں گے، ان کے مخالفین مفلوج ہو جائیں گے تاکہ وہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کر سکیں۔

لیکن اس طرح ایک بہت اہم معاملہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ بالکل بھی جیل نہیں جانا چاہتے۔ ٹرمپ پچھلے 40 سالوں سے کسی نہ کسی طرح خود پر فرد جرم عائد ہونے سے بچ رہے ہیں۔ یہ کبھی بھی ان کے منصوبوں کا حصہ نہیں تھا۔

ایک ایسا آدمی جو ووٹروں کو لبھانا جانتا ہے، پریس کو خوش کرنا، عوام کو خوش کرنا اور برقی زینے کے نیچے سفر کو مسحور کن بنانا جانتے ہیں (ٹرمپ نے اپنی نامزدگی کا اعلان ٹرمپ ٹاور میں سونے سے بنے برقی زینے سے نیچے آتے ہوئے کیا تھا)، لیکن حالات ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں۔ اب حالات گرینڈ جیوری اور جج کے ہاتھوں میں ہیں۔ حالات و واقعات کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کرنے والے ٹرمپ کے لیے یہ ہضم کرنا آسان نہیں ہے۔

ٹرمپ کے سیاسی مخالفین جانتے ہیں کہ انہیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے۔ ایک معمولی جرم کو سنگین جرم تک بڑھانے کے عمل کو مکمل طور پر بےعیب ہونا چاہیے۔

کوئی بھی ڈیموکریٹ جو قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے، اس مفروضے سے آغاز نہیں کر سکتا کہ لازماً جرم سرزد ہوا ہے۔ مجرم کی ’پرپ واک،‘ ان کی مجرمانہ کپڑوں میں تصویر (مگ شاٹ) جیسے صدر کی تذلیل کرنے والے کسی بھی عمل کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔

استغاثہ کے لیے درست لائحۂ عمل ڈھونڈے کے لیے آپ کو 20 سال ماضی میں جانا پڑے گا۔ وہ زمانہ جب ریئلٹی ٹی وی ’دا وائر‘ جیسے گٹھے ہوئے پروگراموں پر مشتمل ہوتا ہے نہ کہ ’دی اپرینٹس‘ جیسے چکاچوند والے پروگرام۔ دا وائر میں عمر نامی کردار نے خبردار کیا تھا:

’جب آپ بادشاہ کا نشانہ باندھیں تو آپ کا نشانہ نہیں چوکنا چاہیے۔‘
۔۔۔۔۔۔
حالات حاضرہ کے تناظر میں اہمیت کے پیش نظر مندرجہ بالا کالم معاصر ویب گاہ انڈیپنڈنٹ اردو کے شکریہ کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں