جو بائیڈن کے خلاف ایک خاموش بغاوت

ممدوح المہينی
ممدوح المہينی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

صدر جو بائیڈن کا بھلکڑ پن اور ہلکے سے نسیان میں مبتلا ہونا کسی کے لیے بھی نئی بات نہیں ہے۔ جس قدر جو بائیڈن کی اپنی شہرت پوری دنیا میں ہر طرف پھیلی ہے اسی طرح ان کے بھلکڑ پن کی مشہوری بھی دور دور تک ہے۔ کبھی وہ بھولتے ہیں، کبھی کبھی بھولتے ہکلانے لگتے ہیں۔ ان کا یہ بھلکڑ پن ان کے اندر ہچکچاہٹ سی پیدا کر دیتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کچھ بھولتے بھولتے یاد کر رہے یا پھر بھولتے بھولتے یاد کر رہے ہوتے ہیں۔

ڈولڈ ٹرمپ کی 'ری پبلکن ٹیم نے ان کی اس مشکل کو اپنے لیے ایک آسان ہدف میں تبدیل کر لیا ہے۔ جب دل چاہا اس جانب سے جو بائیڈن پر تضحیک اور تمسخر آمیز سا حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ 'سلیپی جو' ہے۔

اگر انتخابی مہم کو ایک فلم سازی کے کام سے تشبیہ دینے کی اجازت ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس فلم میں ' کامیڈی' کا کچھ مسالے دار سا لوازمہ بنا کر ٹرمپ ٹیم مہم کے شرکا کے لیے پھلجھڑیوں کا اہتمام کرتی ہے۔ بے ضرر سی صدارتی و سیاسی پھلجھڑیاں شرکا کے سامنے پیش کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔ یہ بے ضرر پھلجھڑیاں اکثر سبھوں کے دل لبھانے میں کام آتی ہیں۔ لیکن ڈیمو کریٹس پر یہ بجلی بن کر گرتی رہی ہیں۔ تا آنکہ 21 جولائی کا وہ دن آ گیا جب جو بائیڈن کے دوبارہ صدر بننے کے تمناؤں کے گھروندے پر بجلیاں بن کر گر گئیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے صدارتی انتخاب کے مقابلے سے دست برداری کے اعلان سے متعلق ایک امریکی شہری 21 جولائی 2024 کو نیویارک ٹائمز میں شائع مضمون دیکھ رہا ہے: رائیٹرز
امریکی صدر جو بائیڈن کے صدارتی انتخاب کے مقابلے سے دست برداری کے اعلان سے متعلق ایک امریکی شہری 21 جولائی 2024 کو نیویارک ٹائمز میں شائع مضمون دیکھ رہا ہے: رائیٹرز

جو بائیڈن کے حوالے سے بہت سی جھوٹی سچی ویڈیوز آن لائن موجود ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو بائیڈن کو کبھی بڑبڑاتے، کبھی کسی کی سوچوں میں گم اور کبھی گروپ سیون کے رفقا کے ساتھ خیالات کی بھول بھلیوں میں الجھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ کہ وہ عالمی رہنماؤں کے درمیان موجود بھی ہیں غائب بھی، گویا غائب الدماغی کے ساتھ موجود!

مگر سوال یہ ہے کہ جو بائیڈن کی نسیانی غلطیاں اچانک کیوں نمودار ہونا شروع ہو گئیں۔ پہلے انہیں یہ طعن اور طعنے ری پبلکنز کی طرف سے تھے۔ اب ڈیمو کریٹس نے بھی جو بائیڈن کے خلاف یہی اسلوب اختیار کر کے اپنے ہاتھ پتھروں سے بوجھل کر لیے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورت حال ایسی بن گئی، جیسے جو بائیڈن یہ کہنے پر مجبور ہو گئے' سنگ ہر شخص نے ہاتھوں اٹھا رکھا ہے۔ ' انہیں کافی مایوسی ہوئی کہ اپنے ہی بیگانے ہو گئے۔ پہلے انہیں ری پبلکنز اور میڈیا کے تیر نشتر سامنا تھا اب انہیں ڈیموکریٹ کی طرف سے بھی چیلنج تھا، خصوصاً 27 جون کے بعد۔

خون آلود چہرے کے ساتھ ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکرٹ سروس کے ایجنٹ بٹلر، پینسلوینیا میں انتخابی جلسے کے موقع پر قاتلانہ حملے کے بعد سٹیج سے نیچے اتار رہے ہیں: اے ایف پی
خون آلود چہرے کے ساتھ ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکرٹ سروس کے ایجنٹ بٹلر، پینسلوینیا میں انتخابی جلسے کے موقع پر قاتلانہ حملے کے بعد سٹیج سے نیچے اتار رہے ہیں: اے ایف پی

جو بائیڈن نے اس کا شکوہ بھی کیا کہ انہیں ' ایلیٹ' کے اپنے خلاف ہونے سے مایوسی ہوئی ہے۔ ہوا بھی یہ کہ جو پہلے ان کے مداح تھے، ان کے ساتھ چلتے تھے، ہمرکاب تھے اب ان کے سخت ناقد بن گئے تھے۔ ری پبلکنز کی مخالفت تو سمجھ میں آتی تھی کہ ان کا منفی ایجنڈا اقتدار کے لیے تھا مگر ڈیموکریٹس کی طرف سے یہ اندرونی یلغار ان کی صدارتی امیدواریت کے لیے جان لیوا ثابت ہو گئی۔ وہ مشعل اگلی نسل کے ہاتھ میں پکڑا کر خود گوشہ نشینی کی راہ پر آ گئے۔

واقعہ یہ ہے کہ جو بائیڈن کو کمزور اسی 'اندرونی کووڈ' نے کیا۔ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کو جوبائیڈن کے صدارتی قلعے کی فصیل کہا جائے تو آخری حملہ اسی فصیل کے اندر سے کیا گیا، لنکا ادھر سے ہی ڈھائی گئی۔ ان میں سے کئی ارکان کانگریس بھی تھے جن کی ایک میٹنگ میں باتیں سن سن کر جو بائیڈن کو طیش بھی آ گیا کہ وہ سیدھا سیدھا صدارتی دوڑ سے نکلنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ پیلوسی نے تو گویا کافی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جن پے تکیہ تھا وہ پتے ہوا دینے لگے تھے۔

13 جولائی کو ٹرمپ پر پینسلوینیا میں حملہ اگرچہ سنگین قاتلانہ حملہ تھا۔ مگر یہ گولی سر کے پاس سے سراہٹ پیدا کرتی ہوئی کانوں میں جیسے سرگوشی سی کر گئی ہو کہ اصل ہدف تو جو بائیڈن کی دوسری مدت صدارت کے لیے امیدواریت ہے۔ ان کے کان کو گولی چھو گئی وہ ہیرو سا بن کر سامنے آ گیا۔ جو بائیڈن کو گولی تو نہ لگی مگر ان کی دوبارہ صدارت کے خوابوں اور آرزوؤں کو زیرو کر گئی۔ ٹرمپ گولی لگنے کے بعد ہیروآنہ انداز میں اپنے ساتھیوں کے سامنے لڑو لڑو! کے نعرے لگا رہے تھے اور جو بائیڈن کے ساتھی ان پر آوازے کس رہے تھے نکلو نکلو!

کیا جو بائیڈن صدارتی دوڑ سے نکل جانا چاہتے تھے؟

کبھی نہیں مگر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس لیے جس طرح وہ اس سے پہلے ڈٹ کر کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ امیدوار نہ بنیں ، اب انہیں اس کے خلاف فیصلہ کرنا پڑا تھا، صرف دو روز پہلے وہ سب سے آگے خود کو سمجھتے اور رکھتے تھے۔ وہ صدارتی مہم سے چمٹے ہوئے تھے کہ ٹرمپ کو صرف وہی شکست دے سکتے ہیں۔ ان کا اعتماد اس قدر انہیں انگیخت کرتا تھا کہ وہ انتخابی جائزوں کو بھی رد کرتے جاتے تھے۔ مگر اب خود ہی اعلان کر رہے تھے کہ وہ نئی نسل کے لیے جگہ چھوڑ رہے ہیں۔

بلاشبہ یہ ان کے دل کی آواز تھی کہ ٹرمپ کو اگر کوئی شکست دے سکتا ہے تو وہ اکیلے جو بائیڈن ہیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے الوداعی الفاظ میں بھی یہی تاثر دیا کہ وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو نااہل سمجھ رہے ہیں اور ٹرمپ کو شکست نہیں دے سکتے۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ ان کے قریبی ساتھیوں نے ان کے خلاف ایک خاموش بغاوت کر دی ہے۔ جو اس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں اور صرف چند حامیوں کے درمیان چھوڑ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی اہلیہ بھی جن پر الزام لگتا رہا کہ وہ اقتدار کی خاطر جوڑ توڑ کرتی رہی ہیں۔

جو بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن سات جولائی 2024 کو ہیرسبرگ، پینسلوینیا  میں انتخابی ریلی میں شرکت کے لئے ہیرسبرگ انٹرنیشل ائرپورٹ پر: اے پی فوٹو/مینیوئل بیلس سینیٹا
جو بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن سات جولائی 2024 کو ہیرسبرگ، پینسلوینیا میں انتخابی ریلی میں شرکت کے لئے ہیرسبرگ انٹرنیشل ائرپورٹ پر: اے پی فوٹو/مینیوئل بیلس سینیٹا

اب سوال یہ بنتا ہے کہ جو بائیڈن کے ساتھ یہ سلوک رکھنے والے ڈیموکریٹس کل کلاں اپنے اس رویے اور فیصلے پر پچھتائیں گے؟ خصوصاً ایسے ماحول میں ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد ٹرمپ اپنی مقبولیت کی لہر سے اتنا لطف اٹھا رہے ہیں کہ سارے ری پبلکن بھی مکمل طور پر ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرتے۔ جیسا کہ ٹرمپ نے اپنا نائب صدر خود ہی نامزد کر کے ری پیبلیکنز کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔ ٹرمپ خود کو اگلے صدر کے طور پر دیکھنے کے ساتھ ساتھ ری پبلکن پارٹی میں بادشاہ گر کے طور پر بھی خود کو متعارف کرا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی نظر آنے والی مقبولیت نے انہیں یہ موقع دے دیا کہ پارٹی میں بغیر کسی کی مشاورت اور بحث مباحثے کے اپنے نائب صدر کے طور پر 'جے ڈی وانس' کا اعلان کر دیا۔

کیا کملا ہیرس آج کے مقبول عام ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے سکی گی؟ کیا وہ ووٹرز پر بھروسہ کر سکتی ہیں کہ وہ اس کے ساتھ ہیں؟ کیا وہ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح وہ کچھ کر سکتی ہیں جو بطور صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے کیا؟ کسی کو ان سوالات کے جواب فی الحال معلوم نہیں ہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ کملا ہیرس اگر جیت جاتی ہیں تو یہ بہت 'سرپرائزنگ' ہو گا۔ پچھلے ساڑھے تین برسوں میں ان کا ستارہ کچھ ایسا چمکا نہیں کہ جس سے توقع کی جا سکے کہ بطور صدارتی امیدوار ان کی جیت ممکن ہو سکے۔

کملا ہیرس پر یہ تنقید بھی ہوتی رہی ہے کہ انہوں نے 'امیگریشن' کے معاملے کو جس طرح ڈیل کیا ہے وہ ووٹرز کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ بعض ڈیموکریٹس کا یہ بھی خیال ہے کہ ان کے اندر وہ خصوصیات نہیں ہیں جو ماضی میں دوسرے ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدواروں میں دیکھ چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ ان مشکلات پر قابو پا لیں لیکن یہ سب مفروضے ہیں۔
-----------------
سینئر صحافی اور کالم نگار ممدوح المہينی العربیہ/ الحدث نیوز چینلز کے جنرل مینیجر ہیں۔ علاقائی اور بین الاقوامی سیاست پر ان کی تحریریں سرکردہ عرب اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ان سے [X] ایکس @malmhuain پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size