ایران سٹریٹجک اتحادی سے محروم، 1979 کے بعد سب سے بڑا دھچکہ

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے حالیہ خاتمے سے عرب جمہوریہ کا سقوط ہو گیا ہے۔ یہ سقوط دمشق اور الاسد خاندان میں طویل حکمرانی کے اختتام کی شکل میں ہو چکا ہے۔

یہ مشرق وسطی کی جیو پولیٹیکل صورت حال میں ایک بھونچال کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایران کے لیے خطے میں اس کلیدی اتحادی سے محرومی کا باعث بنا ہے۔ ایران کو شام کی وجہ سے لگنے والے اس دھچکے کی 1979 کے بعد سے کوئی مثال نہیں ہو سکتی ہے۔ بشار کے اقتدار کے خاتمے سے خطے میں ایرانی عزائم عملا کچل دیے گئے ہیں۔

بشار کی جگہ شامی اپوزیشن کی افواج تحریر الشام تنظیم کی شکل میں اقتدار پر قابض ہو چکی ہیں۔ ایران کو تزویراتی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے دھچکوں کا سامنا ہے۔

اس سے پہلے 1979 سے لے کر اب تک ایران کا شام کے ساتھ انتہائی غیر معمولی اتحاد چلا آ رہا تھا۔ وہ ایران کے لیے بلاد شام میں اثر کاری کا ذریعہ تھا۔ پورے خطے میں ایران کے لیے شام ایک بڑی راہداری کے طور پر بروئے کار تھا۔ تاکہ ایران اثر و رسوخ اور عمل دخل پورے خطے میں ممکن بھی ہو اور بڑھتا بھی رہے۔ لبنان میں حزب اللہ تک اور عراق کے علاوہ یمن تک ایرانی رسائی رہے۔

ایرانی تزویراتی جمع تفریق کے لیے شام کی جغرافیائی پوزیشن بڑی ہی کار آمد تھی۔ وہ ایران کو بیک وقت بحر متوسط اور عرب دنیا تک زمینی رسائی دینے کا موجب بنا ہوا تھا۔

سیاسی اعتبار سے حافظ الاسد اور ان کے بیٹے بشار الاسد کی حکمرانی میں شام ایران کے لیے عرب دنیا کا اہم ترین اور مضبوط ترین اتحادی تھا۔

شام کے علویوں کی الاسد خاندان کی صورت میں سیکولر اقلیتی حکمرانی ایران کی اسلامی ریاست کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ اور جڑی ہوئی تھی۔ ان کے درمیان دو طرفہ مفادات کے لیے ایک طاقتور اتحاد تھا۔

بشار الاسد کے لیے ایرانی حمایت و مدد محض نظریاتی رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ علاقائی سطح پر اپنے اثر ونفوذ کو بڑھانے کے لیے تھی۔ بشار کی حمایت کرنے والا ایران پورے خطے میں اثر ڈال رہا تھا خصوصاً شیعہ آبادی کے علاقوں میں۔ ان علاقوں میں لبنان اور عراق کی اہمیت ثابت شدہ رہی۔ جس کے نتیجے میں ایران کو عرب ملکوں میں ایک اضافی دسترس رہی۔

سقوط دمشق اور اسد رجیم کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایران کے لیے بڑے سنگین مضمرات ہوں گے اور اسے پورے مشرق وسطیٰ میں پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ اس کا فوری نقصان یہ ہوا ہے کہ وہ شام سے اپنے پاؤں اکھاڑنے پر مجبور ہوا ہے۔ جو کہ اس کے علاقائی سطح پر ارادوں اور ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بڑا سہولت کار بنا ہوا تھا۔

بشار اقتدار کے خاتمے کے ساتھ اپوزیشن کی افواج کا ایرانی ایمبیسی پر حملہ اور دمشق کا کنٹرول سنبھالنا یہ علامتی طور پر تہران کے لیے دھچکا ثابت ہوا ہے۔ اب تہران کی طاقت کو مبالغے کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی سفارتخانے پر ظاہراً عملی طور پر حملہ نہیں تھا لیکن ایک سیاسی اظہاریہ ضرور بنا۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ شام میں ایرانی کردار اور اس سے وسیع تر بنیادوں پر خطے میں ایرانی اثرات باقی نہیں رہیں گے۔

وہ شامی شہری جو ایک عرصے سے دیکھ رہے تھے کہ ایرانی حکومت ان کے بشار رجیم کے ہاتھوں مصائب کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ وہ ایرانی اثرات کو باقی نہیں رہنے دیں گے۔

ایران کے لیے یہ نقصان محض ایک اتحادی کی تباہی کا نقصان نہیں ہے۔ یہ ایران کی علاقائی سطح پر حکمت عملی کی پسپائی اور ناکامی کے بھی اشارے ہیں۔ جسے ایران نے بہت سوچ سمجھ کر پچھلی کئی دہائیوں سے ترتیب دیا تھا۔

تزویراتی راہداری کے توسط سے تہران کا اپنی پراکسیز کے ساتھ لبنان، عراق حتیٰ کہ یمن میں بھی رابطہ تھا۔ جو اب باقی رہنے کی ظاہری صورت ختم ہو گئی ہے۔

ماضی میں ایران شام کے پورے علاقے کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کرتا تھا۔ اس نے شام اور اس کے آس پاس اپنے وسائل کا قابل لحاظ حصہ لگا رکھا تھا۔ اس میں اس کی افرادی قوت بھی شامل تھی اور معاشی وسائل بھی جو سالہاسال تک بروئے کار آتے رہے۔

اب شام کی اس سقوط کے بعد ایران کو سیاسی و نظریاتی دھچکے کا سامنا ہے۔ ابو محمد الجولانی نے اپنی فاتحانہ تقریر میں اردگرد کے جس ملک کا ذکر کیا ہے کہ وہ شامی تباہی کا سبب بنتا رہا، وہ ایران ہے۔

الجولانی نے شام کو ایران کی طرف سے اپنے ایجنڈے اور ارادوں کے کھیل کا میدان بنائے رکھنے کی مذمت کی اور الزام لگایا کہ ایران فرقہ واریت اور بدعنوانی کے فروغ کا باعث بنا ہے۔

ایران سے ان کی شکایت یہ بھی ہے کہ وہ شام میں خانہ جنگی کے معاملات میں ایک شریک کے طور پر ملوث رہا۔ کیونکہ ایران نظریاتی اعتبار سے ایک طویل عرصے سے اپنے انقلاب کو بیرون ایران برآمد کرنے کا چیمپیئن بنا رہا ہے۔

اسی طرح اسد رجیم کی حمایت کر کے بھی ایران نے اپنے آپ کو شیعہ اسلام کا محافظ بنا کر پیش کیا۔ عرب دنیا میں خاص طور پر اس کی شیعہ عوام کے ساتھ حمایت و وفاداری کا تعلق رہا۔ خصوصاً شیعہ جنگجو گروپ حزب اللہ کے ساتھ۔

اسد رجیم کے خاتمے کے بعد ایران کا یہ دعویٰ بھی کمزور ہو گیا ہے کہ وہ علاقے میں شیعہ مزاحمت کا قائد ہے۔ اس کا نظریاتی و مذہبی اثر فارغ ہو گیا ہے۔

مزید یہ کہ شام سے ایرانی افواج کی واپسی جنہیں اس نے بشار الاسد کی بقا، تحفظ اور مضبوطی کے لیے شام میں رکھا ہوا تھا۔ اب واپسی کے بعد ایران کو دھچکا لگا ہے۔

گویا کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے لیے زمین کی وسعت اور اثرات کے پھیلاؤ دونوں میں کمی ہوئی ہے۔ اب اس کی شام میں فوجی موجودگی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو علاقے کی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ ایران کے شام کے ساتھ تعلقات اپنے عزائم کی بنیاد پر تھے۔ جس کے مطابق وہ مشرق وسطیٰ کو دیکھنا چاہتا تھا۔

اپنی پراکسیز، اتحادیوں اور ہم خیال رجیم کے ذریعے خطے میں اپنا رسوخ بڑھانا ایران کی حکمت عملی میں شامل رہا ہے۔ اب یہ سلسلہ معطل اور منقطع ہو گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اب ایرانی حکومت کا بین الاقوامی سطح کے بڑے اداکاروں کے بڑھے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔ ان میں امریکہ اور اسرائیل بطور خاص شامل ہوں گے۔ جو ایران کی شامی رجیم کو ملنے والی حمایت سے علاقے میں خرابی کو طویل عرصے سے دیکھ رہے تھے۔

شام اب اپوزیشن کی فوجوں کے کنٹرول میں ہے۔ اب ایران کی لبنان میں پیش آنے والے واقعات پر اثر انداز ہونے یا عراق میں کچھ کر سکنے حتیٰ کہ فلسطین میں اپنی کوششوں میں بھی نمایاں طور پر کمی ہو گی۔

حتمی تجزیہ یہ ہے کہ بشار الاسد رجیم کا خاتمہ صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ جیسا کہ بشار رجیم کے جانے کے بعد واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ابو محمد الجولانی نے اپنے فاتحانہ خطاب میں واضح کر دیا ہے کہ تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز خطے میں ہوا چاہتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size