ایران: ٹرمپ نے دنیا کو تجسس کے تنے ہوئے رسے پر چلنے پر مجبور کر دیا

رغدہ درغام
رغدہ درغام
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 13 منٹ

ایرانی رجیم کے مستقبل کے حوالے سے جو نکتہ سب سے پہلے واضح ہونا چاہیے وہ صدر ٹرمپ کے انتباہات اور اقدامات کے حوالے سے ہے۔ 1979 میں وجود پانے والی اسلامی جمہوریہ ایران ان انتباہات اور اقدامات کے نتیجے میں اپنی جڑوں تک ہل کر رہ گئی ہے۔ ایران اب تمام تر نئے ممکنہ منظر ناموں کے حوالے سے ایک نئے رخ پر نئی رفتار کے ساتھ چل رہا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ایرانی رجیم ریاستی ترجیحات کے اہم ستونوں، جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، مسلح ملیشیاؤں سے متعلق ڈاکٹرائن اور ہتھیاروں کے منصوبوں کے بارے میں رضاکارانہ طور پر اصلاحات نہیں کرے گی۔ وہ لبنان میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز کے خلاف کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں یا دوسری حقیقتوں کو ایران کے اندر نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں ہو سکتا ہے کچھ وقت حاصل کرنے کے لیے اور ایرانی رجیم کے رویے کو 'ری ایڈجسٹ ' ہونے کا موقع دینے کے لیے انتظار کریں اور رجیم کو کچھ مہلت دے دیں۔ مگر یہ ان کے لیے ثمر آور نہیں ہو سکے گا۔

الا یہ کہ صدر ٹرمپ عارضی طور پر ایران کے خلاف کارروائی کو روک لیتے ہیں۔ تو بھی ٹرمپ اپنی وسیع اور فیصلہ کن جنگ کے لیے ایرانی معیشت کا گلا دبانے کی خاطر ایرانی تیل کی برآمد کی ناکہ بندی کر کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ایران میں اندرونی بد امنی اور ہنگامہ آرائی کے لیے اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ آنے والے دنوں میں سب کچھ ہو سکتا ہے مگر یہ باور رہنا چاہیے کہ امریکی مقاصد و اہداف قطعا وقتی یا چند روزہ نہیں۔

امریکی اہداف ایران کو ہر طرح اور ہر طرف سے کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی اتحادیوں میں سے بطور خاص چین کے گرد گھیرا مضبوط کرنے کی دیر پا حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

خصوصا چین کو تیل کی ترسیل کے بغیر رکھنے کی حکمت عملی۔ صرف چند ہفتے پہلے امریکہ نے چین کی وینزویلا سے تیل فراہمی کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا ان کی اہلیہ سمیت کاراکاس سے اٹھا کر امریکہ لایا جانا اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اب نکولس مادورو کا نیویارک میں ایک عدالت میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کے فیصلے سے بہت پہلے وینزویلا سے چین کو تیل کی ترسیل رک چکی ہے۔

بعد ازاں ہر اس ملک پر ٹیرف بڑھانے کا اعلان کیا ہے جو ایران سے تیل خریدے گا۔ تاکہ چین ایران سے بھی تیل نہ خریدے اور مزید امریکی پابندیوں سے بچا رہے۔ بلاشبہ امریکہ کی طرف سے عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر قیمت کافی زیادہ ہوگی۔

دوسری جانب روس اور نہ ہی چین ایرانی رجیم کے دفاع کے لیے سامنے آئے ہیں۔ ماسوائے زبانی کلامی بیانات داغ کر امریکہ کی مذمت اور ایران کی حمایت کرنے کے۔

حقیقت یہ ہے ان کی طرف سے محض مذمتی بیانات تک اپنی پوزیشن کو محدود رکھنے سے ایرانی تنہائی ظاہر ہو گئی ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایران کے اپنے اتحادیوں چین اور روس کے ساتھ تذویراتی معاہدوں کی اس نازک صورت حال میں بھی حیثیت محض کاغذ پر بکھری سیاہی ہے۔

ان ریاستوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں اور ایران کا امریکہ سے مقابلہ کر سکنا اور مقابلہ نہ کر سکنا روس یا چین کی ترجیح نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اسی پس منظر میں ٹیرف کو مزید بڑھانے کی نشاندہی کی ہے۔

دوسری جانب عرب ممالک امریکی صدر کو تحمل پر آمادہ کرنے کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں اور انہوں نے 'ہاٹ لائن' پر صدر ٹرمپ سے بات کی ہے کہ ایران میں کشیدگی بڑھنے سے پڑوسی ممالک میں بھی خوف کے اثرات آئیں گے۔ جس سے دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

عرب ریاستوں کی اس کوشش کے نتیجے میں ایران کو اپنی پالیسی کے تین اہم ستونوں مثلا جوہری پروگرام، میزائل پروگرام اور ایران سے باہر موجود اپنی پراکسیز کے بارے میں امریکہ سے بات چیت کے لیے اپنے نقطہ نظر میں تبدیلی پر غور کرنے کا بھی موقع بھی مل گیا۔ حتیٰ کہ پاسداران انقلاب کو ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کے ذریعے خطے کے ملکوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے بھی ایران کو سنجیدگی سے سوچنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا موقع مل گیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے جن سنجیدہ مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا، ان مطالبات کا مقصد تاخیر یا ذمہ داریوں سے چشم پوشی ہرگز نہیں تھا۔ تو ان کے اس مطالبے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ ایران کی طرف سے تاخیری حربوں کی کوشش کو بروئے کار لانے کا موقع دیں یا ایران اپنی اس سلسلے میں ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرے۔

امریکہ ‎بیک وقت ایرانی رجیم کو نشانے پر رکھنے، ایران میں انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایرانی تیل کی ناکہ بندی کرتے ہوئے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ اس دوران اس فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کوئی بھی سیاسی پیش رفت مشکل ہے۔

اس دوران امریکی فوجی حملوں میں ہونے والے التوا کا تعلق ایران کی معاشی اور آئل کے رکنے کی صورت حال سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کی صورت حال الگ ہیں۔ اس سبب جلد یا بدیر ایران کی حکومت کے خلاف اندرونی دھماکہ ہو سکتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں کوئی بھی التوا احتجاجی مظاہرین کی مکمل طور پر حمایت میں ہے۔ کیونکہ معاشی صورت حال کی یہ تنزلی ایرانی رجیم کے لیے ایسے دھماکہ خیز صورتحال کو روکنے میں ناکام ہوجائے گی جو اس کو گرا سکتی ہے۔

ایرانی عدالت کے ایک فیصلے کے تحت 800 مظاہرین کی پھانسی روکی گئی ہے جس کے بدلے میں صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائیوں کو ملتوی کیا ہے۔ یہ ایرانی حکمرانوں کے خوف کی ایک اور علامت ہے کہ وہ فوجی حملوں سے کس قدر ڈرے ہوئے ہیں۔

ایران کے اس معاشی گھیرے کے دوران خوف اور بے چینی نے ایرانی رجیم کے ستونوں کو عملا اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ جبکہ اصلی بد امنی اس وقت سامنے آنی ہے جب فوجی کارروائیاں ہوں گی۔

صدر ٹرمپ نے ایران میں پھانسیاں نہ دینے جانے کے ایرانی فیصلے کو اپنی ذاتی کامیابی قرار دیا ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ تجسس، تذویراتی حربہ سازی اور ابہام رکھنے کے یکساں طور پر استاد ہیں۔

یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کی ٹیم کو ایران پر حملوں کے حوالے سے التوا کے لیے کہا۔ اسی طرح روس کی طرف سے امریکی صدر کے مشیر اعلیٰ اور دوست سٹیو وٹکوف سے رابطہ کر کے کہا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے حملوں کو ملتوی کروائیں۔ تاکہ بدلے میں مذاکراتی عمل شروع ہو اور ایران سے کچھ رعایتیں حاصل کی جا سکیں۔

رہا یہ سوال کہ اسرائیل نے ایران پر براہ راست امریکی حملوں کو التوا میں رکھنے کی خواہش کیوں ظاہر کی۔ تاہم اس کا جواب ابھی واضح نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ اسرائیل فیصلہ کن حملوں کو ایک ترجیح کے طور پر دیکھتا ہے جن میں اولیت لبنان کی حزب اللہ پر حملوں کی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ایران پر امریکی حملے ہونے سے پہلے حزب اللہ کو نشانہ بنا لیا جائے۔

یہ بات بھی قابل تشویش رہی ہے کہ ایران نے حملے کی صورت میں یا حملے سے پہلے ہی خوفزدہ ہو کر اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کر ڈالیں تو وہ بھی اسرائیل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ بات چیت کے عمل نے ان اقدامات کو 'کیموفلاج' کر دیا ہے جو ایران پر حملے کے لیے مکمل تیاریوں کی صورت میں جاری تھے۔ ان تیاریوں میں امریکی طیارہ بردار 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' کا 'ساؤتھ چائینہ سی' سے ایک ہفتہ کے اندر علاقے میں پہنچنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران کو انتشار زدہ کرتے ہوئے امریکہ و اسرائیل کا حربہ اور حکمت عملی یہ ہے کہ ایرانی اعصاب جلا کر راکھ کر دیے جائیں اور اس کے لیے ایرانی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔

تاہم فوجی کارروائیاں التوا میں رکھنے کے لیے عملی علامات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کا التوا اس لیے کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس مذاکراتی عمل کے دوران مذید فوجی تیاریوں کا موقع مل جائے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے سیاسی حکام کے خیال میں ایران پر حملوں کا صحیح وقت ماہ فروری ہوگا۔ جب صدر ٹرمپ 19 سے 23 جنوری کے دوران جاری رہنے والے ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیواس میں اجلاس سے شرکت کر کے واپس آ چکے ہوں گے۔

اس عرصے کے دوران ایران میں مظاہروں میں مصروف لوگوں کو بھی امریکہ سے نظر آنے والی حمایت کی ضرورت تھی۔ جو 800 افراد کی پھانسیاں رکنے سے بھی ظاہر ہوگی۔

لہذا فوجی حملوں کے روکے جانا کا عمل اپنے ارادے سے پسپا ہونا ہے اور نہ ہی ارادے کو موقوف کر دینا ہے۔ البتہ یہ محض ایک التو ہے۔ جس کے نتیجے میں تیاریاں اور حکمت عملی مزید واضح ہو سکیں گی اور ایرانی رجیم زیادہ مشکلات میں گھر چکی ہوگی اور اس کا معاشی ڈھانچہ بھی تباہی سے دوچار ہوگا۔

ہم نہیں کہہ سکتے کہ وقت کے اس تعین کی دوڑ میں جیت کس کی ہوگی ، فوجی آپریشن کی یا مذاکراتی عمل کی اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ حملوں کا التوا چند دنوں کے لیے یا چند ہفتوں کے لیے ہے۔ جن کے بدلے میں ایران وہ رعایتیں دینے کو بھی آمادہ ہوگیا جن کا اس سے پہلے تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہم نہیں جانتے کہ اس صورتحال کے آگے بڑھنے کی صورت میں ایرانی جمہوریہ ایران کی قیادت کے ذہنوں میں کیا کیا ناممکنات اپنی جگہ بنائیں گے جو انہیں حکومت بچانے کے لیے اپنے نظریاتی ڈھانچے کی اصلاح پر مجبور کر دیں گے۔

ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ایرانی حکومت کے گرنے کے بعد ایران میں اقتدار کون سنبھالے گا۔ کیونکہ اس سلسلے میں خود ایران کو بھی ایک سنگین مخمصہ درپیش ہے۔ جس میں اس کے لیے اپنے ہاں سنجیدہ نوعیت کی اصلاحات، جوہری اور میزائل پروگرام کے ترک کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں ملیشیاؤں کو منظم کرنے سے باز آنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ بظاہر یہ سب تقریبا غیر ممکن ہے۔ جیسا کہ اقتدار سے چمٹے رہنے اور مظاہرین کو مکمل طور پر کچلنے کے لیے ایرانی رجیم نے پاسداران انقلاب اور بسیج نامی ادارے کو میدان میں اتار رکھا ہے۔ یقینا یہ فیصلہ امریکی حملوں، معاشی تباہی، ایرانی تیل کی ناکہ بندی اور بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث ہی بنے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ جو ٹائم مینیجمینٹ کے ماہر ہیں وہ دنیا کو 'سسپنس' کے ایک رسے پر چلنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں اور خود اس صورتحال کا مزہ لے رہے ہیں۔ تاہم وہ اس دوران ایران پر اپنی کارروائیوں کے نتائج پر غور کرتے ہیں۔ جبکہ یوکرین کی بجائے ایران اب دنیا کے سامنے ایک اہم اور مرکزی کہانی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کا شروع سے ہی منصوبہ تیل کی ناکہ بندی کے حوالے سے رہا ہے۔ اسی کے لیے وینزویلا سے لبنان تک اس نے تیل کی سپلائی چین کو منقطع کر کے ایران اور اس کی پراکسیز کے علاوہ اس کے بڑے اتحادیوں اور اسے تحفظ دینے والوں کا تذویراتی محاسبہ بھی کر لیا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں