امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ ۔۔۔ ابہام اور آبنائے ہرمز بھی ہتھیار بن گئے!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 22 منٹ

ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جنگ جاری ہے۔ اب تک اس جنگ کے ابتدائی سات دنوں میں بہت سی چیزیں واضح ہو گئی ہیں جبکہ بہت سی چیزوں کوآنے والے دنوں میں ہی نمایاں ہو کر ان سطحوں پر اجاگر ہونا ہے جن سطحوں پر فی الحال ان کا اظہار امریکی و اسرائیلی حکمت عملی کے تحت مناسب نہیں ہو سکتا۔ تاہم کچھ ابہامات بھی مسلسل جاری ہیں ۔ ممکن ہے نئے سے ئئے ابہامات پیدا کیے جاتے رہیں اور انہی ابہامات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کے دنیا کو بالعموم اور مسلم دینا کو بالخصوص خوش فہمی میں مبتلا رکھ کر اپنے اہداف پورے کیے جاتے رہیں۔

اس مرحلے پر یہ سمجھنا شاید مناسب ہوگا کہ اس بار امریکہ و اسرائیل کا پیشگی جنگی حساب کتاب اس تناظر میں کامل اور قابل رشک نہیں تھا۔ شاید ایرانی رد عمل درست اندازہ نہ کیا جا سکا تھا۔ کہ ایران جو کچھ کہہ رہا وہ کر بھی دکھائے گا۔

سپریم لیڈر کے کے بہیمانہ انداز سے قتل کیے جانے کے بعد صاف لگ رہا ہے امریکہ اور اسرائیل سے ایرانی 'رجیم چینج' سٹریٹجی بھی سخت غلط رہی۔ سمجھا شاید یہ گیا تھا کہ جیسے ہی امریکہ اور اسرائیل کا حملہ شروع ہو گا تو موساد اور سی آئی اے کے ساختہ 'حریت پسن'د دما دم مس قلندر کرتے ہوئے سڑکوں پر ہوں گے، ان کے ہاتھوں میں علی خامنہ ای کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر اوراسرائیلی پرچم ہوںگے اور رد انقلاب ممکن ہو جائے گا ۔ نتیجتآ صدر ٹرمپ سابق شاہ ایران کے بیٹے کوبادشاہ مقرر کرنے کا فرمان شاہی جاری کر کے کر ایران میں ' کنگ میکر' کا لقب پائیں گے۔ جیسا کہ وہ غزہ کے سارے امور کواپنی مٹھی میں لینے کا اہتمام امن بورڈ کے ذریعے کر چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک ایسا ایران میں نہیں ہو سکا۔

شاید امریکہ اور اسرائیل دونوں کے عجلت پسند حکمت کاراور خوش فہم فیصلہ ساز اپنی طاقت کے گھمنڈ میں رہے ۔ مگر ایرانی سکیورٹی اداروں کی اس بارتیاری اور عوامی جوش و جذبہ ایران کی تمام تر عسکری اور معاشی کمزوریوں پر غالب آ گیا۔

اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی قیادتیں اس بار ایران میں ناکام ہونے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہیں۔ وجوہات انفرادی بھی ہیں اور مملکتی بھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک جانب وال سٹریٹ جرنل کے مطابق بہت ساری فائلوں کی سماعت کا بوجھ آنے والا ہے۔ دوسری جانب وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں جبکہ ٹرمپ کی مقبولیت ہے کہ وہ کھوتاجا رہا ہے۔

ادھر نیتن یاہو کو بھی ایک جانب عام انتخابات کا چینلج درپیش ہے اور مشرق وسطیٰ کے لیے اسرائیلی عزائم کی راہ ہموار کرنے کا بھاری پتھر سامنے ہے۔ ان دونوں ملکوں کے لیڈروں کو امید ہے کہ اکیلا ایران آخر کب تک امریکہ اور اسرائیل سے لڑتا رہے گا؟

عرب و عجم کے مسلمان بھی پورے جذبے سے سوال کناں ہیں کہ ایران کے روایتی اتحادی چین اور روس کہاں ہیں۔ مسلمان ملکوں کے وہ عوام جن کی بینائی نزدیک کی بھی اچھی نہیں وہ دور دور تک چین اور روس کو تلاش کررہے ہیں۔ چین اور روس پر تنقید بھی کر رہے ہیں کہ یہ دونوں قابل بھروسہ اتحادی نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ سوال اٹھانے کی سرگرمی یکطرفہ نہ ہو۔ روس اور چین بھی یہی سوچ رہے ہوں گے ایمان اور اخوت کے دعوے دار کس کے ساتھ ہیں ظالم اسرائیل کے ساتھ ایران کے ساتھ ۔ حملہ آور ٹرمپ کے ساتھ یا شہید علی خامنہ ای کے ساتھ۔

روس اور چین کے لیے یہ بھی سوال کا موضوع ہو سکتا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران طالبان خدا خوفی اوردین سے جڑے ہونے کا کوئی عملی اظہارکیوں نہیں کرپا رہے۔ اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھی اس چیز کی عملا کوئی پروا نہیں ہے۔ یقینآ یہ پہلو جہاں امریکہ و اسرائیل کے لیے فرحت و اطمینان بخش ہے ۔ وہیں روس اور چین کے لیے کسی رنجیدگی کا نہیں کہ ' راکھ کے اس ڈھیر ' میں چنگاری بھی شاید اب باقی نہیں ہے۔

ان سات دنوں کی جنگ کے دوران کچھ ذکر امریکی کامیابی کا بھی کرنا مقصود ہے۔ امریکہ کی ناکامیوں کا ذکرہوتا ہے تو عام طور پر اس کے ویت نام سے نامراد ہونے کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کھلی حقیقت ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ نے ویت نام میں کتنا لمبا عرصہ لڑتا رہا تھا۔ افغانستان سے بھی بلا شبہ امریکہ کو بظاہر یکا یک بھاگنا پڑا تھا لیکن یہاں بھی اس نے کافی عرصہ لڑائی کی تھی۔ افغانستان سے امریکہ کے نکل بھاگنے والا صرف امریکہ نہیں رہا سوویت یونین نے بھی یہی کیا تھا۔ مگریہ سب اسی صورت ممکن ہوا تھا کہ افغانستان میں کئی ملکوں اور ان کے شہری افغانستان کے عوام کے یکجہت ہو کر لڑنے آ گئے تھے۔

لیکن آج کا منطر نامہ سبھوں کے لیے تبدیل ہو رہا ہے۔ انسانی خیالات، توہمات، نظریات ، مفادات،تعلقات، تعصبات اور حتی کہ نسلی و لسانی بنیاد پر تشکیلات بھی بکھر رہی ہیں۔ بہت امید ہے جب مورخین اس دور کی تاریخ لکھیں گے تو یہ ضرور قلم بند کریں گے کی انسانی سوچ کا سفر محدود بھی ہوتا اور اس کی اثر پذیری بھی دائمی نہیں ہو سکتی۔ ایک تازہ مثال موجودہ دم توڑتے عالمی نظام کی ہے جسے امریکہ و یورپ نے خود تخلیق کیا اور خود ہی اسے توڑنے کی کوشش میں ہیں۔ ہر جگہ قومی ریاستوں پر بھی اس نظام کے اندر سے وار کیا جا رہا ہے۔
بہر حال اصل موضوع کی طرف آئیے۔ جنگ کے شروع شروع میں ایران سے ہونے والی مزاحمت کے باوجود یہ فوری امکان نہیں ہے کہ دونوں دم دبا کر بھاگ جائیں گے۔ ہلکا سا ذکر اوپر کی سطور میں ملک کے اندر سیاسی چیلنجوں کے تناظر میں کیا ہے کچھ مسئلے اخلاقی و مالی کرپشن کے ہیں۔ مزید یہ کہ ان دونوں کی ریا ستوں میں تاحیات استثنا کی سہولت ابھی ایجاد نہیں ہو سکی ہے۔

اگرچہ دیگر کئی ایجادات سے استعفادہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حتی کہ دونوں اس کھاتے میں ایک دوسرے کی کمرکھجانے کی بھی کوشش میں ہیں۔ ٹرمپ نے اس کھاتے میں مالی کرپشن میں پھنسے نیتن یاہو کے لیے معافی کی ایک بار پھر آواز اٹھائی ہے۔ اس لیے دونوں کو جنگی ڈھال کے پیچھے چھپنے کی ضرورت رہے گی۔ لیکن حقیقت بھی اپنی جگہ حققت ہے کہ امکانات کی دنیا وسیع ترہے اور کسی بھی وقت کوئی نیا منظر سامنے آ دھمکتا ہے۔

ایران میں جاری جنگ کے سلسلے میں امریکہ و اسرائیل بیان کر مقصدی تضادات اور ابہامات رنگا رنگ ہیں۔ ان کے تضادات میں ان دونوں کے حکمت کاروں اور فیصلہ سازوں کی نالائقی بھی ہو سکتی ہے , عجلت پسندی بھی اورذاتی مصلحت آمیزی بھی ۔ مگر یہ حتمی طور پر نہ بھی کہا جاسکے تو اس کی گجائش موجود ہے کہ ایران پر حملے کے ساتھ ہی ابہیام در ابہام خود امریکہ کی اعلی ترین سطح سے سامنے آنے لگا۔ جیسے ابہام بھی اس جنگ کا اہم ہتھیار ہو۔ اسلامی دنیا میں عوامی ردعمل اور حکمرانوں کو سہولت دینے اور ان سے سہولت لینے کی ایک کارگر تدبیر کے طور پر ایران میں جنگ کے پہلے ہفتے کے دوران ابہام کا ہتھیار خوب بڑھتا گیا۔

ان سات دنوں کے جائزے میں یہ اجمالی ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو کامیابیوں اور ناکامیوں کے سلسلے میں کیا کیا ملا۔ بظاہر سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اسرائیل اور امریکہ جون 25 کی جنگ کے بعد بھی ایران میں اپنے انٹیلیجینس نیٹ ورک کو اس حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا کہجیسا کہ پہلے ذکر ہوا ایران کے مذہبی پیشوا اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ان کے اکثر اہل خانہ کو قتل کردیا۔ ایرانی وزیر دفاع اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر کا قتل بھی پہلے ہی روز ممکن ہوگیا۔

لیکن اس کے بدلے میں امریکہ کی ساکھ اور عالمی حیثیت کو بھی سخت دھچکہ لگا ہے۔ کم از کم امریکہ سے اپنی ساکھ کے بدلے میں ایک روھانی پیشوا اور سپریم لیڈر کے قتل کی بدنامی لینے کا سودا دانش مندی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ سپین جیسے یورپی ملک بھی امریکہ کو چینلج کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو حالیہ عرصے میں جو شناخت ٹرمپ کے امن منصوبے کے بدولت مل گئی تھی ایران پر حملے کے بعد وہ بھی اپنی اس شناخت کو برقرار رکھتا نظر نہیں آتا۔ 170سے زائد بچیوں کو ان کے سکول میں بمباری کر کے شہید کر دیا اگردنیا کی سب سے بڑی طاقت کے لیے قابل فخر کامیابی ہے تو امریکہ اس میں پوری طرح کامیاب ہے۔

اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی روز ایک ایسا ماحول پیدا کردیا کہ پوری اسلامی دنیا کی قیادتیں سکتے میں آگئی۔ سکتے کا یہ مفلوج کرنے والا حملہ ابھی بھی جاری ہے۔ او آئی سی کا رکن ہونے کے باوجود ایران کو امریکہ اور اسرائیل اس قدر تنہا کرانے میں کامیاب رہے کہ او آئی سی کی تاریخ میں اس کی مثال شاید ہی ملتی ہو۔ رہی سہی کسر خود ایران کے بعض میزائل حملوں سے پوری ہوگئی جو ایران نے اپنے پہلے سے اعلان شدہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کے مبینہ طور علاوہ کیے ہیں۔ ان میں کچھ 'فالس فلیگ' نوعیت کے میزائل حملے اور کاروائیاں بھی سامنےآئی ہیں۔ ان میں کئی کاروائیاں ترکیہ، سعودی عرب اور آذربائیجان سے متعلق تھیں۔ بعض پر ایران نے وضاحت بھی کردی مگر ساری وضاحتیں مکمل طور پر ابھی منظور ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

ایک اور کامیابی جو امریکہ اور اسرائیل کے حصے میں آئی ہے وہ اس کے دو پڑوسی اسلامی ملکوں کی وہ جنگ ہے جو انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر ایران پر ہونے والے حملے سے ایک روز پہلے ہی شروع کردی تھی۔ بلاشبہ ایک جوہری اسلامی مملکت ہونے کے باوجود اپنے ہاں جنگی ماحول کے باعث ایران کے لیے توقعات کافی کم ہونے کی صورت ازخود بن گئی ہے۔ ادھر افغانستان جو ایک زیادہ مذہبی ریاست ہونے کا دعویدار ہے اس نے بھی پاکستان کو اس الزام اور شکایت کا پورا موقع دیا کہ پاکستان میں حملے کرنے والے دہشت گرد افغانستان کی سرزمیں استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان اس حوالے سے حق بجانب ے کہ اس نے 70 سے 80 ہزار سے زائد افراد کی جانوں کی قربانی دی جو افغانستاں میں پناہ لینے والے دہشتگردوں کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ اس میں افغانستان کا جواز درست ہے یا پاکستان کا اعتراض زیادہ وزنی ہے۔ یہ بحث ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ اس لیے فی الوقت اس سے اعراض برتتے ہوئے صرف یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان دو برادر اسلامی ملکوں کی جنگ کا فائدہ صرف ایران پر حملہ آوروں کو ہوسکتا ہے ان دونوں ملکوں یا کسی تیسرے اسلامی ملک کوہر گز نہیں۔

ایران میں انفراسٹرکچر کی تباہی غزہ کے انداز میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔، اس میں اسرائیل امریکہ کا استاد تو نہیں دوں کے باہم مل کر شہری انفراسٹرکچر کی تباہی کا تیزی سے ہونا ممکن ہو گیا ہے۔ عرب دنیا کے اہم ملکوں میں جو نقصان ایرانی میزائلوں سے ہوا ہے وہ بھی امریکہ یا اسرائیل کا نہیں ہوا ہے۔ تیل کے کاروبار یا توانائی کی ضرورتوں کے سلسلے میں آمدنی و اخراجات متاثر ہونے کا فوری اور ابتدائی نقصان بھی اسرائیل یا امریکہ کے لیے فوری نہیں ہوگا۔ بلکہ مقامی اداروں کے لیے ہوگا۔ البتہ کل کلاں امریکہ پر دفاعی حوالے سےبھروسہ کرنے والوں کی سوچ کویہ تباہی بدلنےمیں کردار ادا کر سکتی ہے۔ کہ آخرامریکی دفاعی نظام عرب دنیا کے شہروں اور کاروباروں کوبچانے کے لیے کیوں کام نہیں آیا۔

ایک اور نقصان جو صدر ٹرمپ کے ایک تازہ انٹرویو کے باعث ہو سکتا ہے۔۔ کہ کردوں کے میدان میں اترنے اور ایران میں کاروائیاں کرنے کی وہ حوصلہ افزائی کریں گے۔ کردوں کا میدان میں آنے کا صاف مطلب ہے کہ یہ صرف ایران میں متحرک نہیں رہیں گے بلکہ یہ ایران، عراق، شام اور ترکیہ کے لیے بیک وقت بڑی بدامنی کا ذریعہ بنیں گے۔ اس طرح کی حالیہ عرصے کی ایک مثال صومالی لینڈ یا جنوبی یمن سے مل سکتی ہے۔
خصوصا ایسے ماحول میں جب ان کردوں نے امریکہ کے لیے ایک 'پراکسی ' کے انداز میں کردار پہلے ہی ادا کر رکھا ہے۔ نئی شامی حکومت اور ترکیہ دونوں کو اس کرد 'پراکسی 'سے پالا پڑ چکا ہے۔ اسرائیل اس طرح کی ایک اور 'پراکسی ' دروز کمیونٹی کے نام سے ایجاد کرنے کی کوشش شروع کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں بلوچی زبان بولنے والے دہشت گرد بی ایل اے طرز کی تنظیمیں اس خطے میں پہلے سے دہشت گردی پھیلا رہی ہیں۔

یوں اگر امریکہ اور اسرائیل ایرانی سرزمیں پر خود اپنی موجودگی ظاہر نہیں کرتے یا اپنی فضائی کارروائیاں کسی' تاثر 'کے پیدا کرنے کے بعد کسی ' نیک نامی' کے چکر کے لیے روک بھی دیتے ہیں تو بد امنی کا بیج تو ڈال ہی جائیں گے۔ نہ صرف کرد بلکہ ٹی ٹی پی ، دہشت گرد تنظیم بی ایل اے اور داعش ان سبھوں کو ہمہ وقت بیرونی سرپرستی اور وسائل کی ضرورت رہتی ہے۔ اسلحہ بھی امریکی اسلحہ سے زیادہ کس کا زیادہ کارآمد ہو سکتا ہے۔ جو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ہتھے پہلے بھی چڑھ چکا ہے۔

امریکہ جس نے اگر ابہام خود اپنی جنگی حکمت عملی کے لیے اختیار نہیں کیا اور یہ بھی مان لیا کہ غلطی سے ہوگیا ہے۔ مگر امریکہ یہ صلاحیت تو رکھتا ہے کہ اس ابہام سے بھی خوب کھیلے اور دوسرے اداکاروں کو بھی موقع دیے رکھے۔

ایک اور کامیابی ان دونوں سے زیادہ بھارت کے لیے برآمدہوئی ہے۔ ایران کے دو بحری جہازوں کی یکے بعد دیگرے بھارت سے نکلتے ہی بین الاقوامی پانیوں میں تباہی نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے زیادہ دن بعد نہیں ہوئی ہے۔ امریکہ اس ابہام سے نئی حکمت عملی تشکیل دیتے ہوئے جوہری تنصیبات اور پروگرام کی تباہی سے پینترا بدل کر آبنائے ہرمز پر ایران کے تنہا کنٹرول کو متاثر کرنے کی کوشش کو اپنے لیے مفید تر بنائے گا۔

جس طرح صدر ٹرمپ نے بے دھڑک ہو کر ایران کے نئے سپریم لیڈر کے تقرر میں کردار و اختیار مانگ لیا ہے آبنائے ہرمز میں تو امریکہ ار یورپ سمیت بہت سے 'سٹیک ہولڈرز' براہ راست اور سالہا سال سے موجود ہیں۔ یہ امریکہ کے لیے کتنا مشکل ہے کہ وہ اپنی نیوی کے ذریعے پہلے جہازوں کی حفاظت کرے اور بعد ازاں اس کی مستقل نگرانی میں خود یا اپنے نمائندہ ملکوں اور فورسز کے لیے راہ نکالنے کی کوشش کرے۔

اگرچہ ایران نے اعلان نے واضح کیا ہے آبنائے ہرمز میں اس کا ہدف امریکہ ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہاز ہوں گے۔ اس کے باوجود سعوی عرب نے بحیرہ احمر کو اپنے تیل کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ البتہ متحدہ عرب امارات کے لیے ایران کا غصہ کافی زیادہ رہا ہے، شاید اس کی وجہ اس کا اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کا معاملہ زیادہ بن گیا ہے۔ سعودی عرب کے لیے خیر خواہی رکھنے والے عوام بھی عرب امارات اور اور امارت افغانستان کے لیے اب اچھا سوچنے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ وجہ بالترتیب اسرائیل اور افغانستان ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے بحیرہ احمر اور باب المندب کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دنوں میں یمنی حوثیوں کے ہاتھوں ایک سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ ہتھیار آبنائے ہرمز کی صورت ایران کے ہاتھ میں کیوں رہنے دے گا۔ یوں اگرعارضی طور پر امریکہ یہ کامیابی حاصل کرلے تو بھی اس کے لیے قطعا خسارے کا سودا ہے نہ یہ دیگر 'سٹیک ہولڈرز' کے لیے۔ اس کا امریکہ کو ایک فائدہ چین کے لیے تیل کی ترسیل پر اثر انداز ہونے کا اختیار حاصل کرنے میں پیش رفت کرنا اور بھارت کے لیے روسی تیل کے متبادل بندوبست کو یقینی اور محفوظ بنانا لہذا اگر بھارت نے دو ایرانی بحری جہازوں کے سلسلے میں کوئی سہولت کاری امریکہ اور اسرائیل کے لیے کی ہے تو آنے والے دنوں میں آبی سہولت کاری بھارت کے لیے بھی فراہم رہ سکتی ہے۔

اس میں شک نہیں پاکستان اور کئی دیگر اسلامی ممالک نے ایران کے بارے میں غٰیر جانبداری کی پالیسی کو بظاہر ایک کامیاب پالیسی کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔ مگر جو اسرائیل ایران کے اندر موساد کو سالہا سال سے سرگرم رکھے ہوئے ہے۔ جو پاکستان اور مشرق وسطی کے لیے اپنے خطرناک عزائم چھپانے کو بھی ضروری نہیں سمجھتا۔ وہ موساد کے دائرہ کار کیوں وسیع نہیں کرے گا۔ خصوصآ جب وہ اپنی جغرافیائی محدودیت کو لا محدود کرنا چاہتا ہے۔ کیا ایران سے باہر کسی ملک کے ساتھ اس کا کوئی مذہبی بندھن نہیں۔

بھارت اور امارات اسرائیل کے لیے آج جس حد تک آگے بڑھنے کو تیار ہیں وہ انتہائی غیر معمولی ہے۔ بد قسمتی طالبان کے بعض رہنما بھی پاکستان دشمنی میں اسرائیل کی قربت کی آرزو مندی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ یہ امور ایران کے علاوہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، عراق ، شام ، لبنان ، اردن کے ساتھ ساتھ چین کے لیے بھی بہت اہم ہوں گے۔ لبنان ، شام اور عراق اسرائیلی بمباری کو پہلے ہی بھگتتے رہتے ہیں۔

باہم مسلسل غیر جانبداری اختیار کیے رکھنے سے تنہائی بڑھ جائے گی اور نتیجہ ایسی کمزوری کی صورت میں ہوگا جو بہرحال اسرائیل اوراس کے اتحادیوں کے لیے بہت سے کام آسان کرتی رہے گی۔ یہ خوفناک حقیقت ہے کہ ان کمزوریوں کے سبب ہی امریکہ کا جدید ترین دفاعی ساز و سامان بھی سات روزہ جنگ کے دوران اپنے فوجی اڈوں والے علاقوں اور گرد و پیش کام کا ثابت نہیں ہوا۔ عرب ملکں میں یہ سوال پیدا ہونا بھی فطری ہے۔

جس امریکہ کے تین طیارے فرینڈلی فائر کی زد میں آجائیں اس کی وجہ سے کوئی اور فرینڈلی فائر کا نشانہ بنا دیا جائے تو کیا کوئی گلہ کرسکے گا۔ ایران کا بد امنی کا گہوارہ بننا ،افغانستان میں بد امنی کے مراکز کو 'ملٹی پلائی' کردے گا جو سرحدوں سے باہر نکل کر پھیلنے کی خوب صلاحیت کی حامل ہوگی۔ اس لیے لازم ہے کہ امریکی و اسرائیلی حکمت عملی کے ابہام یا کمزوری کو اپنی طاقت نہ سمجھا جائے۔ ایسی کیا ضمانت ہے کہ جو امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اپنا سکتے ہیں تو کسی اور عرب یا اسلامی ملک یا اس کے حکمرانوں سے کسی وقت اکتا کر اس کے ساتھ بھی یہی سلوک نہ کریں۔

ایران میں 'رجیم چینج' کس قتل کی واردات ہو سکتی ہے تو امریکہ کو کسی دوسری مملکت میں کونسی اقدار روک سکتی ہیں۔ ایران کے شہری انفراسٹرکچر کی تباہی کی جا سکتی ہے تو دوسروں کے لیے بھی امریکہ اور اسرائیل کے جذبات کیونکر محبت پیار کے ہونا لازم ہیں۔ عالمی بالادستی کو اگر امریکہ برقرار رکھ نے کی جنگ نہ جیت سکا تو اسے اپنا فطری انجام دیکھنا پڑے گا ، یہی اسرائیل کی علاقے کی سطح پر تھانیداری کرنے کی خواہش ہے۔ کیا دونوں کو ان کے ان ارمانوں سے روکنا کسی کے لیے کم از کم اس خطے میں ممکن ہو گا۔


'دوڑو! چال زمانہ قیامت کی چل گیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size