صحرائی خیمہ ہوٹل شہروں کی ہنگامہ خیزی سے دور منفرد تفریح

ایک رات کے قیام وطعام پر 3000 ریال کے اخراجات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بارشوں کے بعد موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی سعود عرب کے شہری زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے صحراؤں کا رخ کرتے اور شہروں کی ہنگامہ پرور زندگی سے دور پرسکون مقامات تفریح سے لطف اٹھاتے ہیں.

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحراؤں کے خیمہ ہوٹلوں کی رونق دو بالا ہو جاتی ہے۔ جہاں بڑی تعداد میں نہ صرف نوجوان بلکہ پورےپورے خاندان بھی ان صحرائی خیمہ ہوٹلوں میں کئی کئی دن گذارتے ہیں۔ صاف اور تازہ ہوا اور شور شرابے سے محفوظ ماحول فطرت پسند افراد کے لیے ایک خاص کشش رکھتے ہیں۔

عارضی طور پر بنائے گئے یہ خیمہ ہوٹل جدید ترین پرتعیش ریستورانوں جیسی سہولیات تو نہیں رکھتے لیکن یہاں پرقیام کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے مقابلے میں کہیں مہنگا پڑتا ہے کیونکہ صحراء کے اس خیمہ ہوٹل میں ایک رات گذارنے کے فی کس تین ہزار سعودی ریال خرچ ہوتے ہیں۔ صاحب ثروت لوگوں کے لیے یہ بھی کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔ لوگ یہاں اپنی فیملیز کے ہمراہ جاتے اور کئی کئی دنوں تک قیام کرتے ہیں۔

شہروں سے دور دراز صحراؤں میں ان خیمہ ہوٹلوں کے مہنگے ہونے کی بنیادی وجہ موسم کے مطابق زائرین کی سہولت کے لیے گرمی اور ٹھنڈک کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں ماحول کو گرم رکھنے کےلیے ایندھن اور دیگر ضروریات کی فراہمی اچھا خاصا مہنگا کام ہے۔ اس کے باوجود ان ہوٹلوں کے مالکان اپنے گاہکوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size