کچھ ذکر مصری صدور کی انگریزی زبان میں مہارت کا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اہلِ مصر کا عربی زبان بولنے کا اپنا لب ولہجہ اور تلفظ ہے۔ وہ ج کو گ بولتے ہیں اور اسی طرح دوسرے حروف کی ادائی کے وقت بھی تھوڑا بہت تغیّر کرجاتے ہیں۔ یہی معاملہ وہ انگریزی زبان میں کرتے ہیں اور ان کے بعض سابق صدور اور لیڈر انگریزی میں طاق واقع نہیں ہوئے تھے۔

ان دنوں مصر میں صدارتی انتخابات کا غلغلہ ہے اور سابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی ان کے نتیجے میں صدر منتخب ہوا ہی چاہتے ہیں۔بس پولنگ کی رسمی کارروائی باقی ہے۔صدارتی انتخاب کی گہما گہمی میں انھوں نے غیرملکی میڈیا کو انگریزی میں اپنے ''بصیرت افروز'' خیالات سے نوازا ہے اور ان کے حریف واحد امیدوار حمدین صباحی نے بھی غیرملکی میڈیا کو انٹرویوز دیے ہیں۔

ان دونوں کے اظہارخیال کے بعد زبان دانی کے معاملے میں حساس واقع ہونے والے مصری ان کی انگریزی بولنے کی مہارت کا سابق لیڈروں سے موازنہ کررہے ہیں۔ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ عرب دنیا میں سب سے قدیم تاریخ اور ثقافت کے امین ہیں اور پھر مصر عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے۔اس لحاظ سے اس کی عالمی منظرنامے میں اپنی ایک اہمیت ہے۔

مصر سے تعلق رکھنے والے سیاسیات کے پروفیسر سعید صادق نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ''عوام کے کسی صدر کو جانچنے کے اپنے پیمانے ہیں لیکن ان کے نزدیک انگریزی زبان بولنے میں مہارت ایک اہم اثاثہ ہے اور انگریزی میں طلاقت نے بعض مصری صدور کے عوامی تشخص کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا ہے''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''مصری عوام اپنے صدور کے ہرقول وفعل کو پرکھتے ہیں اور جب وہ اپنے صدر کو بڑے اکھڑے ہوئے کمزور انداز میں انگریزی بولتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے نزدیک یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ اس شخصیت کی ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے کے لیے تربیت نہیں ہوئی ہے''۔

مصر کے دو سابق صدور جمال عبدالناصر اور انورالسادات بہت اچھی انگریزی بولتے تھے اور ان کے لب ولہجے کی تعریف کی گئی تھی لیکن برطرف صدر محمد مرسی انگریزی بولنے کے معاملے میں بہت کمزور واقع ہوئے تھے اور ان کی انگریزی اکثر لطیفہ بنتی رہی تھی حالانکہ وہ امریکا سے تعلیم یافتہ تھے اور وہاں پڑھاتے بھی رہے تھے۔ معزول صدر حسنی مبارک کی انگریزی پر بھی بحث ومباحثہ ہوتا رہا ہے۔

پروفیسر سعید صادق کے بہ قول مصری صدور میں انگریزی بولنے کی مہارت میں سادات پہلے نمبر پر تھے۔ان کے بعد حسنی مبارک دوسرے اور جمال عبدالناصر تیسرے نمبر پر تھے جبکہ مرسی چوتھے نمبر پر تھے اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان کی انگریزی پر تو قہقہے بلند ہوتے رہے تھے۔اس سے ان کا عوامی تشخص بھی متاثر ہوا تھا اور فن کار لوگ ان کی انگریزی دانی کا مضحکہ اڑاتے رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصری صدور کے ادوار حکومت کا بھی ان کی انگریزی میں مہارت سے تعلق ہے۔ ناصر اور سادات کے ادوار حکومت میں انگریزی ہی کا دور دورہ تھا۔سادات انگریزی لٹریچر میں دلچسپی رکھتے تھے اور ناصر انگریزی پریس کی تحریروں کو خاص طور پر پڑھا کرتے تھے۔سفارتی محاذ اور میڈیا انٹرویوز میں بھی یہ دونوں سابق صدور روانی سے انگریزی بولتے تھے۔

حسنی مبارک کے انگریزی بولنے کے لب ولہجے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے نزدیک وہ انگریزی تو بہتر طریقے سے بول سکتے تھے لیکن ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ مغربی میڈیا کے ذرائع کے ساتھ عموماًعربی زبان میں گفتگو کو ترجیح دیا کرتے تھے۔

لیکن برطرف صدر مرسی کی انگریزی خود ان کا مذاق اڑانے کا ذریعہ بن جایا کرتی تھی۔وہ اپنے مختصر دور حکومت میں جب بھی کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد مصر لوٹے تو ان کا مذاق اڑایا گیا۔انھیں انگریزی بولنے پر مہارت نہیں تھی اور وہ اکثر الفاظ کو کچھ کا کچھ بنا دیا کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں