.

داعش نے 'اسلامی ریاست' کا پاسپورٹ جاری کر دیا

موصل سے جاری پاسپورٹ پر'مملکتِ خلافت اسلامیہ' تحریر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے ایک بڑے رقبے پر قبضے کے بعد علاحدہ اسلامی ریاست قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] نے عراقی شہر موصل کو عارضی طور پر پایہ تخت بناتے ہوئے وہاں سے اپنا پاسپورٹ جاری کیا ہے۔

ترک نیوز ویب پورٹل 'ینی شفق' کے مطابق داعش نے گذشتہ روز جمعہ کو موصل شہر سے اپنا پاسپورٹ جاری کیا جسے اپنے زیر نگین شام اور عراق کے مختلف شہروں میں کم سے کم 11 ہزار افراد کو جاری بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش کی ریاست کی جانب سے جاری پاسپورٹ پر"خلافتِ اسلامیہ" کے الفاظ درج ہیں جس کے ایک طرف "داعش " کا پرچم بنایا گیا ہے۔ یہ پاسپورٹ موصل شہر میں شناختی کارڈ وپاسپورٹ آفس میں تیار کیا گیا۔

سنہ 2011ء میں عراقی سیکیورٹی فورسز نے اسی پاسپورٹ آفس پر چھاپہ مار کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ اسی دفتر سے داعش پیش آئند ہفتے قومی شناختی کارڈ بھی جاری کرے گی۔ انہی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ کی روشنی میں شہریوں کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔

درایں اثناء محاذ جنگ میں داعش شام اور عراق دونوں ملکوں میں مزید پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ روز داعش کے جنگجوؤں نے شامی شہر حلب کے مشرق علاقے جرابلس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے بعد حلب کے شمالی مشرق میں واقع بڑے شہر 'عین العرب' کی طرف پیش قدمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ادھر اسلامک فرنٹ کی شرعی کونسل کے چیئرمین الشیخ ابو عبدالملک نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 'داعش' کی موجودہ شان وشوکت اور اس کی فتوحات عارضی ہیں۔ فی الوقت یہ ریاست ہوا میں معلق ہے جو کسی بھی سقوط کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش اپنی فتوحات کی خوشیاں منا رہی ہے جبکہ لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں مشغول ہیں یا جنگ میں مصروف ہیں۔

الشیخ ابو الملک کا کہنا تھا کہ اسلامی خلافت کا قیام بری بات نہیں بلکہ ایک عبادت ہے مگر داعش اور اس کے حامی جو گروپ اسلامی خلافت کے احیاء کی بات کرتے ہیں وہ ایک مذاق ہے۔ یہ کیسی خلافت ہے جس میں کوئی شوریٰ نہیں جبکہ خلاف اسلامیہ کا پہلا قدم شورائی نظام کا قیام ہے۔ جو شخص شورائیت دور ہو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص خود اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کر دے۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز داعش کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے شام کے شہر دیر الزور کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ شہر عراق کی سرحد کے ساتھ 130 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ داعش نے شہر پر قبضے کے بعد اس کے باشندوں سے اپنے امیر ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کرانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔