حرمین شریفین کا محافظ کون، کس نے وہاں خون بہایا؟

العربیہ' نے چشم کشا دستاویزی پروگرام 'مرایا' میں سب کی حقیقت کھول کر رکھ دی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

العربیہ نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام 'مرایا' میں سعودی عرب کے معروف لکھاری اور دانشور مشاری الذایدی نے مکہ کی مسجد الحرام اور مدینہ کی مسجد نبوی کی روحانی اہمیت پر ایمان افروز گفتگو کرتے ہوئے روشنی ڈالی ہے۔

'کون حرمین شریفین کا تحفظ اور کون انہیں گیڈر بھبکیوں' سے ڈرانے کی کوشش میں مصروف ہے، کے عنوان سے جناب مشاری نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ مقامات مقدسہ کا احترام اور دیکھ بھال صرف زبانی کلامی حد تک محدود نہیں بلکہ اس کا اظہار مسلمانوں کے ہاں معنوی قدر و منزلت کی صورت میں دیکھنے میں آتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کے قارئین کی دلچسپی کے لئے متسند دستاویزی پروگرام کے عربی متن کا مکمل ترجمہ ذیل میں دیا جا رہا ہے، جسے بڑھ پر ان مقام مقدسات کو درپیش چیلنجز کا اندازہ بخوبی ہو سکے گا۔

مکہ کی مسجد حرام اور مدینہ کی مسجد نبوی کا اسلام میں نہایت بلند مقام ہے کیونکہ حج اور عمرہ مکہ میں ادا کیا جاتا ہے جبکہ ہجرت، اسلامی ریاست کی بنیاد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ مدینہ منورہ میں ہے۔ اسلام کے آغاز سے لیکر آج تک الحرمین الشریفین کی حفاظت، مرمت اور دیکھ بھال تمام مسلمان ملکوں کی اولین ذمہ داری چلی آ رہی ہے۔ یہ ذمہ داری صرف ظاہری دیکھ بھال تک محدود نہیں بلکہ ان مقدسات کی طرف اٹھنے والی ہر بری آنکھ سے محفوظ رکھنا بھی تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔

ماضی میں بہت سے ملک یہ خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اس کا آغاز ۱۳ہجری کو دوسرے خلیفہ اسلام عمر بن الخطاب کے دور میں ہونے والی توسیع کعبہ سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان نے ۱۶ ہجری میں مسجد حرام کی حدود میں بہت زیادہ توسیع کی خدمت سرانجام دیں۔ اسی طرح اموی خلیفہ ولید بن الملک نے مسجد الحرام میں بہت زیادہ توسیع کروائی اور مسجد کے اندر پلرز تعمیر کروائے۔

توسیع حرمین کا یہ کام مصری مملکوکی حکمرانوں کے دور میں جاری رہا اور ان کے دور میں مدینہ منورہ میں ہونے والی توسیع کو عامہ الناس کے علاوہ چشم فلک نے بھی دیکھا۔ تاہم فرمانروا سلطان عثمان سلیم نے ۔۔۔۔۔ سن ہجری میں پوری مسجد حرام تعمیر کروانے کا حکم جاری کیا۔ اس کام میں انہوں نے بے دریغ پیسہ صرف کیا تاکہ یہ کام نہایت اچھے طریقے سے انجام پا سکے، ان کے بعد اس خدمت کو ان کے بیٹے سلطان مراد نے مکمل کرایا۔ اسے ہم عثمانی محراب کے طور پر جانتے ہیں اور اسے مکہ جانے والا ہر شخص جانتا ہے۔

حرمین شریفین کی تعمیر و توسیع کی شاندارتاریخ اپنی جگہ لیکن مکہ اور مدینہ میں ان دونوں مقدس مقامات کی تعمیر و توسیع کا سب سے بڑا منصوبہ سعودی دور حکومت میں منصہ ظہور پر آیا۔ شاہ عبداللہ العزیز کا دور اس شاندار توسیعی کام کا نکتہ آغاز تھا جو شاہ سعود، شاہ فہد اور مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور سے ہوتا ہوا حالیہ سعودی قیادت کے حصے میں آیا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرنے والا ہر شخص اس تعمیر اور توسیع کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے۔

مقدسات اسلامیہ کی اپنے روحانی مراکز میں پرشکوہ توسیع اور حفاظت کے بعد ان کے دل سے یہی آواز نکلتی ہے کہ یہ کام کرنے والے بالیقین خادم الحرمین الشریفین کے خطاب پانے کے مستحق ہیں۔ رپورٹ میں ماضی کے ان توسیعی منصوبوں کے آرکائیو فوٹیج سے مزین خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی مملکت میں حرم کی سب سے بڑی توسیع کا آغاز شاہ عبدالعزیز کے عہد میں ہوا جس کے تحت انہوں مسجد الحرم میں نئی جگہ کو شامل کیا اور طواف کی جگہ میں ملٹی سٹوری عمارت بنوائی۔ اس نیک کام کو بعد میں ان کی جگہ لینے والے فرمانروا بیٹوں سعود، فہد، فیصل اور خالد نے مکمل کرایا۔

شاہ فہد نے اپنے دور حکومت میں توسیع حرم کا نیا باب رقم کیا۔ انہوں نےحرم کے مغرب میں اصل ڈیزائن سے مشابہہ تعمیراتی اور توسیعی کام کے بڑے منصوبے کا آغاز کیا۔ اسی طرح اردگرد کی تعمیرات کو بھی انہی کے دور میں مکمل کیا گیا جس کے بعد یہاں چھ لاکھ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد توسیع حرم کا بڑا منصوبہ شاہ عبداللہ کے دور میں شروع کیا گیا۔ اس توسیع کے بعد خانہ کعبہ کی مساحت میں چار گنا اضافہ ہو گیا۔ یہ کام یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ آنے والے حکمرانوں نے بھی اس کارخیر میں اپنا حصہ بٹایا ہے جس کے بعد اب مسجد الحرم ماضی کی مساحت سے مزید تین گناہ رقبے پر اسیتادہ ہے۔

ایک طرف تو حرمین شریفین کے لئے اپنا تن من دھن لگا والوں کی روشن تاریخ ہے جبکہ دوسری جانب انہی مقدسات کے امن کو پراگندہ کرنے والوں کے قابل نفرت اقدامات سے بھی تاریخ صفحات بھرے پڑے ہیں۔ انہوں نے اپنے دہشت گردانہ اقدامات سے حاجیوں، نمازیوں اور عبادت میں مصروف افراد کو ڈرایا دھمکایا اور حتی کہ بعض شقی القلب حملہ آوروں نے اپنے اقدامات سے اللہ کے مہمانوں کو خون میں نہلانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ان قبیح اعمال کو دنیا کی آنکھوں سے اوجھل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

حرمین شریفین کے امن کو تاراج کرنے والوں میں پہلا نام قرامیطہ کا ہے۔ بحرین کے قرامیطوں نے سنہ ۳۱۰ہجری میں مکہ المکرمہ پر حج کے موسم میں حملہ کیا اور اللہ کے مہمانوں کی گردنیں اڑائیں۔ اللہ کے گھر کی توہین کرتے ہوئے کعبہ کا اور غلاف 'الکسوہ' اتار لیا۔ حجر اسود کو اس کی جگہ سے نکال لیا اور جاتے ہوئے ساتھ لے گئے۔ اس شہر اورمہینے جس میں قتل و مقاتلہ ممنوع قرار دیا گیا تھا، انہوں نے تاریخی کتب کے مطابق مقدس شہر کے تیس ہزار شہریوں بشمول حاجیوں کو شہید کیا، خواتین کی بے حرمتی کی اور بچوں کو دھمکایا۔ خانہ خدا سے چرائے حجر اسود کو قرامیطیوں نے ۲۲ برس تک اپنے پاس رکھا۔

اس گروہ کی شروعات کے ڈانڈے اپنے بانی حمدان قرمط سے ملتے ہیں۔ وہ خوزستان سے کوفہ میں آباد ہوئے۔ یہ اسماعیلی کہلاتے ہیں۔ ان کا تعلق امام اسماعیل بن جعفر صادو سے ہے اور یہ اہل تشیع کا اہم فرقہ ہے۔ انہوں نے عباسی خلافت کے خلاف تلوار اٹھائی اور نتیجے کے طور الاحساء، بحرین، عمان اور بلاد الشام جیسے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ مصر پر ہاتھ صاف کی قرامطی کوشش بری طرح ناکام ہوئی۔ مقدسات اسلامیہ کو درپیش فتنوں کا دور اس کے بعد بھی ختم نہ ہوا۔ مورخین کے مطابق قرامطی جب اپنے سربراہ کی قیادت میں مکہ پر حملہ آور ہوئے تو وہ کعبہ اللہ کے سامنے بلا دریغ شہریوں کی گردنین اڑا رہا تھا۔ اس کے گھوڑے کے سم انسانی خون میں لت پت تھے اور وہ طاقت کے نشے میں انتہائی مشرکانہ کلمات ادا کر رہا تھا۔

مقدس شہر کی بے حرمتی کا تازہ دور پرانی بات نہیں، یہ شرمناک اقدام سنہ ۱۹۷۸ چند ایرانیوں نے حج کے سیزن میں کیا۔ ڈنڈوں اور خنجروں سے لیس ایرانی حاجیوں نے دنیا بھر سے آنے والے اللہ کے مہمانوں کو خوب ڈرایا دھمکایا۔ پیدل چلنے والوں پر حملے کئے سیکیورٹی اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی جس کے نتیجے میں بیت اللہ الحرام میں بڑی تعداد میں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

اس وقت کے وزیر داخلہ اور سپریم حج کونسل کے سربراہ مرحوم شہزادہ نایف بن عبدالعزیز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے یہ بات نوٹ کی تھی کی ایران کے بعض حاجی اسلام کے پانچویں رکن کی صحیح نہج پر ادائی سے انحراف اور مقدمات مقدسات میں شور و غوغا پیدا کرنے میں مصروف تھے۔ اس واقعے سے ایک برس پہلے قانون نافذ کرنے والے سعودی اداروں نے پتا چلایا کہ ایران سے حاجیوں کے جہاز کے ذریعے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد لانے کی کوشش کی گئی۔

طیارے میں سوار دیگر ایرانی جاحیوں نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ جہاز کے ذریعے دھماکا خیز مواد لانے والے محمد علی دھنوی حرمین شریفین میں ایرانی قیادت کے ایماء پردہشت گردانہ کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت جج کے موقع پر دنیا بھر سے دو ملین حاجی مناسک کے لئے حرمین شریفین میں موجود تھے۔

حرمین شریفین میں دنگا فساد کا مکروہ دھند دور حاضر میں ایرانیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ انتہا پسند سنی گروپ نے بھی حضرت مہدی منتظر ان کی صفوں میں موجود ہیں اور انہوں نے اس دعوی کی آڑ میں کعبہ اللہ ہر ہلہ بول دیا تھا۔ سعودی حکام نے دو ہفتوں کی کوشش کے بعد اس گمراہ گروپ سے کعبہ اللہ کو آزاد کرایا۔ سعودی عرب کی جانب سے حرمین شریفین کا تحفظ صرف زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ اس مقدس فریضے کے جڑیں روشن تاریخ سے جا ملتی ہیں۔ اس کے گواہ مشرق سے لیکر مغرب تک اللہ کے وہ بندے ہیں کہ جو مناسک کی ادائی کے لئے سعودی عرب کا سفر اختیار کرتے ہیں۔

جج کے موسم میں اللہ کی مہمانوں کی خدمت اور تعاون کا فریضہ صرف سعودی عمال نہیں بلکہ خود سعودی قیادت بھی انجام دیتی ہے کہ جو موسم جج میں کعبہ اللہ یا پھر منی میں بیٹھ کر خود سارے عمل کی بنفس نفیس نگرانی کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں