شام: شادی کے 18 دن بعد شوہر نے بیوی قتل کر ڈالی
مذہبی جنونیت یا غیرت کا شاخسانہ
شام میں ان دنوں وحشیانہ سزائیں دینے اور مخالفین کونہایت بے رحمی کے ساتھ ہلاک کرنے میں دولت اسلامی"داعش" نامی دہشت گرد تنظیم بری طرح بدنام ہےمگرشام ہی کے'غیرت مند' شوہر نے شادی کے محض اٹھارہ دن بعد بیوی کو گھرتاخیر سے پہنچنے پرنہایت بے دردی سے قتل کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ'بے رحمی' داعش کے سوا بھی ہوسکتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس دلخراش واقعے کی تفصیلات شام کے ساحلی شہرطرطوس کے مقامی اخبارات میں سامنے آئیں۔ پھر سوشل میڈیا پر اس پرکافی لے دی ہوئی لیکن یہ سمجھنا مشکل تھا کہ آیا یہ سب کچھ 'داعش' کی کارستانی ہے، کسی شخص کا انفرادی فعل ہے یا قاتل "داعش" کے شدت پسندانہ نظریات سے متاثر ہے۔
تفصیلات کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کا یہ واقعہ دو ہفتے قبل شام کے ساحلی شہر طرطوس میں پیش آیا۔ یہ شہرابھی تک شورش سے کسی حد تک محفوظ ہے اور یہاں شامی حکومت کا کنٹرول ہے۔ ایک مقامی شخص جس کی شناخت انجینیر نزار ابراہیم کے نام سے کی گئی ہے نے اپنی بیوی سوسن زین العابدین محمد کو مبینہ طورپرتشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مکان کی چوتھی منزل سے نیچھے دھکا دے دیا اور وہ نیچے جا گری اور دم توڑ گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ اپنے بھائی کے ہمراہ کام پرگئی تھی اور اپنے گھر دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی۔ 'غیرت مند' شوہرکوبیوی کے گھرسے باہر ملازمت پرتو اعتراض نہیں تھا مگر اس کے گھرتاخیر سے پہنچنے پراس کی جان لے لی۔ بیوی جب ڈیوٹٰی سے دو گھنٹے کی تاخیرکے ساتھ گھر پہنچی تو شوہر کو اس پر ایسا شبہ ہوا کہ بیوی کے تمام تمام دلائل وضاحتیں کسی کام نہ آئیں اور اس نے نہایت بے رحمی کے ساتھ اسے قتل کرڈالا۔
قتل کی اس ہولناک واردات کے بارے میں پہلے تو یہ سمجھا گیا کہ لازما یہ داعش ہی کا طریقہ واردات ہوسکتا ہے، لیکن قاتل کا داعش کے مذہبی، عقائدی اور عسکری نظریات سے دور دور تک کا تعلق بھی نہیں ہے۔ انجینیر نزار ابراہیم کی جس ماحول میں پرورش ہوئی ہے وہ داعش سے الگ تھلگ ہے۔
شام کے مقامی سرکاری میڈیا نے بھی اس واقعہ کو کوریج دی ہے اور اسے محض ایک سماجی جرم قرار دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر جاری بحث نے 'غیرت کے نام' پر اس انوکھے قتل کو چار دانگ عالم میں پھیلا دیا ہے۔
تشدد کے بعد چوتھی منزل سے گرادیا
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو غیرت کے نام پروحشیانہ قتل کی واردات کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتولہ کی قاتل شوہر کےساتھ اٹھارہ دن قبل شادی ہوئی تھی۔ ایک روز کام سے واپسی پردو گھنٹے تاخیر سے پہنچنے پرشوہر کوشک گذرا۔ اس نے بیوی کی مارپیٹ شروع کردی۔ لڑکی نے بہتیرا سمجھایا اور تاخیر کی ساری وجہ بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ اس کا ایک بھائی بھی اس کے ہمراہ تھا۔ لیکن شکی مزاج شوہرکو اس کی کسی بات پریقین نہ آیا۔اس نے آٹھ گھنٹے تک اسے مسلسل وحشیانہ ظلم وتشدد کانشانہ بنایا۔اس کا "غیرت سے کھولتا خون اور غصہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور اسے لے جا کر چوتھی منزل سے نیچی گرادیا۔
داعش پرشبہ
دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری بحث میں عوام الناس نے اس واقعے کی جہاں بڑے پیمانے پر مذمت کی ہے وہیں اسے دولت اسلامی "داعش" کی تعلیمات کے اثرات کا نتیجہ قراردیا ہے۔ "ٹیوٹر" پرتبصرہ کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملزم نے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور بیوی کے قتل کا اعتراف بھی کیا ہے مگر عین ممکن ہے کہ یہ داعش کے خطے میں تیزی سے پھیلتے اثرات کا نتیجہ ہو۔ کیونکہ جس وحشیانہ طریقے سے خاتون کا قتل کیا گیا ہے اس طرح کے واقعات صرف داعش ہی کے ہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔
ایک صاحب نے لکھا کہ "اب پورا معاشرہ داعشی ہوچکا ہے۔ کوئی فرق کرنا مشکل ہے کہ داعشی کون ہے اور کون نہیں ہے"۔ داعش پر شبہ کرنے والے ایک دوسرے نے کمنٹ کیاکہ "شام کے ساحلی علاقے بھی اب داعش کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ایک اور کا تبصرہ تھا کہ "اس ہولناک قتل کے پس پردہ مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی واضح دکھائی دیتی ہے اوریہ داعشیوں ہی کا طریقہ واردات ہوسکتا ہے۔ ایک اور نے لکھا کہ "اس طرح کی مثالیں صرف "داعش" کے ہاں ملتی ہیں۔
اگرچہ قاتل کا داعش سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے مگر اس کی مذہبی جنونیت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وحشت اور بربریت صرف داعش ہی کی پہچان نہیں۔ مذہبی جنونیت کا شکار کوئی بھی شخص ایسا انتہائی اقدام اٹھا سکتا ہے۔ قاتل نے خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے مگر ابھی تک اس کے خلاف کسی قسم کی قانونی یا عدالتی کارروائی نہیں کی گئی۔
-
لبنانی سرحد کے قریب اسرائیلی قصبے پر شام سے راکٹ حملہ
اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگ سے تباہ حال شامی علاقے سے داغے جانے ...
مشرق وسطی -
شام : فلسطینی مہاجرین کے کیمپ میں ٹائیفائیڈ بخار کی وبا
اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے لیے ریلیف اور ورکس ایجنسی (اُنروا) نے اطلاع ...
مشرق وسطی -
شام: اپوزیشن نے حزب اللہ جنگجو یرغمال بنا لیے
شام کے دارالحکومت دمشق کے مغرب میں واقع الزبدانی شہر اپوزیشن کی نمائںدہ فوج نے ...
مشرق وسطی