.

اخوان المسلمین کے عرب دنیا پر حکمرانی کے منصوبے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی کالعدم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمین کے نائب مرشد خیرت الشاطر کے حوالے سے بعض اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں تنظیم کے مصری اقتدار تک پہنچنے، خلافت کو یقینی بنانے، عرب اور اسلامی دنیا کا کنٹرول حاصل کرنے اور تنظیم کے بانی حسن البنا کے نظریات پر عمل درآمد سے متعلق منصوبوں پر بات کی گئی ہے۔

انٹرنیٹ پر 'اخوان لیکس' نامی پورٹل کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ تک پہنچنے والی تفصیلات کے مطابق خیرت الشاطر کی یہ گفتگو 2012 میں ہونے والی ایک ملاقات کی ہے، اسی روز الشاطر نے خود کو صدارتی انتخابات کے لیے بطور امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر تنظیم کے متعدد رہ نماؤں کے ساتھ اخوان المسلمین کے حقیقی مقاصد اور منصوبوں کے متعلق پوری آزادی سے بات چیت کی۔

تنظیم کے نائب مرشد کا کہنا تھا کہ تنظیم ملکوں کے درمیان سرحدوں کی پابند نہیں ہے، تمام ممالک اسلامی ریاستیں ہیں جنہیں سرحدوں کے ذریعے علاحدہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے خیال میں سرحدوں کا سلسلہ تو استعمار (سامراج) کا ایجاد کردہ ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ الاخوان تنظیم روئے زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کا مقصد خلافت، اسلامی دنیا کی حکمرانی اور تنظیم کے بانی حسن البنا کی تعلیمات پر عمل درامد ہے جنہوں نے اسلامی خلافت کے قیام کے لیے سنجیدہ کوشش کا مطالبہ کیا۔

الشاطر نے مصر کے اقتدار تک پہنچنے میں درپیش مسائل، مصری اداروں میں سرائیت کے منصوبوں، معاشرے میں "الاخوان" کی رکنیت سازی پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق اس ساری تگ ودو کا مقصد اسلامی اور عرب دنیا کے قلب میں ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے جہاں سے تنظیم، اسلامی خلافت تک پہنچنے اور تمام عرب اور اسلامی دنیا پر کنٹرول کا آغاز کرے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کے بغیر اقامت ِ دین ممکن نہیں، اس لیے سیاسی جماعت کے قیام کا مطلب اقامت ِ دین پر قدرت حاصل ہونا نہیں ہے، کیوں کہ سیاسی جماعت مغربی ماڈل ہے جب کہ تنظیم اسلامی ماڈل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ الاخوان کی امتیازی صفت منظم طریقے پر سختی سے کاربند ہونا ہے جس میں بھائی چارگی، اعتماد اور اطاعت اہم عناصر ہیں۔ مسلمان 1200 سال سے اقتدار کے دائرے سے باہر ہیں، حسن البنا نے اس دوری کے اسباب پر غور کیا اور یہ جانا کہ اس کی ایک اہم وجہ نوجوانوں کا کردار نہ ہونا بھی ہے۔ اسی مقصد سے البنا نے تنظیم کی بنیاد ڈالی اور اپنے نظریات کو وضع کیا۔

الشاطر کے مطابق تنظیم کے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر ایک دیوار کی مانند ہوں، میڈیا، نوجوانوں اور ریاست کے فعال اور اثر انداز اداروں کے ساتھ ان کے گہرے اور متصل تعلقات ہوں تاکہ ان میں سرائیت اور کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی ساتھ معاشرے کے سامنے تنظیم کو مثالی صورت میں پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسن البنا نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول سے اپنے موقف کی سند حاصل کی جس کے مطابق جماعت کے بغیر دین نہیں، اور امام کے بغیر جماعت نہیں، اور اطاعت کے بغیر امام نہیں،،، جماعت کو تیار کرکے ہی خلافت کا ریاستی نظام واپس آ سکتا ہے۔

الشاطر کا کہنا تھا کہ تنظیم کی بنیاد افراد اور قائدین کا وہ مجموعہ ہے جو ادارتی قوانین کے پابند ہیں اور تمام ارکان کو یہ جاننا لازم ہے کہ اطاعت کی پابندی ہی درحقیقت کامیابی کی بنیاد ہے اور بیعت کی پاسداری ہی تنظیم کے استحکام کا ستون ہے۔

خیرت الشاطر نے انتخابات کے دوران تنظیم کے نقشہ ِ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مصری باشندوں کو اسلام پسندوں پر اعتماد ہے اور تنظیم کو چاہیے کہ وہ اس اعتماد سے استفادہ کرے تاکہ عوام کے ووٹ حاصل کر کے اقتدار تک پہنچا جا سکے۔

واضح رہے کہ انکشافات کا حامل یہ گمنام ویب پیج اچانک سے ہی منظر عام پر آ گیا اور سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر اس کا نام 'اخوان لیکس' پڑ گیا۔ اس پیج کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس مصر میں اخوان المسلمین تنظیم کی قیادت کے 15 گھنٹوں پر مشتمل انکشافات موجود ہیں، جن میں انہوں نے مصری ریاست کو تباہ کرنے اور اس کے تمام اداروں کو ختم کر کے ان کی از سر نو تعمیر کے بعد پورا کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق منصوبوں پر بات کی ہے۔

اس ویب پیج کے ناظمین نے العربیہ نیٹ کو بتایا کہ انہوں نے فیس بک پر اپنا پیج 17 دسمبر کو لانچ کیا تھا، جس پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کے نائب مرشد خیرت الشاطر کے چند کلپس ڈالے گئے تھے جن میں وہ مصری ریاست پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے الاخوان کے منصوبوں پر بات کر رہے ہیں۔