سعودی عرب: عدالت میں اب گواہ کے بغیر طلاق لیں!

طلاق کے یومیہ اوسطاً 123 مقدمات کے پیش نظر قانونی عمل اور آسان بنا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے وزیرعدل ولید آل سمعانی نے عائلی مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عورتوں کی طلاق (خلع) کو ان کے خاوند کی شناخت کے لیے درکار دو گواہوں کے بغیر ہی مؤثر قرار دے دیں۔

سعودی عرب میں عدالت کے ذریعے طلاق کے لیے خاوند کی شناخت کی غرض سے دو گواہ پیش کرنا ضروری ہے لیکن اب وزیرعدل نے اس قانونی ضابطے میں ترمیم کرتے ہوئے عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ طلاق دینے والے خاوند کی شناخت کے لیے اس کا صرف قومی شناختی کارڈ دیکھا جائے اور اس کی شناخت کے لیے صرف یہی کافی ہے۔

اس نئے ضابطے کے تحت اب شوہر حضرات صرف شناختی کارڈ کی بنیاد پر اپنی بیویوں کو طلاق دے سکتے ہیں یا پہلے سے دی گئی طلاق (رجعی) کو واپس لے سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد عدالتوں کو سہولت مہیا کرنا اور طلاق کے مؤثر ہونے کے لیے ان کے کام کو سہل بنانا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں طلاق کی شرح دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور گذشتہ سال وزارت انصاف کے فراہم کردہ اعدوشمار کے مطابق 33945 طلاقیں ہوئی تھیں جبکہ شادیاں طلاق سے قریباً تین گنا کم ہوئی تھیں۔سعودی عرب میں سال 2015ء کے دوران 11817 شادیوں کا اندراج کیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں شادی کے پہلے سال ہی ساٹھ فی صد طلاقیں ہوجاتی ہیں اور خاوند یا بیوی طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ادارہ تحقیقات اور پبلک پراسیکیوشن کے مطابق عدالتوں میں روزانہ طلاق کے اوسطاً 123 کیس دائر ہوتے ہیں جس کے پیش نظر عائلی مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء طلاق اور خلع کے کیسوں سے بہت زیادہ ''منافع'' کما رہے ہیں۔

سعودی عرب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق طلاق کی شرح 35 فی صد تک ہوچکی ہے اور یہ دنیا میں طلاق کی اوسط شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا میں اس وقت طلاق کی اوسط شرح 18 سے 22 فی صد کے درمیان ہے۔ان میں 25 فی صد طلاقیں شریعت کا کماحقہ علم نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

سعودی معاشرے میں طلاق کی دیگر وجوہ میں جینیاتی اور جنسی بیماریاں 5 فی صد ،خاوند کا بیشتر وقت سفر میں رہنا اور گھروں سے دوری 5 فی صد ،نان ونفقہ اور بیوی کی ضروریات کو پورا نہ کرنا اور پُرتعیش اندازِ زندگی 20 فی صد ،ٹیکنالوجی کی ترقی اور سوشل نیٹ ورکنگ ایشوز 20 فی صد نمایاں ہیں۔اس کے علاوہ خاوند،بیوی کا آپس میں عدم اعتماد 15 فی صد اور خاوند کی ایک سے زیادہ شادیاں اور بیویوں سے برابری کا سلوک کرنے میں ناکامی کی وجہ سے 10 فی صد طلاقیں ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں