.

"میرے بچے قرآن نہیں پڑھتے، انہیں مار ڈالو"

ماسکو میں ننھی بچی قتل کرنے والی آیا کا نیا بیان سامنے آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی تفتیش کاروں نے چار سالہ معذور بچی کا سر کاٹنے والی ازبک نژاد 38 سالہ آیا گیول چاکرا بوبو کولیوا کے خلاف جمعہ کے روز قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔

گیول چاکرا ایک چار سالہ معذور بچی کی نگرانی پر مامور تھی جسے اس نے ٹوکے کے وار کر کے قتل کیا اور بعد میں اس کا کٹا ہوا سر ہاتھ میں لیکر ماسکو کے میٹرو سیٹیشن کے باہر 'اللہ اکبر' کے نعرے لگاتے ہوئے بم حملے کی دھمکیاں دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

تفتیشی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "فی الوقت جاری تحقیقات ملزمہ کی شخصیت کا تجزیہ کرنے پر توجہ مرکوز ہے تاکہ اس کے جرم کے محرکات کا کھوج لگایا جا سکے۔"

بدھ کے روز ملزمہ نے عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ 'اسے اللہ نے بچی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔"

ملزمہ تین بچوں کی ماں ہے جو اس وقت اس کے آبائی ملک میں اپنے والد کے پاس رہائش پذیر ہیں۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں "خونی آیا" یہ کہتی دیکھتی جا سکتی ہے کہ بچی کے قتل کا مقصد شام میں صدر ولادیمیر کی بمباری کا بدلہ لینا تھا جو گزشتہ برس ستمبر میں شروع کی گئی۔ مسلمانوں کا قتل کیوں ہو رہا ہے، انہیں بھی جینے کا حق حاصل ہے؟

ملزمہ نے مقدمے کی سماعت کرنے والے صحافیوں کو بتایا "کہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے بچے بھی زندہ رہیں۔ آپ انہیں قتل کر سکتے ہیں۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں۔" بقول بوبو کولیوا "وہ [میرے بچے] قرآن کا مطالعہ نہیں کرتے۔"

واضح رہے کہ کسی نابالغ کو روس میں قتل کرنے کی سزا عمر قید ہے، تاہم اس جرم کا ارتکاب کرنے والی خواتین کو زیادہ سے زیادہ 25 برس قید کی سزا دی جاتی ہے۔

کسی مقدمے میں مدعی علیہ کے بارے میں اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ وہ 'مخبوط الحواس' تھا تو ایسی صورت میں اسے کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔