.

ٹیک آف اور لینڈنگ میں کھڑکیوں کے پردے کیوں کھلے رکھتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب بھی دنیا میں طیارے کے حادثے سے متعلق کوئی المیہ رونما ہوتا ہے تو ہوابازی سے متعلق تمام تر اندیشے پھر سے لوٹ آتے ہیں. اور طیاروں کی سلامتی کے حوالے سے ہزاروں سوال اٹھائے جاتے ہیں. یہ جانتے ہوئے بھی کہ طیاروں کے حادثات میں سالانہ اموات کی تعداد سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد سے کم ہوتی ہے۔

ان سوالات کے ضمن میں ہمارے ذہن میں ایک چھوٹا سا سوال یہ بھی آتا ہے کہ طیارے کے اڑان بھرنے کے وقت اور اترتے وقت طیارے کا عملہ ہمیشہ مسافروں سے یہ درخواست کیوں کرتا ہے کہ وہ پلاسٹک کی کھڑکیوں کے پردے (شیڈ) کھول لیں. آخر اس کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

ہوابازی کے متعدد ماہرین اور طیاروں کے کپتان بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس کی وجہ بیرونی مناظر سے لطف اندوز ہونا نہیں جیسا کہ ہم سب خیال کرتے ہیں. بلکہ اس اقدام کا تعلق طیارے کی سلامتی اور سیکورٹی سے ہے۔

اس سلسلے میں ایک کپتان نے انکشاف کیا کہ اس کا سادہ سا مقصد یہ ہے کہ تمام مسافر طیارے کے عملے کے ساتھ چوکنے رہیں اور طیارے کے ڈھانچے میں بیرونی طور پر یا اس کے گرد کسی بھی قسم کی غیرمعمولی اور غیرمانوس صورت حال کو دیکھنے یا نوٹ کرنے کی صورت میں فوری طور پر آگاہ کریں۔

طیاروں کی صنعت سے متعلق ایک ماہر ڈیوڈ رابنسن نے انڈیپنڈنٹ اخبار کو بتایا کہ کسی بھی افسوس ناک حادثے سے قبل دھیمی روشنی سے ہم آہنگ رہنے والے شخص کی بصری صلاحیت اس شخص کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر ہوتی ہے جو تاریکی میں ڈوبی حالت میں حادثے سے دوچار ہوتا ہے.. بالخصوص جب کہ اس کے پاس طیارے سے نکلنے کے لیے صرف 90 سیکنڈ ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ 1953ء سے قبل طیاروں کی کھڑکیاں چوکور (مربع) صورت میں ہوتی تھیں پھر بعد میں بیضوی شکل میں تبدیل ہوگئیں۔ ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ یہ ایک جہاز کے گرنے کی وجہ بنی تھیں. اس لیے کہ یہ کھڑکیاں چار کونوں پر مشمتل ہوتی ہیں. جس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر چار کمزور پوائنٹ ہیں جو طیارے کے ہوا کے شدید دباؤ کا نشانہ بننے کی صورت میں ٹوٹ سکتی ہیں۔