دمشق : بشار حکومت نے رفیق الحریری کا گھر ہتھیا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں بشار حکومت کے حکام اتوار کے روز دمشق میں لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کی رہائش گاہ پر قبضہ کرنے کے اقدامات کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف شام میں سرکاری طور پر اجازت کے ساتھ کام کرنے والے ایک میڈیا ادارے کی ویب سائٹ "hashtagsyria.com" نے کیا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق بشار حکومت کے زیر انتظام عدلیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ "لبنان کے مقتول وزیر اعظم فریق الحریری کے گھر کی ملکیت منتقل کرنے کے حوالے سے قانونی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں"۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقررہ پروگرام کے تحت اقدام پر عمل درامد کی نگرانی کرنے والا جج اتوار کے روز مذکورہ جائیداد (حریری کے گھر) کا دورہ کرے گا اور اسے متعلقہ سرکاری حکام کی موجودگی میں ریاست کی املاک کے حوالے کیا جائے گا"۔

ویب سائٹ کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ حریری کے گھر کی "ملکیت کی منتقلی" ایک عدالتی مقدمے کے تحت عمل میں آ رہی ہے تاہم اس مقدمے کے مدعی کا نام نہیں بتایا گیا۔

رفیق الحریری کی رہائش گاہ شامی دارالحکومت دمشق کے علاقے الروضہ میں واقع ہے۔

ایسے میں جب کہ مذکورہ رہائش گاہ کو قبضے میں لیے جانے کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی خبر جاری نہیں کی گئی.. لبنان کی ایک ویب سائٹ "جنوبیہ" نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ " شامی حکومت نے دمشق میں رفیق الحریری کا گھر ہتھیا لیا ہے"۔ ویب سائٹ کے مطابق اس گھر کی ملکیت کو شامی حکومت کے اداروں کے حق میں منتقل کرنے کے اقدامات کیے جانے کے بعد اب یہ بشار حکومت کی املاک میں آ گئی ہے۔

انٹرنیٹ پر ویب سائٹوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے گھر پر قبضہ کرنے کی خبر پر توجہ دی ہے۔ رفیق الحریری 2005 میں بیروت میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان ویب سائٹوں کی اکثریت نے "ملکیت کی منتقلی" (شامی ویب سائٹ نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں) کے بجائے "قبضہ" یا "ضبطی" کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ایک لبنانی ویب سائٹ " Lebanon Debate" کے مطابق رفیق الحریری کے گھر کی ضبطی کا فیصلہ درحقیقت لبنان میں نامزد وزیراعظم سعد الحریری کو بشار حکومت کا جواب ہے۔

یاد رہے کہ نامزد لبنانی وزیراعظم سعد الحریری جو قبضے میں لیے جانے والے گھر کے مالک رفیق الحریری کے بیٹے ہیں.. انہوں نے بیروت میں بشار حکومت کے سفیر علی عبد الكريم علی سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس خبر کو عرب میڈیا میں خصوصی کوریج دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں