کیلے کے ریشے صحت کے لیے کیسے مفید ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کیلا دنیا بھر میں لوگوں کے مرغوب اور پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس میں پوٹائیشیم سمیت کئی دیگر بے پناہ طبی خواص پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہیں، مگر کیلے کے استعمال میں ہم لاپرواہی برتتے ہیں، وہ یہ کہ کیلے کا چھلکا اتارنے کےبعد اس کےاندرونے حصے کے اطراف میں بنے دھاگہ نما ریشے بھی اتار پھینکتے ہیں، حالانکہ یہ دھاگہ نما ریشے صحت کے لیے بہت مفید سمجھے جاتے ہیں۔

ایک امریکی ماہر خوراک و نباتات ڈاکٹر نیکولاس گیلیٹ کا کہنا ہے کہ کیلے کے اندرونی حصے میں پائے جانے والے ریشوں کو ’فلوم‘ [Phlom] کہا جاتاہے۔ اس طرح کے ریشے بہت سی نباتات اور پھلوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا کام غذائی عناصر کو پھل کے اندر تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نیکولس کا کہنا ہے کہ کیلے میں پائے جانے والے دھاگہ نما ریشے اتار کر پھینکنے کے بجائے انہیں کیلے کےساتھ کھا لینا چاہیے کیونکہ جسم میں پہنچنے کے بعد غذائی عناصر کو پھیلانے میں مدد دیتے ہیں۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق کیلے کے ریشے فائبر جیسی طبی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو ان ریشوں کی اہمیت کیلے کے اصل گودے سے بڑھ جاتی ہے اور ان کا کہنا بہت مفید ہوجاتا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق پھلوں میں پائے جانے والے ریشے کا جین تبدیل کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے باریک بینی سے تحقیق کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں