مصر میں یہ انوکھے ترین اور ظریفانہ فتوے کِس نے دیے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر میں گزشتہ دنوں جامعہ ازہر کے ایک پروفیسر ڈاکٹر صبری عبدالروؤف (تقابلِ فقہ) کی جانب سے فوت ہو جانے والی بیوی سے مباشرت کے جواز کا فتوی سامنے آیا تھا جس نے مصری حلقوں میں وسیع پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مصر میں کسی فتوے کے سبب تنازع پیدا ہو گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی جامعہ ازہر کے علماء اور ملک کے دیگر شیوخ کی جانب سے انوکھے اور دل چسپ نوعیت کے فتوے سامنے آ چکے ہیں جو نہ صرف متنازع بلکہ مضحکہ خیز بھی تھے۔ ان میں کئی فتوؤں کا تعلق اخلاق باختہ نوعیت کے موضوعات سے تھا۔

مصری مبلغ اسامہ القوصی نے اپنے ایک فتوے میں کہا تھا کہ نوجوانوں کے لیے اس بات کا جواز ہے کہ وہ اپنی منگیتروں کو غسل خانے میں نہانے کے دوران تانک جھانک کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں تا کہ اس کے بعد وہ شادی کا فیصلہ کر سکیں۔ مذکورہ سلفی شیخ کے فتوے نے مصر میں بڑا تنازع پیدا کر دیا تھا۔ شیخ کے مطابق مرد جس عورت سے شادی کا خواہش مند ہو اس کو نہانے کے دوران دیکھ سکتا ہے بشرط یہ کہ اس مرد کا واقعتا اس خاتون سے نکاح کا ارادہ ہو اور وہ دیکھنے کے بعد اس کو چھوڑنے کا اراد نہ رکھتا ہو۔

اسی طرح جامعہ ازہر کے اسکالر ڈاکٹر سعد الدین ہلالی کی جانب سے یہ فتوی آ چکا ہے کہ اگر کوئی رقّاصہ اپنے پیشے کے لیے جا رہی ہو اور راستے میں فوت ہو جائے تو وہ شہید ہو گی۔ مذکورہ شخصیت نے یہ فتوی بھی دیا تھا کہ شراب کو اس حد تک نوش فرمایا جا سکتا ہے جب تک انسان پر نشہ سوار نہ ہو۔

سال 2007 میں شعبہِ حدیث کے سربراہ ڈاکٹر عزت عطیہ نے فتوی جاری کیا تھا کہ ملازمت کرنے والی خواتین کام کی جگہ پر اپنے مرد ساتھیوں کی رضاعت کا عمل کر سکتی ہیں تا کہ مرد اور عورت کی حرام خلوت سے بچا جا سکے۔ حدیث کے مذکورہ پروفیسر کے مطابق اگر ایک مرد اور ایک عورت دونوں کو کام کی نوعیت کے سبب بند کمرے کے اندر اپنی ملازمت کے فرائض انجام دینا ہوں تو عورت کو چاہیے کہ وہ مرد کو پانچ مرتبہ اپنا دودھ پلا دے جس کے نتیجے میں ان کی خلوت مباح ہو جائے گی اور اس طرح دونوں کے درمیان شادی کی حرمت بھی قائم نہیں ہو گی۔ اس فتوے بھی ایک نیا تنازع پیدا کر دیا البتہ مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا جنہوں نے اس فتوے کو صحیح قرار دیا۔ البتہ مفتی اعظم کے مطابق خاتون کو اپنی چھاتی کے ذریعے مرد کو دودھ نہیں پلانا چاہیے بلکہ وہ اس کو کسی گلاس میں ڈال کر مرد کو پینے کے لیے دے سکتی ہے۔

سال 2006 میں جامعہ ازہر کی کلیہ شریعہ و قانون کے ڈین ڈاکٹر رشاد حسن خلیل نے فتوی دیا تھا کہ شوہر اور بیوی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ حقِ زوجیت کی ادائیگی کے دوران مکمل طور پر بے لباس ہو جائیں کیوں کہ یہ شرعا حرام ہے اور اس طرح نکاح باطل ہو جاتا ہے۔ بعض دیگر شیوخ نے فتوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس فتوے کا سبب شیطان کا خوف ہے جو ایسے موقع پر شوہر اور بیوی کے ساتھ ہو لیتا ہے۔

ان انوکھے فتوؤں میں ایک نمایاں ترین فتوی الدعوہ السلفیہ کے نائب سربراہ شیخ یاسر برہامی کی جانب سے جاری ہوا جس میں اس امر کو جائز قرار دیا گیا کہ اگر شوہر کو اپنی زندگی کا خطرہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو اُس کی عصمت دری کرنے والے کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔

ایک اور فتوے میں ایک سلفی شیخ مرجان الجوہری نے اہرامِ مصر ، ابو الہول اور آثاریاتی عبادت خانوں کو تباہ کرنے کو جائز قرار دیا تھا کیوں کہ یہ سب دورِ جاہلیت کے بُت اور مجسّمے ہیں۔ شیخ نے مزید کہا تھا کہ بطور مسلمان اس طرح کے مجسّموں کو توڑ ڈالنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ شیخ مرجان نے ایک مصری سیٹلائٹ چینل سے گفتگو کے دوران اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اس نے افغانستان میں القاعدہ تنظیم کے ارکان کے ساتھ موجودگی کے دوران بُدھ مت کا ایک مجسّمہ اپنے ہاتھوں سے توڑا۔

ایک دوسرے مضحکہ خیز فتوے میں مصری مبلغ محمد الزغبی نے کہا تھا کہ اگر کوئی جِن اونٹ یا کسی مویشی کی صورت میں ہو تو اس کا گوشت کھانا جائز ہو گا۔ اس طرح ذبح کر دینے سے مذکورہ صورتوں میں پایا جانے والا جِن بھی ختم ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں