جامعہ الازہر کو بل بورڈز اشتہارات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی اہم شاہراہوں اور مقامات پر قد آدم بل بورڈز آویزاں کردیے جاتے ہیں جن پر کھانے پینے کی مختلف اشیاء کے علاوہ ڈراموں کی تشہیر کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے چلا آرہا ہے لیکن اس مرتبہ ان اشتہارات میں ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور وہ عالم اسلام کی قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر سے متعلق مختلف اشتہارات ہیں۔

ان میں الازہر کے بارے میں مختلف نعرے اور اس کی یک سطری امتیازی خصوصیات درج ہیں اور ان میں اس تاریخی جامعہ کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔ان میں لکھا ہے:''الازہر،اسلام کا ایک بڑا حوالہ''، ''الازہر مسلم دنیا کی ترجمان''،''الازہر تمام زبانوں میں انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے'' اور ''2016: الازہر کا نصاب مرتب کرنے کا سال''

ان بل بورڈز اور اشتہارات کے ذریعے جامعہ الازہر کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟اس حوالے سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔جامعہ کی جانب سے قاہرہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے بعد یہ بل بورڈز نمودار ہوئے ہیں۔اس کانفرنس میں ایک نئی ترقیاتی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا تھا۔

شیخ الجامعہ احمد الطیب نے 4 جون کو اس کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر اس بات پر زوردیا تھا کہ جامعہ الازہر کی طرح اعتدال پسندانہ انداز فکر اختیار کرنے اور اسلام کے بارے میں غلط تصورات کو درست کرکے ہی مذہبی جنونیت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے جامعہ کی جانب سے ایک آن لائن جریدے آبزرور سمیت مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی۔آبزرور کو گذشتہ سال مختلف زبانوں میں شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد پوری دنیا میں رہنے والے مسلم نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنا اور بیرون ممالک میں مقیم مسلم کمیونٹیوں کو ان کے معاشروں میں مطابقت اختیار میں مدد دینا ہے۔

الازہر نے اپنے پروگراموں کی تشہیر کے لیے جس طرح بل بورڈز کا سہارا لیا ہے،اس سے بہت سے لوگ متاثر نہیں ہوئے۔ مصری صحافی محمد ہشام کا کہنا ہے کہ ان بل بورڈز سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے الازہر بھی رمضان المبارک کے دوران ٹی وی کے اشتہارات کا مقابلہ کررہی ہے۔

انھوں نے مصری نیوز ویب سائٹ الیوم الجدید پر لکھا ہے کہ ''الازہر کے بل بورڈز شوخ رنگوں اور چکا چوند روشنیوں کے حامل ہیں اور یہ رمضان کے دوران ٹی وی ڈراموں کے اشتہارات ہی کی طرح دکھتے ہیں''۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ تعجب انگیز امر یہ ہے کہ جامعہ الازہر اپنے ہی شہر قاہرہ میں اشتہار بازی کررہی ہے۔اگر یہ کام لندن اور نیویارک میں کیا جاتا تو یہ زیادہ موثر ہوسکتا تھا۔

خود جامعہ الازہر میں مذہبیات کی پروفیسر آمنہ نصیر نے بھی ان بل بورڈز کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ ان اشتہارات کے ذریعے شاید جامعہ کا پیغام مثبت طریقے سے اجاگر نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے برعکس نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے روزنامہ التحریر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''الازہر ان بل بورڈز کو منظرعام پر لا کر اپنے وقار پر سمجھوتا کررہی ہے۔پوری دنیا جانتی ہے کہ الازہر اعتدال پسندی کی علامت ہے لیکن جس طریقے سے اس کو اجاگر کیا جارہا ہے،یہ بالکل بھی مناسب نہیں ہے''۔

الازہر میں اسلامی قانون کے پروفیسر نے بھی کہا ہے کہ ان بل بورڈز میں جامعہ کو دفاعی انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔لوگوں کو کسی مصنوعی پروپیگنڈے کی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی اقدامات درکار ہیں۔

اسلامی فقہ کی پروفیسر سواد صالح نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹی وی ڈرامے بل بورڈز کے ذریعے اپنی تشہیر کرسکتے ہیں تو پھر الازہر کی جانب سے انہی آلات کا استعمال کیونکر غلط ہوگیا اور اس کو بل بورڈز کو استعمال کرنے پر کیونکر مطعون کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں