طوفان کے بعد "کشتیِ نوح" کا مقام یہ تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکی کے مشرق میں واقع کوہِ ارارات کو ملک کا سب سے اونچا پہاڑ ہونے کے علاوہ ان یونی ورسٹی سائنس دانوں اور اساتذہ کی بھی بھرپور توجہ حاصل ہے جو اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اور ان کے زمانے کے مشہور طوفان کے حوالے سے تحقیق کی خواہش رکھتے ہیں۔

ترکی کے صوبے آغری میں 18 سے 20 اکتوبر تک کوہِ ارارات کے حوالے سے چوتھا بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا جس میں متعدد سائنس دانوں اور یورنی ورسٹی اساتذ نے شرکت کی۔

سیمینار میں شریک ایک امریکی سائنس داں پروفیسر راؤل اسپرنٹ کے مطابق اس وقت اُن قدرتی آفات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے جو کوہ ارارات اور اس کے اطراف واقع ہوئی تھیں ، اس مطالعے کا مقصد کشتیِ نوح پر تحقیق کرنا ہے۔

ترکی کی نیوز ایجنسی اناضول سے گفتگو کرتے ہوئے اسپرنٹ نے بتایا کہ وہ مذکورہ پہاڑ اور اس کے اطراف کے علاقوں پر تحقیق کرنے کے واسطے امریکی ریاست کیلیفورنیا سے آئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طوفان نوح ان ہی علاقوں میں آیا تھا۔ اسپرنٹ کے مطابق وہ تحقیق کے نتائج مقالات کی شکل میں متعدد بین الاقوامی سائنسی جریدوں میں شائع کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ادھر استنبول یونی ورسٹی میں کلیہ آداب کی تدریسی کمیٹی کے رکن پروفیسر اوقتائے بللی کے مطابق اناضول کے مشرق میں واقع علاقے میں 47 برس سے سروے اور آثاریاتی کھدائی کا سلسلہ جاری ہے تا کہ وہاں پوشیدہ رازوں کا انکشاف کیا جا سکے۔

پروفیسر اوقتائے کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں 33 بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں تاہم حال ہی میں کوہ ارارات اور کشتی نوح کے حوالے سے منعقد سیمینار کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے باور کرایا کہ "کشتیِ نوح" کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقی واقعہ ہے اور تمام مقدس کتابیں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ کوہ ارارات اناضول کے شمال میں واقع ہے۔ یہ ایران کی سرحد سے 16 کلومیٹر اور آرمینیا کی سرحد سے 32 کلومیٹر دُوری پر ہے۔ مذکورہ پہاڑ کی چوٹی ترکی کی بلند ترین چوٹی شمار کی جاتی ہے جس کی بلندی 5137 میٹر ہے۔

تینوں آسمانی مذاہب (یہودیت ، مسیحیت اور اسلام) کے مطابق کشتی نوح کو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے گھر والوں ، جانوروں اور تمام جان داروں کو اس عظیم طوفان سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size