سعودی عرب کے عائلی قانون میں اہم ترمیم، خواتین کے حقوق کو مزید تحفظ دیا گیا
سعودی عرب نے خواتین کے حقوق کو مزید تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے شادی سے متعلق اپنے عائلی قانون میں اہم تبدیلی کی ہے جس کے بموجب اب شوہر اپنی بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف اپنے گھر آبادکاری پر مجبور نہیں کر سکے گا کیونکہ شادی قانون کے تحت گھریلو اطاعت گذاری کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔
شادی قانون میں ترمیم کے بعد بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف شوہر اپنے گھر لانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ متعلقہ شق کی منسوخی دراصل خواتین کے وقار کا ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ نیر اس ترمیم کے ذریعے شادی جیسے مقدس رشتے کو باہمی رضا ورغبت کی بنا پر استوار کیا جا رہا ہے۔
کثیر الاشاعت عرب روزنامہ "عکاظ" کا کہنا ترمیم کے بعد عورت کے پاس دو اختیارات ہوں گے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اولا، وہ شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ خلع حاصل کرنے کے لئے اپنا حق مہر لوٹا کر خود کو شادی کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے۔
-
سعودی عرب: 7 صوبوں میں خواتین کے لیے عسکری ملازمتوں کا اعلان
سعودی عرب میں جنرل ڈائریکٹریٹ آف پبلک سکیورٹی نے 7 صوبوں میں خواتین کے لیے سپاہی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب : گذشتہ سال ایک کروڑ 20 لاکھ غیرملکیوں کو ویزوں کا اجراء
گذشتہ سال کے دوران میں سعودی عرب میں ایک کروڑ بیس لاکھ غیر ملکی تارکینِ وطن ...
بين الاقوامى -
دیکھئے: شاہ سلمان سعودی رقص عرضہ میں کیسے شریک ہوئے!
سعودی قومی ثقافت کے ترجمان جنادریہ میلے 32 کے دوران سعود ی عرب میں رائج تلواروں کے ...
مشرق وسطی