سعودی عرب کے عائلی قانون میں اہم ترمیم، خواتین کے حقوق کو مزید تحفظ دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سعودی عرب نے خواتین کے حقوق کو مزید تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے شادی سے متعلق اپنے عائلی قانون میں اہم تبدیلی کی ہے جس کے بموجب اب شوہر اپنی بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف اپنے گھر آبادکاری پر مجبور نہیں کر سکے گا کیونکہ شادی قانون کے تحت گھریلو اطاعت گذاری کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔

شادی قانون میں ترمیم کے بعد بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف شوہر اپنے گھر لانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ متعلقہ شق کی منسوخی دراصل خواتین کے وقار کا ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ نیر اس ترمیم کے ذریعے شادی جیسے مقدس رشتے کو باہمی رضا ورغبت کی بنا پر استوار کیا جا رہا ہے۔

کثیر الاشاعت عرب روزنامہ "عکاظ" کا کہنا ترمیم کے بعد عورت کے پاس دو اختیارات ہوں گے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اولا، وہ شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ خلع حاصل کرنے کے لئے اپنا حق مہر لوٹا کر خود کو شادی کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size