.

رمضان کے فانوس کا رواج مصر میں فاطمی دور سے ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک میں رمضان مبارک کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں پر رمضان کی خصوصی تزئین و آرائش نظر آنے لگتی ہے۔ اس دوران میں گھروں اور عمارتوں میں خصوصی روایتی "فانوس" اپنی جگہ لے لیتے ہیں۔ بالخصوص مصری معاشرے میں ہر سال رمضان کی آمد پر فانوس کی یہ روایت بھرپور انداز سے ظاہر ہوتی ہے۔

مصری وہ پہلے لوگ شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے فاطمی دور سے رمضان کے فانوس کا استعمال شروع کیا۔ اس فانوس کی تاریخ اور اس کے استعمال کے آغاز کے حوالے سے مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں۔ رمضانی فانوس کے استعمال کو 358 ہجری میں فاطمی حکمراں المعز لدین اللہ کے قاہرہ میں داخل ہونے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مصری مرد، خواتین اور بچے ایک بڑی سواری میں سلطان المعز کا خیر مقدم کرنے کے لیے روانہ ہوئے جو رات کے وقت شہر پہنچا تھا۔ ان تمام افراد نے مشعلیں اور رنگ برنگے فانوس تھامے ہوئے تھے تا کہ سلطان کے لیے راستہ روشن ہو جائے۔ اس موقع رمضان کے اختتام تک سڑکوں پر فانوس روشن رہے۔ اس طرح یہ رمضان کے مہینے کے ساتھ مربوط مصری معاشرے کی ایک روایت بن گئی۔ بعد ازاں یہ رواج عرب دنیا میں پھیل گیا۔

ایک دوسری روایت کے مطابق بھی مصر میں ان فانوسوں کا استعمال فاطمی دور کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہاں لوگ رمضان مبارک کی تیاری کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کا اہتمام کرتے تھے۔ اس موقع پر دکانوں اور مساجد کو فانوسوں سے سجایا جاتا تھا تا کہ سڑکیں روشن رہیں۔ بچے رات میں کھیل کے طور پر ان فانوسوں کے گرد چکر لگاتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ فانوس مصری معاشرے میں ماہ رمضان کے ساتھ مربوط ہو گیا۔ یہ ایک عوامی ورثہ بن گیا اور پھر کئی عرب ممالک میں منتقل ہو گیا۔

رمضان میں مصر میں "حلو يا حلو" اور "وحوي يا وحوي" جیسی عبارتیں مشہور ہو گئیں۔ رمضان سے متعلق بہت سے گیتوں میں میں ان الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ مصر میں چھوٹے بچے سڑکوں اور محلوں میں ان عبارتوں کے ساتھ رمضان مبارک کا استقبال کرتے ہیں

عین شمس یونیورسٹی (مصر) میں کلیہ ادب میں تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر طارق منصور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "حلو" کا لفظ قبطی زبان کے لفظ "حلول" سے ہے۔ اس کا معنی "تہنیت اور مبارک" ہے۔ اسی طرح "وحوي يا وحوي" کو دراصل ہیروغلیفی عبارت شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا معنی ہے "چاند ٹھہر جا" یا "چاند اٹھ جا" ... ان عبارتوں کا استقبال رمضان کے استقبال کے واسطے ہوتا ہے۔