یوم قلب ۔۔۔ چلنے سے سانس پھولنے اور چڑھائی چڑھتے ہوئے دقت محسوس ہونا خطرناک قرار
امارات میں پچاس سال سے کم عمر کے لوگوں کے دل بھی خطرے کی زد میں
صحت عامہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امراض قلب میں مبتلا ہونےوالے مریضوں کی پچاس فیصد تعداد پچاس سال سے کم سامنے آرہی ہے۔ ماہرین نے اس کی وجوہات میں جدید طرز زندگی کے معمولات میں بیٹھے رہنا اور مغربی طرز کے کھانوں کو اپنی عادات میں شامل کرنا بن رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عارضہ دل نئ نسل کی بیماری بنتا جارہا ہے۔ 29 ستمبر کو عالمی سطح پر یوم قلب کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ دل کے امراض سے بچنے کے لیے آگاہی عام کی جا سکے۔ یہ دن ورلد ہارٹ فاونڈیشن اس سلسلے میں متحرک ہے۔
ورلڈ ہارٹ فاونڈیشن کے کے پلیٹ فارم سے وزن کو بڑھنے سے روکنا ، بڑھا ہوا وزن کم کرنا اہم قرار دیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں وزن کم کرنے سے متعلاق کمپنی الیورین نے ایک سروے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ سروے آٹھ مختلف ملکوں میں کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی آبادی کا بڑا حصہ معمولی سے لے کر انتہائی طور پر عارضہ قلب کا شکار ہے۔ اماراتی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ لوگ جو موٹاپے کا شکار ہیں دل کے امراض کا بھی شکار ہو چکے ہیں۔ امارات میں اموات کی شرح میں چالیس فیصد اسی عارضہ قلب کا دخل ہے۔
سروے کے ذریعے سامنے آنے والے اعدادو شمار کے مطابق نوجوان بھی بڑی تعداد میں امراض قلب کا شکار ہو رہے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر دل کے مریضوں میں سے نصف تعداد پچاس سال سے کم عمر کی ہے۔
اس بارے میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر راجن نے کہا ' امراض قلب میں زیادہ تر نوجوان لوگ مبتلا ہو رہے ہیں۔ وجہ ملک میں موتاپے کا عام ہوتے چلا جانا ہے۔ کیونکہ موٹاپا بجائے خود عارضہ قلب کا ایک بڑا سبب ہے۔
سرخ جھنڈی ۔۔۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی فرد کو سینے کے مرکزی حصے میں دباو محسوس ہو، سانس لینے میں دقت کا احساس ہو، پیدا چلتے ہوئے یا چڑھائی چڑھتے ہوئے تھکن ہونے لگے تو اسے خطرے کی سرخ جھنڈی سمجھنا چاہیے۔ یہ دل کے مرض کی نشاندہی ہے۔ جو دل کو خون پہنچنے میں رکاوٹ کا اظہار ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق متحدہ عرب امامرت کے لوگ ورزش کو اپنا معمول بنا کر امراض قلب سے بچ سکتے ہیں۔ ان کے لیے پیدل چلنے کے علاوہ تیراکی بھی مفید ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سگریٹ نوشی کو چھوڑنا بھی مفید ثابت ہو گا۔