سعودی عرب میں سرکاری سطح پر قدیم مساجد اور تاریخی مقامات کی بحالی کے پروگرام کے تحت جدہ کی پرانی مسجد الخضر کی بحالی اور مرمت کا کام جاری ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی رپورٹ کے مطابق مسجد الخضر 700 سال پرانی ایک تاریخی مسجد ہے۔ یہ مسجد جدہ گورنری کی البلد کالونی کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے جو قدیم فن تعمیر کا شاہکار ہے۔
مسجد الخضر کی بحالی کا پروگرام شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے مملکت میں مساجد کی بحالی کا حصہ ہے۔ جدید انداز میں مرمت کے ساتھ ساتھ مسجد کی پرانی ہئیت بھی برقرار رکھی گئی ہے تاکہ اس کے تاریخی فن تعمیر کو بھی زندہ رکھا جا سکے۔ مسجد کی بحالی کے عمل کے دوران اسے سابقہ حالت میں برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے تراشے گئے، اینٹوں، جپسم اور لکڑی کے کام کو محفوظ رکھا گیا ہے۔
تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ الخضر مسجد کی تجدید کا ذریعہ بنا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد رقبہ مسجد کا 355.09 مربع میٹر ہو جائے گا، جس میں 355 نمازیوں کی گنجائش ہو گی۔
یہ عمارت ساحل پر ارد گرد کے قدرتی حالات کا مقابلہ کرنے والے مغربی خطے کے تعمیراتی انداز کی خصوصیت رکھتی ہے، جب کہ اس میں موجود تاریخی مساجد تعمیراتی شاہکار ہیں جو ایک وسیع عمارتی ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں۔
الخضر مسجد شہزادہ محمد بن سلمان کے دوسرے مرحلے میں تاریخی مساجد کو تیار کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے، جس میں مملکت کے تمام 13 خطوں میں 30 مساجد، ریاض کے علاقے میں 6 مساجد، مکہ مکرمہ کے علاقے میں 5 مساجد شامل ہیں۔
مدینہ کے علاقے میں 4 مساجد، عسیر کے علاقے میں 3 مساجد، مشرقی علاقے میں دو مساجد، الجوف اور جازان میں ایک اور شمالی سرحدی علاقے، تبوک، الباحہ میں ایک میں ایک مسجد کی بحالی شامل ہے