ایسا لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ان شعبوں میں بھی دراندازی شروع کر دی ہے جن کے بارے میں برسوں سے سوچا جاتا تھا کہ وہاں داخلہ ممنوع ہے۔ مصنوعی ذہانت اب ایران اور دیگر بعض ملکوں میں فتویٰ کے میدان میں داخل ہونا بھی شروع ہوگئی ہے۔
ایران کے مشہور شہر قم کو ائمہ اور شیعہ علماء کی تعلیم اور تیاری کے مرکز کے طور جانا جاتا ہے اور اب ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس شہر کے دروازے پر بھی دستک دینا شروع کر دی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں عالمی دلچسپی کی لہر علما اور مبلغین تک بھی پہنچ گئی۔ دینی رہنماؤں نے یہ دریافت کرنا شروع کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ان کے شعبے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔ طویل مذہبی تحریروں کا تجزیہ کرنے سے لے کر حکم نامے جاری کرنے اور کچھ قانونی فیصلوں تک مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور شروع کردیا گیا ہے۔
علما کو تیار کرنے والی ایک سرکاری تنظیم کے سربراہ محمد قطبی نے اس تناظر میں تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روبوٹ سینئر علما کی جگہ نہیں لے سکتے لیکن وہ ایک قابل اعتماد معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس طرح یہ علما 50 دن کے بجائے پانچ گھنٹے میں فتویٰ جاری کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میدان میں قُم اور ملک کے دیگر مقامات پر درجنوں منصوبے چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی علما کو کچھ عوامی خدشات کو دور کرنے اور تیزی سے پیچیدہ معاشرے میں فیصلے کرنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اساتذہ کو زیادہ سماجی اثر ڈالنے کی اجازت دے گی۔
یاد رہے کہ 2020 میں قُم شہر میں پہلی مصنوعی ذہانت کانفرنس کے انعقاد کے بعد سے ایرانی مذہبی اسٹیبلشمنٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔